پاکستان میں ’خلافت‘ کے نام پر فوجی بغاوت کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا

2022 ,فروری 23



منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف جنرل عبد الوحید کاکڑ اور کور کمانڈرز کانفرنس کے لیے آئے جرنیلوں کو ان کی رہائش کے لیے دیے گئے کمروں سے گرفتار کیا جائے گا اور راتوں رات میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو نیا آرمی چیف تعینات کیا جائے 8 ستمبر 1995 پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا (اس وقت کے صوبہ سرحد) کے شہر کوہاٹ میں ایک معمول کی صبح تھی۔ اس روز کوہاٹ شہر کے ایک درمیانے درجے کے ’گرین‘ نامی ہوٹل میں صبح 6 بجکر 30 منٹ پر دو گاڑیاں رکیں۔ ایک فوجی سٹاف کار تھی جبکہ دوسری ایم این او 615 کی ڈاٹسن چیری لال رنگ کی نجی کار تھی۔ دونوں گاڑیوں میں سے چار افراد برآمد ہوئے۔ نجی کار سے برآمد ہونے والے دو افراد چہروں پر داڑھیاں سجائے فوجی افسران تھے جبکہ سرکاری گاڑی میں سے برآمد ہونے والے دو افراد ڈرائیور تھے۔ افسران ہوٹل کے ریستوران میں آئے اور بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اتنی دیر میں ہوٹل میں شلوار قمیض میں ملبوس داڑھی والا ایک اور شخص داخل ہوا اور ریستوران میں بیٹھے دونوں افسران سے ملاقات کے بعد ادھر ہی براجمان ہو گیا۔ تینوں افراد نے چائے پی اور پھر وہ چلا گیا۔ چائے پینے کے بعد دونوں افسران ہوٹل میں بک کیے گئے کمرہ نمبر 8 میں چلے گئے جبکہ دونوں ڈرائیوروں کو کمرہ نمبر 9 میں آرام کرنے کا کہا گیا۔ چاروں افراد صبح چار بجے راولپنڈی سے روانہ ہوئے تھے۔ دوسری طرف محکمہ کسٹمز اینڈ ایکسائز انٹیلیجنس کا نوجوان سینیئر انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن آفسر جواد سلطان کوہاٹ کے نواح میں موجود ’چکرکوٹ‘ نامی گاوں کے باہر اپنی دو موبائل پارٹیوں کے ساتھ ناکہ لگا کر کھڑا تھا۔ انھیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ یہاں سے اسلحہ سمگلنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جواد کے لیے شاید یہ سمگلنگ کے خلاف ایک معمول کا آپریشن تھا مگر اگلے چند دنوں میں یہی آپریشن ملکی و بین الاقوامی سطح پر غیرمعمولی اہمیت اختیارکرنے والا تھا جس کا شاید انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔ جواد کو وائرلیس پر پیغام دیا گیا کہ مذکورہ مشکوک گاڑی آ رہی ہے۔ گاڑی کا نمبر اور رنگ جو انھیں اور ان کی ٹیم کو پہلے ہی معلوم تھا، کو دیکھ کر انھوں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے گرین ہوٹل کے باہر رکنے کے تھوڑی دیر بعد ہی پکڑ لیا۔ گاڑی سے دو افراد برآمد ہوئے، ایک اپنا تعارف حاضر سروس فوجی سپاہی مقصود کے طور پر کروا رہا تھا اور دوسرا شخص اپنا تعارف قاری سیف اللہ اختر کے طور پر کروا رہا تھا۔ دونوں کے زیراستعمال وہی چیری لال رنگ کی گاڑی نمبر ایم این او 615 تھی جو ابھی صبح ہی راولپنڈی سے کوہاٹ پہنچی تھی۔ گاڑی اور دونوں ملزمان کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ سب بہت تیزی سے ہوا تھا۔ دراصل گرفتار ہونے والا ایک ڈرائیور صبح ہی اپنے ساتھی ڈرائیورکے ہمراہ فوجی سٹاف کار میں کوہاٹ پہنچا تھا مگر بعد میں اسے اس کے افسر نے ریستوران میں آنے والے مولوی صاحب کے ساتھ جانے کا کہا تھا۔ جب کسٹمز پولیس و انٹیلیجنس حکام نے گرین ہوٹل کی پارکنگ میں چھاپہ مارا تو دوسرا ڈرائیور سارا واقعہ دیکھ رہا تھا۔ اس نے صورتحال دیکھی اور فوری طور پر ہوٹل کی پہلی منزل پر موجود کمرہ نمبر 8 میں بھاگتے ہوئے پہنچا جہاں اس نے اپنے دو افسران کو حواس باختہ حالت میں اطلاع دی کہ اس کا ساتھی ڈرائیور مقصود، مولوی صاحب کے ساتھ گرفتار ہو گیا ہے جبکہ ان کی چیری لال رنگ کی گاڑی ڈاٹسن بھی پولیس اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ شاید اس وقت اطلاع دینے والے کو پولیس اور محکمہ کسٹمز کا فرق معلوم نہیں تھا کیونکہ دونوں کی وردیاں آج بھی کم وبیش ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ کئی برس بعد اس مقدمے کے مختلف سول اور فوجی عدالتوں میں دائر مقدمات کے دوران ریکارڈ کی گئی شہادتوں کے مطابق ڈرائیور کی طرف سے دی جانے والی یہ اطلاع کمرے میں بیٹھے دونوں افراد کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔ ان دونوں افراد میں سے ایک فوج کے حاضر سروس بریگیڈئیر مستنصر باللہ اور دوسرے حاضر سروس کرنل لیاقت علی راجہ تھے جبکہ کسٹمز پولیس و انٹیلیجنس کی طرف سے گرفتار کیے جانے والا قاری دراصل مشہور جہادی کمانڈر قاری سیف اللہ اختر تھا۔ محکمہ کسٹمز و انٹیلیجنس حکام کو اسلحہ سمگلنگ کی اطلاع دراصل فوج کی ملٹری انٹیلیجنس کی طرف سے فراہم کی گئی تھی۔ ملٹری انٹیلیجنس نے اس وقت قبائلی علاقہ جات اور درہ کے علاقوں میں اسلحہ فروخت کرنے والوں کے درمیان اپنے مخبروں کا ایک مؤثر جال بچھا رکھا تھا۔ انھیں یہ اطلاع شاید وہیں سے ملی تھی کہ پنجاب سے اسلحے کی ایک بھاری مقدار کی خریداری کی جا رہی ہے۔ یہ اطلاع محکمہ کسٹمز انٹیلیجنس حکام سے شئیر کی گئی اور یوں کارروائی کر کے دو افراد کو ایک گاڑی اور اسلحے سمیت ہوٹل کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس وقت محکمہ کسٹمز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کے حکام کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوہاٹ کے جس ہوٹل کے باہر سے ایک گاڑی کو اسلحے اور دو افراد سمیت گرفتار کیا گیا تھا اس ہوٹل کے اندر ہی اس اسلحے کے اصل خریدار موجود تھے۔ کسٹمز حکام نے گاڑی کھولی تو گاڑی میں سے 26 کلاشنکوف، پانچ راکٹ، ایک راکٹ لانچر اور 50 ہینڈ گرینیڈ برآمد ہوئے۔ جواد سلطان کی طرف سے فوجی عدالت کو دیے گئے بیان کے مطابق 26 میں سے 17 کلاشنکوفوں پر خالصتان زندہ آباد جتھے دار، تلوندر سنگھ وغیرہ کندہ تھا جبکہ 9 کلاشنکوفوں پر ایسی کوئی بات تحریر نہیں تھی۔ اس مقدمے کے ایک ملزم کے مطابق جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، ان ہتھیاروں کی خریداری کا آرڈر قاری سیف اللہ اختر نے دیا تھا جس پر اس وقت کم وبیش 2 لاکھ روپے خرچ آئے تھے۔ سیف اللہ اختر کشمیر اور افغانستان میں جہاد کر چکے تھے اور جہادی حلقوں میں ایک جانا پہچانا نام تھے۔ سیف اللہ اختر کو اسلحہ خریدنے کے لیے پیسے بریگیڈئیر مستنصر باللہ نے دیے تھے جبکہ انھوں نے اسلحہ درہ آدم خیل میں اسلحے کے ایک دکاندار حاجی فضل سے خریدا اور اسے کوہاٹ پہنچانے کی ذمہ داری سعد رسول نامی شخص کو سونپی۔ مستنصربااللہ کا خیال ہے کہ اسی سعد رسول نامی شخص ہی نے ملٹری انٹیلیجنس کو اس معاملے کی مخبری کی تھی۔ مقدمے کی کارروائی کے مطابق یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ڈرائیورکی طرف سے کمرہ نمبر 8 میں موجود افسران کو پولیس چھاپے کی اطلاع ملتے ہی دونوں افسران فوجی سرکاری گاڑی میں بیٹھے اور راولپنڈی پہنچ گئے۔ راستے میں دونوں نے اپنے اپنے دفتروں میں اطلاع دینے پر اتفاق کیا کہ وہ کوٹلی میں کشمیر کی آزادی کے لیے بعض مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنا چاہتے تھے کہ کوہاٹ میں ان کا ڈرائیور اور گاڑی پکڑی گئی۔ بریگیڈئیر مستنصرباللہ نے پیشکش کی کہ وہ سارا الزام اپنے سر لے لیتے ہیں اور کرنل لیاقت دفتر میں یہی بتائیں کہ بریگیڈئیر کے مانگنے پر انھیں گاڑی دی گئی تھی تاہم انھیں اس کے استعمال کا پتا نہ تھا البتہ کرنل لیاقت نے اس سے اتفاق نہ کیا۔ اوپر درج کیا گیا سارا منظر نامہ فوجی عدالت میں اس وقت ملزمان اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں بھی سامنے آتا ہے۔ جب اس سارے واقعے میں ملوث کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا تو وزیراعظم بے نظیربھٹو سے اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے فون پر رابطہ کر کے ملاقات کا وقت مانگا اصل منصوبہ کیا تھا؟ راولپنڈی پہنچنے پر سب سے پہلے میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا کیونکہ یہ سارا منصوبہ انھیں امیرالمومنین بنا کر ملک میں ’خلافت‘ قائم کرنے کا تھا۔ آرمی چیف جنرل عبد الوحید کاکڑ نے 30 ستمبر 1995 کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں معمول کا کور کمانڈرز اجلاس طلب کر رکھا تھا اور منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ اور کور کمانڈرز کانفرنس کے لیے آئے جرنیلوں کو ان کی رہائش کے لیے دیے گئے کمروں سے گرفتار کیا جائے گا۔ جس کے بعد راتوں رات میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو نیا آرمی چیف تعینات کر کے صدر مملکت فاروق احمد خان لغاری اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو گرفتار کر کے حکومت کا تختہ الٹنا اور پھر جنرل ظہیر الاسلام کا قوم سے خطاب کروانا تھا۔ اس مجوزہ خطاب کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا چکا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اس مقصد کے لیے فوجی جوانوں کے بجائے کشمیر اور افغانستان میں جہاد لڑنے والے مجاہدین کو استعمال کیا جانا تھا جس کی ساری ذمہ داری قاری سیف اللہ اختر کو سونپی گئی تھی۔ 30 ستمبر کے منصوبے کے لیے لائے جانے والے اسلحے اور قاری سیف اللہ اختر کی کوہاٹ میں گرفتاری کے بعد سارا معاملہ چوپٹ ہوتا نظر آ رہا تھا۔ مستنصر باللہ اور کرنل لیاقت علی راجہ ایک بار پھر راولپنڈی کی ایک مسجد میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی سے ملے۔ کرنل لیاقت علی راجہ کے عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق ’اس ملاقات میں جنرل عباسی نے کہا کہ 30 ستمبر ابھی بہت دور ہے ہمیں اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے کور کمانڈرز کانفرنس سے پہلے ہی کسی دوسرے منصوبے کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔ میں نے انھیں بتایا کہ اگر ہم کور کمانڈرز کو گالف گراؤنڈ میں بے بس کر دیتے ہیں تب آپ کے خیال میں کیسا رہے گا۔ اس پر جنرل عباسی نے میری کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ نوجوان تم بہت بہادر ہو۔‘ مختلف منصوبوں پر باتیں کرتے سارے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ 8 ستمبر کی وہ رات شاید بغاوت کا منصوبہ بنانے والے تمام کرداروں پر بھاری گزری ہو گی۔ سب کو فکر تھی کہ قاری سیف اللہ اختر کہیں سارے معاملے کا بھانڈا نہ پھوڑ دیں۔ ادھر قاری سیف اللہ اختر جو پہلے ہی ایک تجربہ کار شخص تھے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں سے آگاہ تھے، نے گرفتاری کے بعد فوجی حکام سے پوچھ گچھ کے دوران اپنی زبان بند رکھی اور یہی ظاہر کیا کہ وہ یہ اسلحہ کشمیری مجاہدین کی مدد کے لیے خرید رہے تھے۔ اس دوران اسلحے سمیت برآمد ہونے والی کار کے مالک کرنل لیاقت علی راجہ اور بریگیڈئیر مستنصر باللہ سے پوچھ گچھ بھی ہوئی مگر کسی کو اصل منصوبے کی بھنک تک نہ پڑی۔ بتایا جاتا ہے کہ بریگیڈئیر مستنصرباللہ نے اپنے کچھ کاغذات مفتی سعید نامی شخص کو دیے اور ہدایت کی کہ انھیں جلا کر ضائع کر دیا جائے۔ بعدازاں فوجی حکام نے مفتی سعید سے اس تقریر کی نقل بھی برآمد کی تھی جو ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے کرنا تھی۔ مفتی سعید ان فوجی افسران کے ساتھ وہ واحد شخص تھے جو ہر معاملے سے آگاہ تھے۔ فوج کے اندر بغاوت کی اطلاع امریکہ نے دی؟ بریگیڈئیر مستنصر باللہ نے غیر قانونی قرار دے کر ضبط ہو چکی اپنی کتاب میں دعویٰ کر رکھا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو 17 ستمبر 1995 کو خفیہ اطلاع دی تھی کہ کوہاٹ سے برآمد ہونے والا اسلحہ دراصل کشمیر کے لیے نہیں بلکہ فوج کے اندر بغاوت کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ مستنصر باللہ کے مطابق انھیں اور ان کے ساتھی کرنل لیاقت علی راجہ کو اسی اطلاع کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مستنصر باللہ کے مطابق 25 اور 26 ستمبر 1995 کو کرنل لیاقت علی راجہ ہمت ہار گئے اور انھوں نے حکام کو ’آپریشن خلافت‘ کا مکمل منصوبہ اور تمام افراد کے نام بتا دیے۔ یوں فوجی حکام نے 100 فوجی افسران کو پکڑ کر ان سے تفتیش شروع کر دی۔ 28 اور 29 ستمبر کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے بریگیڈئیر خورشید کے سامنے بریگیڈئیر مستنصر باللہ کو پیش کیا گیا اور ان سے مخاطب ہو کر بتایا گیا ’آپریشن خلافت ختم ہو گیا۔‘ فوجی حکام کی تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک موقع پر بریگیڈئیر مستنصر باللہ اس وقت کے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹینینٹ جنرل غلام محمد ملک کے بھی بڑے پرستار تھے۔ غلام محمد ملک چونکہ مذہبی ذھن رکھنے والے شخص تھے اس لیے مستنصر باللہ نے ایک موقع پر یہ پلان بھی کیا تھا کہ آرمی چیف کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں مگر یہ نہ ہو سکا۔ بریگیڈئیر مستنصر باللہ ان سے خصوصی شناسائی بھی رکھتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ مذکورہ افسر کو ان کے آپریشن کی ساری تفصیلات کا علم ہے تاہم جب اس وقت ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل علی قلی خان کو کور کمانڈر راولپنڈی کے بارے میں علم ہوا تو مبینہ طورپر وہ انھیں گرفتار کرنے کے لیے گئے بھی تاہم کمانڈر کو اس سے پہلے ہی پتہ چل گیا کہ ملٹری انٹیلیجنس کو ان کے بریگیڈئیر مستنصر باللہ سے تعلق کا پتہ چل چکا ہے۔ مستنصر باللہ کے مطابق اس صورتحال سے بچنے کے لیے لیفٹینینٹ جنرل ملک علی قلی کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل خود ہی وزیراعظم بے نظیربھٹو کے پاس گئے اور انھیں ساری کارروائی کے بارے میں آگاہ کر دیا۔ بے نظیر بھٹو کو اطلاع کیسے ملی؟ اس وقت بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم تھیں۔ ابتدا میں انھیں اپنے اور فوج کے خلاف اس بغاوت کے بارے میں علم نہیں تھا۔ جب اس سارے واقعے میں ملوث کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا تو وزیراعظم بے نظیربھٹو سے اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ایک شام فون پر رابطہ کر کے اگلے روز ’اہم‘ ملاقات کا وقت مانگا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اگلی صبح آرمی چیف کو پہلے ملاقاتی کے طور پر وقت دے دیا۔ اس وقت تک یہ معاملہ وزیراعظم کے زیر نگرانی کام کرنے والے خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے علم میں بھی آچکا تھا۔ اس وقت انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ میجر ریٹائرڈ مسعود شریف یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’میں نے وزیراعظم کو رات گئے فون کیا اور کہا کہ محترمہ انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے مجھے کل آپ سے ضرورملنا ہے اور ہماری ملاقات آپ کے پہلے ملاقاتی سے پہلے ہونی چاہیے۔‘ مسعود شریف بین السطور کہہ رہے تھے کہ وہ وزیراعظم کی آرمی چیف سے ملاقات سے قبل ان سے ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعظم نے علی الصبح ملاقات کا وقت دے دیا جس پر آئی بی چیف وزیراعظم ہاوس اسلام آباد مقررہ وقت پرپہنچ گئے۔ ’میں نے وزیراعظم کو بتایا کہ فوج کے کچھ افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے وہ وزیر اعظم اور فوجی قیادت کو قتل کر کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ وزیراعظم نے میری بات اطمینان سے سنی۔ وہ حیران ضرور ہوئیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے چہرے پر کوئی پریشانی نہیں تھی۔ انھوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اتنا کہا کہ نجانے کوئی ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟‘ وزیراعظم نے ساری باتیں سنیں اور پھر ان کی اگلے اہم ملاقاتی سے ملاقات ہوئی جس نے انھیں فوجی افسران کی گرفتاری کی بریکنگ نیوز دی جو شاید پہلے ہی وزیراعظم کے پاس موجود تھی تاہم کسی کو یہ ظاہرنہ کیا گیا کہ بے نظیر پہلے سے ہی سب جانتی ہیں۔ مستنصر باللہ نے رہائی کے بعد سنہ 2008 میں ’آپریشن خلافت‘ اور ’جمہوریت کفر، خلافت فرض ہے‘ کے عنوان سے کتابیں بھی لکھیں جو اب مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں نتیجہ کیا نکلا؟ فوج کی طرف سے کارروائی کے نتیجے میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی، بریگیڈئیر مستنصر باللہ، دو کرنل اور38 دیگر افراد کو فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی میں سزائیں سنا دی گئیں۔ قاری سیف اللہ اختر، مفتی سعید اور دیگر نے بھی قید کاٹی تاہم سویلین ہونے کے باعث فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی سے بچ گئے۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی سنہ 2002 میں رہا ہوئے اور سنہ 2009 میں وفات پا گئے۔ راقم ان سے راولپنڈی میں ان کی رہائشگاہ پر ملاقاتیں کرتا رہا ہے۔ مستنصر باللہ نے رہائی کے بعد سنہ 2008 میں ’آپریشن خلافت‘ اور ’جمہوریت کفر، خلافت فرض ہے‘ کے عنوان سے کتابیں بھی لکھیں جو اب مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔ 5 اپریل 2015 کو میں نے لاہور میں بریگیڈئیر ریٹائرڈ مستنصر باللہ سے ملاقات کی۔ وہ رہائی کے بعد تنہا کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انھوں نے اپنے دستخط سے مجھے ایک کتاب بھی پیش کی۔ وہ اپنے بیتے کل پر تفصیل سے بات کرنے سے گریزاں تھے تاہم اس ملاقات میں ہونے والی ہماری گفتگو کو شائع کرنے سے بھی منع کر دیا۔ مفتی سعید اسلام آباد کے نواح میں مری کے راستے میں اپنا ایک مدرسہ قائم کیے ہوئے ہیں اور وہ بھی اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ وہی مفتی سعید ہیں جنھوں نے برسوں بعد تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کا پہلے ریحام خان سے اور پھر ان کی طلاق کے بعد بشریٰ بی بی سے نکاح پڑھوایا۔ قاری سیف اللہ اختر رہائی کے بعد پاکستان، افغانستان اور دبئی وغیرہ میں رہے۔ وہ پاکستان کے علاوہ دبئی میں بھی گرفتار رہے۔ سنہ 2007 میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد انھیں گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی گئی بعد ازاں وہ دوبارہ افغانستان چلے گئے جہاں ان کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں آئیں۔ اس کیس میں سعودی عرب میں مقیم صوفی اقبال کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یہ وہ صوفی اقبال ہیں جن کی تعلیمات سے تمام فوجی افسران متاثر تھے اور انھیں بغاوت کے بارے میں نہ صرف علم تھا بلکہ ایک حد تک وہ مشورے میں بھی شامل تھے تاہم کسی جگہ پر ان کی گرفتاری یا ان کے خلاف کارروائی کے بارے میں کسی کو کوئی علم ہے نہ یہ پتا کہ وہ آج کل کہاں ہیں۔ کرنل لیاقت علی راجہ بھی سزا کے بعد رہا ہو چکے ہیں۔ اسی کیس میں سابق کرنل عنایت اور دیگر کو ثبوت نہ ملنے پر چھوڑ دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں انھیں فوج سے بھی برخاست کردیا گیا۔ آج کل سابق کرنل عنایت انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں