عدم اعتماد۔۔۔بس پاکستان کی

2022 ,مارچ 16



روس کی طرف سے تیسری عالمی جنگ کی شروعات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ امریکہ اس جنگ میں شریک ہونے سے سرِ دست پہلو بچا رہا ہے۔ مگر جب چاہے گا پرل ہاربریا نائن الیون کی تاریخ دہراکر جنگ میں کود سکتا ہے۔وہاں تیسری عالمی جنگ ہوتی ہے یا نہیں، ہمارے ہاں جاری سیاسی جنگ کسی جنگ عظیم سے کم نہیں ہے۔ دو روز قبل ایک دن میں تین بڑے ایونٹ ہوئے۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ اسی روز بلاول بھٹو زرداری کا کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اسلام آباد ڈی چوک پہنچا۔ بلاول کے ساتھ اس مارچ کے اختتامی سیشن سے آصف زرداری اور مسلم لیگ ن کے دانشور احسن اقبال نے بھی خطاب کیا۔عجب سیاست ہے کبھی لیگی اور پی پی والے دشمنی میں ایک دوسرے کے گلے پڑتے ہیں کبھی پیارو محبت میں گلے ملتے ہیں۔زرداری صاحب کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جگہ کسی شریف آدمی کو لائیں گے۔ کہاں سے لائیں گے؟۔ زرداری صاحب ہی نے کہا تھا کہ عمران خان کی جگہ شہباز شریف وزیر اعظم بنیں گے۔ اب کیا وہ شریف آدمی نہیں رہے؟ میلسی میں عمران خان نے جلسہ سے خطاب کیا تو لگ رہا تھاوہ اس جلسے کے سٹیج سے بطور وزیر اعظم نہیں کنٹینر پر کھڑے دشمن کو للکار رہے ہیں۔ عدم اعتماد کے لیے حکومت کی طرف سے بچاؤ اور اپوزیشن کی جانب سے دباؤ کے بلند بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں۔ادھر حکومت کے اتحادیوں کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا۔ق لیگ اور ایم کیو ایم دو کشتیوں سے نہیں اُتر رہے۔بلوچستان عوامی پارٹی بھی حکومتی اکابرین سے ملنے کیلئے زیادہ اشتیاق نہیں رکھتی۔عمران خان گو جذباتی تقریریں کرتے ہوئے پُر یقین نظر آنا چاہتے ہیں مگر حکومتی پارٹی کی ہوا اُکھڑی ہوئی ہے۔اپوزیشن بھی لڑکھڑا رہی ہے۔آج کی تایخ تک ترازو برابر ہے۔اُدھر جہانگیرترین اور علیم خان ایک پیج پر آگئے اور ان کی طرف سے اپنا لُچ تل دیا گیا ہے۔ علیم خان کے بارے میں ایک قیاس یہ بھی ہے کہ وہ چودھری پرویز الہٰی کا راستہ روکنے کے لیے ایکشن میں لائے گئے ہیں۔ کھچڑی ایسی پک گئی ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف بزدار کو ہٹا کر اپنا وزیر اعلیٰ لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ صرف مسلم لیگ ن کے کندھے پر سوار ہو کر ہی بن سکتے ہیں۔ 89ء میں بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تھی۔ ان دنوں ایم کیو ایم کے 18ارکان تھے اور وہ ایک اشارہ ابرو پربے نظیر بھٹو کے خلاف ہو گئے تھے۔جنرل اسلم بیگ کی سربراہی میں فوج اور طاقتور صدر اسحق خان پی پی حکومت کے خلاف تھے۔ اس کے باوجود تحریک ناکام ہو گئی تھی۔ رحمت شاہ آفریدی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فاٹا کے تمام ایم این ایز بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے کر دیئے تھے۔نواز شریف کی حکومت آئی تو رحمت شاہ آفریدی کو منشیات کیس میں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔آج فوج اُس طرح سے حکومت کے خلاف نہیں ہے۔اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے۔ فوج غیر جانبدار رہ ہی نہیں سکتی۔ عمران خان روس یوکرائن تنازع میں روس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ کہا جا ریا ہے کہ امریکہ کو اس کی رنجش ہے۔ کسی سے رنجش کی صورت میں امریکہ کی 'نظر التفات' کینہئ جمل جیسی ہوتی ہے۔کہا جارہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عمران خان کے خلاف سرمایہ کاری ہو رہی ہے،ڈالر برس رہے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو تحریک کے ناکام ہونے کاپھر کوئی چانس نہیں رہتا۔مگر امریکہ ایسے کاموں کے لیے اس طرح کھل کر نہیں کھیلتا۔ تحریک کوناکام بنانے کے لیے عمران خان کی طرف سے غصیلے لہجے میں دعوے کئے جا رہے ہیں۔ اگر ان کے نمبر پورے ہیں تو تین ہفتے انتظارکی ضرورت نہیں۔ چار دن میں تحریک پر وہ ووٹنگ کرا دیں۔ اپوزیشن کے پاس 162لوگ ہیں۔ ان میں سے کچھ حکومت بھی توڑے گی اور حکومت کے ٹوٹے ہوئے لوگ اپوزیشن کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ مگر یہ ذرا مشکل ہے۔ حکومتی لوگ نا اہلی کی زد میں آئیں گے جبکہ اپوزیشن کے غیر حاضر رہنے والے ارکان کے پاس اسمبلی نہ جانے کے کئی بہانے ہوں گے۔ سپیکر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ایاز صادق کی طرح اسدقیصر بھی اپنی پارٹی کی سائڈ مارتے ہیں۔سپیکر بہت کچھ کرسکتا ہے۔ تین مارچ2021ء کو چیئرمین سینٹ کے الیکشن کے موقع پر پریذائیڈنگ افسر مظفر علی شاہ نے سات ووٹ مسترد کر دیئے تھے جس سے یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں صادق سنجرانی جیت گئے تھے۔ اگر مظفر شاہ کے علاوہ کوئی اور پریذائڈنگ افسر ہوتا تو یہ سات ووٹ گیلانی صاحب کے حق میں تھے۔ ووٹنگ کے روز اول تو تحریک انصاف کے ارکان کو اجلاس سے دور رہنے کو کہا گیا ہے۔ اگر اپوزیشن ناراض یا باضمیر حکومتی ارکان کو گھیر گھار کر اسمبلی میں لے بھی جاتی ہے تو سپیکر ان کوووٹ کاسٹ کرنے سے روک سکتے ہیں۔ایسے ہی خدشات پر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سپیکر کوئی غیر آئین اقدام کریں گے عدالتیں موجود ہیں۔عدالتیں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی طرح فیصلے نہیں کرتیں۔اپوزشین نے جو ٹیمپو بنا لیاہے وہ برقرار نہیں رہ پائے گا۔اپوزیشن کا حکومتی اتحادیوں پربھی بڑا دارو مدار ہوگا۔ ایسی صورت میں بھی سپیکر کو مشورے دینے والے قانونی حلقے اور شخصیات موجود ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان تحریک کو کامیاب ہوتا دیکھ اب چونکہ اسمبلی توڑنے کا استحقاق اوراختیار کھو چکے ہیں وہ پٹرول کی قیمت نصف اور ڈالر کو سو سوا سو روپے تک لا سکتے ہیں۔ ن لیگ 2018ء اور پی پی 2013 ء کے الیکشن سے قبل اپنی شکست کو یقینی دیکھ کر معیشت کی جڑوں میں بارود بھر گئی تھی۔عمران خان کے حوالے سے یہ خیالِ خام ہے۔ہم نے تیسرے ایونٹ کی بات کی تھی۔تیسرا ایونٹ پی پی کے جیالوں کا فیصل مسجد کے پہلو میں جنرل ضیا الحق کے مزار پر بے خود ہوکرجذباتی نعرے بازی ہے۔ آپ یہ نعرے سنیں تو ہنسی نہیں روک پائیں گے۔سیاست کتنی ظالم ہے یا مظلوم ہے۔ضیاء الحق کے اسی مزارپر میاں نواز شریف شروع میں کئی برسیوں پر ان کے مشن کی تکمیل کا عہد کرتے رہے۔سات مئی کوپی پی کے جیالے رزاق جھرنا کی برسی مناتے ہیں۔گزشتہ برسی میں بلاول نے بھی شرکت کی اور جھرنا کو اثاثہ قراردیا اسکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔رزاق جھرنا کو چودھری ظہور الٰہی کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی ہوئی تھی۔قارئین! حرف آکر یہ ہے عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ہم میں سے ہر کوئی کسی ایک کی طر فداری کررہا ہے ہر دو صورتوں میں قیامت نہیں آئے گی۔بس خیر ہو تو پاکستان کی خیر ہو

متعلقہ خبریں