انجلینا جولی کا فحاشی سے شرافت اور سخاوت کا سفر،چار بار پاکستان آئی

2017 ,جنوری 6



لاہور(مہرماہ رپورٹ) ہالی ووڈ کی شہرہ آفاق حسینہ انجلینا جولی نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز فحش فلموں سے کیا تاہم بعد میں وہ ایکشن فلموں میں دکھائی دیں اور اس میدان میں بڑا نام پیدا کیا۔اس کے حالات  کا جائزہ لیں تو وہ اخلاقیات کا ایک جنازہ دکھائی دیتا ہے۔اس کے ہاں شادی کے بغیر ہی چھ بچے پیداہوئے ہیں اوردوسال قبل میں شادی کے بعد انہوں نے اچھی بیوی بننے کا اعلان کیا ۔

41سالہ انجلینا نے تقریباً 10 سال پہلے اداکارہ بریڈپٹ کے ساتھ زندگی کا آغاز کیا اور اس عرصہ میں وہ چھ بچوں کے والدین بنے لیکن انہوں نے باقاعدہ طور پر شادی نہ کی تھی۔اس کے بعد سے انک فلاحی اور رفاعی کاموں پر توجہ ہے۔ سیلاب کے دوران وہ پاکستان کا بھی دورہ کرچکی ہیں۔سٹار اداکارہ اقوام متحدہ کے ادارے کی خیر سگالی کی سفیر بھی ہیں،

انکا پاکستان کا دورہ اسی حیثیت میں تھا۔معروف ایکشن ہیروئن انجلینا جولی کے دورہ پاکستان کا مقصد عالمی برادری کی توجہ، پاکستانی سیلاب زدگان کی طرف مبذول کرانا تھا۔ انجلینا جولی نے، پاکستان کا دورہ ایسے وقت میں کیا جب اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ پاکستانی سیلاب زدگان کی مدد کے لئے عالمی برادری کی طرف سے دی جانے والی امدادی رقوم میں کمی واقع ہو رہی ہے۔انجلینا جولی خود بھی ایک لاکھ ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کی تھی۔

انجلینا جولی اس سے قبل پاکستان سمیت دنیا بھر میں مصیبت زدہ افراد کیلئے چندہ اکھٹا کرنے اور امداد دینے کی مہم چلاچکی ہیں۔انہوں نے چار مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔آخری دورے کے دوران وزیراعظم گیلانی نے ان کو فیملی ڈنر کرایا اور وہ اپنے اعزاز میں پرتکلف دعوت پر ناراض بھی ہوئی تھیں۔

گزشتہ دنوں عالمی شہرت یافتہ امریکی اداکارا انجیلینا جولی اور ان کے سابق شوہر براڈ پٹ کے ایک سابق محافظ نے سپر اسٹار سابق جوڑے کی نجی زندگی کے کئی اسرار رموز سے پردہ اٹھایا ہے۔برطانوی اخبار ”سن“ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جولی اور پٹ کے سابق ذاتی محافظ نے کہا کہ انہوں نے 27 سال تک برطانوی فوج میں خدمات انجام دیں۔

مگر جن کٹھن حالات کا سامنا انہیں انجلینا جولی، ان کے شوہر اورچھ بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے کرنا پڑا وہ برطانوی فوج میں بھی نہیں ہوا۔سپراسٹار سابق جوڑے کے ذاتی محافظ ”مارک بیلنگھم“ کو مارک بیلی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ وہ براڈ پٹ اور انجلینا جولی کے ساتھ 18 ماہ تک بطور محافظ ہی نہیں بلکہ ان کے کان اور آنکھ کے طور پر گھر میں خدمت کرتے رہے۔

وہ ان کے بچوں کے اتنے قریب ہوگئے تھے کہ بچے ان سے اپنے باپ کی طرح محبت کرتے تھے مگر دونوں میاں بیوی کے درمیان جدائی کی خبر ان کے لیے بھی صدمے کا باعث تھے۔اکاون سالہ بیلی کا کہنا ہے کہ براڈ پٹ چہرے پر کریموں اور لوشن کا استعمال نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے جب بھی انہیں قریب سے چھوا تو ان کے جسم سے کریموں کی خوشبو محسوس نہیں کی۔

اس کے برعکس جولی کریموں کے استعمال کی دلدادہ تھی۔ خیال رہے کہ مارک بیلی جولی فیملی کے محافظ دستی کے سربراہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں سپر اسٹار میاں بیوی نے بچوں کے حوالے سے جتنا اعتماد اس پر کیا کسی دوسرے محافظ پر نہیں کیا تھا۔ وہ ماں باپ کی اجازت کے بغیر جب اور جہاں چاہتے بچوں کو لے جاتے تھے۔ انہیں تیراکی کراتے اور دیگر صحت مند سرگرمیوں میں شریک کرتے۔

وہ بچوں کے والد کی طرح ان کی خدمت کررہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ماری بیلی نے کہا کہ انجلینا جولی اور براڈ پٹ کو اپنے بچوں کو تاوان کے لیے اغواء کیے جانے کا بھی خدشہ لاحق رہا ہے۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کے قریب قریب رہتے اور اجنبی لوگوں کو بچوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے۔ بیلی نے بتایا کہ ایک واقعہ سنایا اور کہا کہ ایک دفعہ شکاگو میں تھے جب انجلینا جولی کے ایک پرستار نے ان سے آٹو گراف لینے کی کوشش کی۔

وہ مسلسل جولی کے قریب رہا جس پر براڈ پٹ کو غصہ آیا۔ انہوں نے پرستار کو جولی سے دور کرتے ہوئے اسے گرفتار کرادیا۔سابق باڈی گارڈ نے بتایا کہ وہ جولی سے زیادی پٹ کے حوالے سے خوف زدہ تھے کیونکہ عام طور پر لوگ براڈ بیٹ سے نفرت اور انجلینا جولی سے محبت کرتے تھے۔ بیلی نے بتایا کہ ان کی ذمہ داری صرف انجلینا جولی، براڈ پٹ اور ان کے بچوں کی حفاظت نہ تھی بلکہ وہ دونوں میاں بیوی کو زیادہ پرکشش دکھائی دینے کا بھی اہتمام کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی ملبوسات ٹیم بھی حسب ضرورت شامل ہوتے اور اپنا مشورہ پیش کرتے تھے۔بیلی کا کہنا ہے کہ دونوں اداکار میاں بیوی سوسائٹی کے منفی رویے کے خوف سے عام لوگوں ے دور دور رہتے تھے۔ وہ اکثرو بیشتر لوگوں سے عجیب وغریب قسم کے سوالات کا بھی سامنا کرتے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ملازمت کیوں ترک کی تو بیلی نے کہا کہ ان کی ملازمت بچوں اور ان کی خاندان کو متاثر کررہی تھی۔

انجلینا جولی اب تک دنیا کے طول و عرض سے تڑتالیس 43 بچے گود لے چکی ہیں۔چائلڈ ہوم کے نام سے 2سینٹرز میں قریبا300 سے زیادہ یتیم بچوں کی کفالت کے علاوہ وہاں ملازموں کے اخراجات بھی یہی ملحد اور کافرہ خود ادا کرتی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں