سمندر آگے بڑھ رہا ہے، زمین کو نگل رہا ہے

2016 ,نومبر 11



آسٹریلیا (شفق ڈیسک) کچھ عرصے قبل ایک حیرت انگیز تحقیقی رپورٹ شائع کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ آسٹریلیا اپنے محل وقوع میں تبدیلی کر چکا ہے اور اپنی جگہ بدل رہا ہے۔ لیکن ماہرین کیمطابق ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے 50 سال میں ایسا کئی بار، اور پوری دنیا میں ہوچکا ہے۔ حال ہی میں جاری کی جانیوالی ایک تحقیقی رپورٹ کیمطابق پچھلے 50 سال کے اندر آسٹریلیا اپنی جگہ کم از کم 4 بار تبدیل کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا دنیا کی سب سے زیادہ تیز رفتار ٹیکٹونک پلیٹس پر واقع ہے جو ہر سال تقریباً 2.7 انچ شمال کی جانب حرکت کرتی ہیں۔ اسکے برعکس امریکا کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس کی رفتار کہیں کم ہے اور وہ سالانہ ایک انچ سے بھی کم جگہ تک حرکت کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آسٹریلیا اپنی جگہ بدل چکا ہے زمین کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹ بہت ساری تعداد میں مل کر تقریباً اتنی ہی رفتار سے حرکت کرتی ہیں جتنی تیزی سے ہماری انگلیوں کے ناخن بڑھتے ہیں یعنی سالانہ 5 سے 10 سینٹی میٹر۔ واضح رہے کہ زمین کی تہہ کے نیچے موجود مختلف مرکبات مل کر ایک ٹھوس شکل اختیار کر لیتے ہیں جو ٹیکٹونک پلیٹ کہلاتی ہے۔ یہ اپنی جگہ سے حرکت کرتی ہیں اور ان کی حرکت تیز رفتار ہو تو یہ زلزلوں کا باعث بنتی ہیں۔ دنیا بھر میں زمین کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس مختلف رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مختلف مقامات پر موجود ہوتی ہیں۔ ان کی حرکت کا انحصار دراصل اس مقام پر ہے کہ وہاں انہیں کھسکنے کیلئے کتنی جگہ میسر ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کو ان چند سینٹی میٹرز کا فرق بے حد معمولی لگتا ہو لیکن یہ ہمارے نقشوں کیلئے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے باعث اب مختلف ٹیکنالوجیز میں درد سری کا سامنا ہوگا۔ جیسے بغیر ڈرائیور کی کار جس میں محل وقوع کو فیڈ کر دیا جاتا ہے اور وہ اسی فیڈ کئے ہوئے ڈیٹا کے مطابق حرکت کرتی ہیں۔ پھر جی پی ایس ٹریکنگ جو سفر کے دوران راستوں کے حوالے سے آپ کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ فرق ہماری زمین کے طول و عرض میں بھی تبدیلی کر رہا ہے۔ 1994ء میں زمین اور مختلف مقامات کی جو پیمائش تھی ان سب میں مجموعی طور پر اب 200 میٹرز کا فرق آچکا ہے اسکا مطلب ہے کہ اگر آپ اس وقت سے اب تک ایک ہی گھر میں مقیم ہیں تو یقیناً اس کے درست پتہ میں تبدیلی آ چکی ہے۔

متعلقہ خبریں