امریکہ ایک بچی کی دو بار پیدائش

2016 ,اکتوبر 25



واشنگٹن (شفق ڈیسک) امریکی ڈاکٹر زنے ایک ہی بچی کی دو بار پیدائش کو یقینی بنانیکا انوکھا اور حیران کن تجربہ کیا ہے، میڈیا رپورٹس کیمطابق حاملہ امریکی خاتون مارگریٹ پویمر نے حمل کے 16 ویں ہفتے اپنا طبی معائنہ کرانے کیساتھ ساتھ پیٹ میں موجود بچے کا الٹرا ساؤنڈ کرایا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے پیٹ میں موجود بچی ٹیومر کا شکار ہے۔ بچی کی جان تبھی بچ سکتی ہے کہ اگر اسے اس پھوڑے سے نجات دلائی جائے اور ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بچی ماں کے بطن سے باہر نہیں آ جاتی۔ مقامی اخبارات کیمطابق مارگریٹ پویمر نے بتایا کہ بیشتر معالجین نے اسے اسقاط حمل کا مشورہ دیا مگر ریاست ٹکساس کے چلڈرن ڈاکٹر ڈاریل کاس نے تجویز دی کہ سرجری کے ذریعے بچی کو باہر نکال کر اس کے جسم میں موجود ٹیومر کی سرجری کی جائے۔ اگلے مرحلے میں سات سال کی عمر سے پہلے اس کی ایک سرجری مزید بھی کی جائے گی۔ پویمر نے بتایا کہ اس نے اسقاط حمل کے بجائے سرجری کے ذریعے بچی کے علاج کا فیصلہ کیا۔ اگر وہ بروقت فیصلہ نہ کرپاتے تو بچی ایک یا دو دن میں فوت ہو جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ حمل کے 23 ویں ہفتے آپریشن کے ذریعے بچی ماں کے پیٹ سے نکالی گئی اور اس کے جسم میں موجود ورم نکال دیا گیا۔ اسکے بعد بچی کو دوبارہ ماں کے پیٹ میں رکھ دیا گیا اور 36 ہفتوں کے بعد دوبارہ قدرتی طریقے سے پیدا ہوئی۔ حال ہی میں جنم لینے والی اس منفرد بچی کو فی الحال ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہسپتال میں رکھا گیا ہے تاہم وہ صحت مند اور مکمل طور پر تندرست ہے۔ پیدائش کے ایک ہفتے بعد اسکی ایک معمولی سرجری دوبارہ کی گئی ہے اسکے جسم میں موجود ٹیومر کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ نو مولودہ کا نام لینلی رکھا گیا ہے۔ اسکے والدین کو حال ہی میں جمعہ کے روز بیٹی کا وزن کراتے دیکھا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں