پاکستان ایک جنون۔۔۔محمد عتیق الرحمن

2016 ,اکتوبر 17




    پاکستان ایک ایسی عسکری ایٹمی قوت ہے جس کے بغیر دنیا کی بڑی طاقتیں نہیں چل سکتیں۔آپریشن ضرب عضب میں کلیدی کامیابی کے بعد عالمی طاقتیں پاکستان کی عسکری قوت پرنظریں گاڑ چکی ہیں جس کا ثبوت روسی افواج کا پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشقیں کرنا ہے ۔یہ جنگی مشقیں اس وقت ہورہی ہیں جب روس کا قریبی سمجھے جانا والادوست پاکستان سے جنگی حالات میں ہے ۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں چل رہی حالیہ تحریک آزادی سے پاک بھارت میں شدید کشیدگی کی کیفیت ہے۔بھارت کی تما م تر سفارتی کوششوں اور میڈیا کے پروپیگنڈہ کے باوجود روس نے نہ صرف اس حال مشقیں کی ہیں بلکہ آئندہ سال بھی پاکستان کو عندیہ دے دیا ہے۔قیام پاکستان سے ہی بھارت کا سارا زور پاکستان کے خلاف لگتا رہاہے ۔پاکستان کے علاقوں پر قبضہ کے ساتھ پاکستان کے حصے میں آنے والے اثاثہ جات میں ہیرپھیر کے ساتھ ناکارہ وبے کار چیزوں کی فراہمی ہوئی ۔ہندووں کو یقین تھا کہ پاکستان بے سروپا ایک ریاست ہے جو جلد ہی بھارت میںضم ہو جائے گی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ محمدبن قاسم ؒکی اولاد دنیا میں اپنا ایک مقام بنائے گی اور دنیا پرثابت کرے گی کہ اسلام کے نام پربننے والی ریاست مسلمانوں کی امیدوں کا مرکزہے۔بھارت نے پاکستان کے خلاف سازشوں اور مکروہ ہتھکنڈوں کا جال بچھا رکھا ہے ۔پاکستان میںکل بھوشن یادیوجیسے حاضر سروس بھارتی ایجنٹ کا پکڑا جانا، ضرب عضب کی کامیابی ،سی پیک کی کامیابی کا سفر اور بھارتی مہروں کی سیاسی بساط لپٹے جانے سے بھارت حواس باختہ ہوچکا ہے ، رہی سہی کسر کشمیریوں نے برہان مظفر وانی شہیدؒ کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں شدت لاکر پوری کردی ہے ۔بھارت اس وقت کشمیریوں پر کئے گئے مظالم پرپردہ ڈالنے کے لئے پاکستان کو للکاررہاہے تاکہ عالمی طاقتوں کی نظر جنگی حالات پر رہے ۔100سے زائد شہادت ،10ہزار سے زائد زخمیوں اور600سے زائد پیلٹ گن سے آنکھوں سے محروم کشمیری آج سوال کناں ہیں کہ انسانی ہمدردی کے دعویدارکہاں ہیں ؟
    دنیا کی بہترین افواج میں میں پاکستانی افواج کا نام آتا ہے اوردنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں آئی ۔ایس ۔آئی کا نام آتا ہے ۔بھارت اس وقت 11لاکھ 29ہزار حاضر سروس فوج رکھتا ہے جبکہ 9لاکھ سے زائد محفوظ(reserve) فوجی ہیں ۔نیم فوجی تیرہ لاکھ کے قریب ہیں جن میں سپیشل فورسز اور پولیس شامل ہے ۔نوکورزپر مشتمل بھارتی فوج 3569ٹینک،3569بکتربندگاڑیاں،4000توپیں ،1لاکھ ٹینک شکن میزائل اور زمین سے فضاءمیں مارکرنے والے میزائلوں کی تعداد 7500کے قریب روایتی اسلحہ ہے ۔8کورزپرمشتمل پاکستانی بری فوج 6لاکھ17ہزار حاضر سروس اور5لاکھ محفوظ فوج کے ساتھ موجود ہے۔2570ٹینک،2700بکتربندگاڑیاں،3500توپیں ،36ہزار سے زائد ٹینک شکن میزائل،70اینٹی مائنز وہیکلز،400کے قریب مختلف اقسام کے چاپرز اور فضامیں مارکرنے والے میزائلوں کی تعداد 5500کے قریب ہیں۔گوپاکستان کو بھارتی فضائیہ پر برتری حاصل رہی ہے لیکن بھارتی فضائیہ کا شمار دنیا کی بڑی فضائی افواج میں ہوتا ہے جس کے 1لاکھ 25ہزار کے قریب فوجی ہیں اور 1370طیاروں سے لیس ہے ،سخوئی ایس یو ۔30ایم کے آئی جدید ترین ملٹی رول طیارہ ہے جن کی تعداد 170ہے ۔130جیگوار لڑاکا طیارے ،روسی ساختہ مگ سیریز کے طیاروں میں مگ۔(66)29، مگ ۔(90)27اور مگ ۔(264)21شامل ہیں ،فرانسیسی ملٹی رول دسولت میراج کی تعداد 51ہے ۔پاک فضائیہ میں 65ہزار مردوزن کام کررہے ہیں۔پاک فضائیہ 600جنگی طیاروں سے لیس ہے جن میں 85اٹیک اور باقی ملٹی رول طیارے ہیں ۔جے ایف۔ 17 تھنڈر پاک فضائیہ کا جدید ترین طیارہ ہے۔ یہ ملٹی رول طیارہ چینی اور پاکستانی ماہرین نے مل کر تیار کیا ہے۔ جنگی طیاروں کی تفصیل کچھ یوں ہے،ملٹی رول طیاروں میں 63ایف سولہ۔ فائٹنگ فالکن،157دسولت میراج شامل ہیں ۔ 186چنگدو ایف،چینی ساختہ 7سکائی بولٹ لڑاکا طیارہ ہے۔315طیارے تربیتی ہیں جن میں سے 150کودوران جنگ ہی تیارکرکے میدان جنگ میں لایاجاسکتا ہے ۔40ٹرانسپورٹ اور یوٹیلٹی طیارے ہیں ،160مختلف اقسام کے ہیلی کاپٹرزاور110مختلف اقسام کے یو۔اے۔وی ایز یاڈرونز ہیں ۔ اس قدر فرق ہونے کے باوجود پاکستانی بری و فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو ناکوں چنے چبوائے ہیں ۔ 58ہزار سے زائد بھارتی مردوزن بھارتی بحریہ کا حصہ ہیں ۔ایک طیارہ بردار جہاز ،گودی(Dock)،8ڈسٹرائر،15فریگیٹ،1ایٹمی آبدوز،140آبدوزیں ،24چھوٹے جنگی جہاز اور30گشتی جہازوں بارودی سرنگ شکن جہاز رکھتی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت تیزی سے خطے میں ابھرتی ہوئی چینی قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے دفاعی سازوسامان اور معاہدے کررہی ہے ۔اس کے مقابلے میں پاک بحری قوت 25ہزار کے قریب باقاعدہ فوجی اور 5ہزار محفوظ فوج رکھتی ہے ۔10فریگیٹ جہاز،88آبدوزوں،3گشتی وحملہ آور جہازوں،8ڈیزل الیکٹرک آبدوز،3ہنٹر آبدوز،14مختلف قسم کے آئل فلیٹ ٹینکرز،21ہورکرافٹس ،140پٹرول بوٹس اور 3باردوی سرنگ شکن جہازوں پر مشتمل ہے ۔(ان کوائف میں کمی بیشی ہوسکتی ہے)لیکن اس قدر کم فوج رکھنے کے باوجود پاک فوج کا ریکارڈ بھارتی فوج کے مقابلے کئی گنا بہتر ہے ۔ ”اوراللہ سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے ۔القرآن “کے فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو دیکھا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ پاکستان کی حفاظت کس طرح سے کررہاہے ۔بھارت اسلحہ خریداری میں اپنی غربت اور بنیادی ضروریات زندگی کو بھولے ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو بھی اپنے کم وسائل میں اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرناپڑرہاہے ۔ماضی میں ہوئی جنگوں میں پاک فوج کے تینوں ادارے اپنے دفاع میں نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ کامیاب سرجیکل سٹرائیکس وخفیہ آپریشنز کرکے دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں بھی مبتلا کرچکے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پاکستانی فوج اور اسلحہ جدید اور وقت سے ہم آہنگ ہے جبکہ بھارت کے زیراستعمال اسلحہ فرسودہ ہوچکا ہے ۔بھارت میں تیار ہونے والا اسلحہ عالمی معیار سے کم تر ہوتا ہے جبکہ پاکستان اسلحہ سازی میں اپنا نام پیداکرچکا ہے ۔ پاکستانی فوج ایک لمبے عرصے سے حالت جنگ میں ہے جس کی وجہ سے اس کی مہارت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے ۔پاکستان جارحیت پر یقین نہیں رکھتا لیکن وہ اپنے دفاع سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں ہوسکتا۔بھارتی میڈیادن رات پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مشغول رہتا ہے۔جہاں وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے وہیں کبھی خالدٹینک ،کبھی ضرار تو کبھی شاہین وغور ی ، کبھی چیف آف آرمی سٹاف کے بیانات سناکراور کچھ بھی نہ ملے تو پاکستانی ایٹمی قوت سے بھارتی عوام کو پاکستان سے ڈرانے کی کوششوں میں مصروف عمل رہتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستان بھارت کی فوج،سیاست دانوں ،اسٹیبلشمنٹ اور عوام کے خیالوں میں ایک ایسا دیو بن چکا ہے جس سے بھارت کبھی بھی نہیں جیت سکتا۔اس سے ہٹ کر بھی پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہے کہ 1947ءمیں پاکستان نے برصغیر کو تقسیم کیا تھا یعنی کہ بھارت کوتوڑنے میں پاکستان کا ہاتھ ہے اس لئے پاکستان ان کے لئے ناقابل قبول ہے جب کہ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہم نے برطانوی راج کے بعد بزور بازو پاکستان حاصل کیا تو اس کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں ۔
    پاک بھارت تعلقات کسی بھی دور میں مثالی نہیں رہے ۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اوربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے پاکستانی شدید غم وغصہ کی کیفیت میں رہتے ہیں ۔ اُڑی حملہ کے بعد ان حالات میں شدت آئی ہے ،اقوام متحدہ اجلاس سے قبل اڑی حملہ کا ہونا ہی بذات خود سب سے اہم سوال ہے ۔اڑی حملہ ہوتے ہی بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزام لگانا اور پھر سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچانا یہ سب پاک بھارت حالات کو دہکتے ہوئے الاﺅپر لے آئے ہیں جن سے کبھی بھی دونوں ملکوں میں جنگ ہوسکتی ہے ۔یہ جنگ جہاں سرحدوں پر ہورہی ہے وہیں پرنٹ ،الیکٹرونک وسوشل میڈیا بھی وار زون میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ہر بھارتی وپاکستانی حتی المقدور اس میں حصہ ڈال رہا ہے ۔اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر آوازاٹھانے کے باوجود اب تک بھارت کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہاہے اور جب وہ مجبور ہوکرمسلح جدوجہد شروع کرتے ہیں تو عالمی ذرائع ابلاغ انہیں دہشت گردکہتے ہیں ۔بھارت جارحیت کے عزائم کے ساتھ پاکستان کو نہ صرف للکارتا ہے بلکہ اکساتارہتا ہے کہ پاکستان اس کی جارحیت کا جواب دے ۔ماضی میں ہوئی جنگوں میں بھارت منہ کی کھاچکا ہے لیکن اب بھی اکھنڈبھارت اور جنوبی ایشیا کا پردھان بننے کے چکر میں اپنی درگت بنوانا چاہ رہاہے ۔مودی کی چانکیہ سوچ سے جہاں بھارت میں اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں وہیں پاکستانی ہر طرح کے اختلافات بھلاکر اکٹھے ہوچکے ہیں ۔مشہور بھارتی اداکار اوم پوری پر بھارتی فوج کی حمایت میں نہ بولنے پر بغاوت کا مقدمہ درج ہوچکا ہے ۔اسی طرح بھارتی سیاست دان بھارتی وزیراعظم سے سرجیکل سٹرائیک کے ثبوت مانگ رہے ہیں ۔خالصتان کے لئے سکھ کوششیں شروع کرچکے ہیں جن سے آنےوالے دنوں میں بھارت پر مزیددباﺅپڑے گا ۔خالصتانی تحریک سے ہٹ کرکئی تحریکیں بھارت کے اندرسے اٹھی ہیں جنہیں ختم کرنا بھارت کے بس کی بات نہیں ۔اس لئے آسان ہدف کے طور پرپاکستان کو موردالزام ٹھہرایاجاتا ہے ۔پاکستان اگر ذراسی چنگاری ان آزادی کی تحریکوں کو دے دے تو بھارت کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا ۔پاکستان بھارتی مداخلت کے باوجود مسلسل امن وسکون کی طرف بڑھ رہا ہے اور دنیا پاکستانی عسکری قوت کو مان رہی ہے ۔جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے لیکن تباہیاں ضرور آتی ہیں ۔بھارت اگر جنگ چاہتا ہے تو یہ شوق پورا کرلے پاکستانی قوم مکمل طور پر تیار ہے اور منہ توڑ جواب دینا بھی جانتی ہے۔یہی پیغام پاکستانی پارلیمنٹ بھی دے چکی ہے۔ہمارے آباﺅاجدادنے ان سے ملک حاصل کیاتھا تو آج کی نسل حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

 

متعلقہ خبریں