چار آنے کی آزادی

2017 ,جنوری 17



تحریر: امجد حسین بخاری

لاہور میں اچھرہ سے بتی چوک کی جانب پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کررہا تھا، ایم اے او کالج کے اسٹاپ پر پہنچا ہی تھا کہ دس بارہ نوجوان ہاتھوں میں ہاکی تھامے سٹرک کے درمیان آگئے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو اتارا، جدید اور قدیم گالیوں سے نوازا اور سواریوں کو نیچے اتار کر خود سوار ہوگئے۔ چار و ناچار ایم اے او کالج کے سٹاپ پر گاڑی سے محروم ہوکر بیٹھ گیا۔ شدید سردی اور گرد میں بیٹھا اُس وقت کو کوسنے لگا لیکن کچھ دیر بعد مجھے اندازہ ہوا کہ گاڑی سے محروم ہونا میرے لئے بہتر ہی ثابت ہوا۔

گاڑی سے اتارے جانے کے بعد میں اسٹاپ پر بیٹھا اب ایم اے او کالج کے طلبہ کو غور سے دیکھنے لگا۔ کیسے گاڑیوں کو سواریوں سے خالی کرواتے اور خود سوار ہو رہے تھے۔ میرے ساتھ ہی ایک بابا جی بیٹھے ہوئے تھے فرمانے لگے کہ اِس کالج کو ضیاء الحق نے تباہ کیا ہے۔ میں حیرانگی سے اُن کی جانب دیکھنے لگا۔ اِسی حیرانی میں پوچھ بیٹھا کہ بابا جی ضیاء الحق کا اِس کالج کی تباہی سے کیا تعلق؟ بابا جی گویا ہوئے بیٹا! ضیاء الحق کے دور تک ملک بھر میں طلبہ یونین ہوا کرتی تھی۔ بہت سکون تھا، تعلیمی ماحول تھا اور مقابلے کی فضاء تھی۔ نظریاتی جنگ تھی۔ گولی کی بجائے دلیل سے لوگ اپنے مخالفین سے بات کرتے تھے، ضیاء الحق کو تعلیمی اداروں میں موجود جمہوری کلچر اور طلبہ وطالبات سے خوف تھا۔ کیوںکہ انہی یونینز اور تعلیمی اداروں کے طلبہ وطالبات نے ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ انہی کی وجہ سے ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑھ رہا تھا۔ بنگلہ دیش نامنظور تحریک، تعلیمی اداروں میں ہاسٹلز اور بسوں کی فراہمی کے لئے جدوجہد انہی طلبہ یونینز نے کی۔

بیٹا 1984ء میں ملک بھر میں دائیں بازو کے طلبہ نے یونین انتخابات میں بھرپور کامیابیاں سمیٹیں، مگر مسئلہ یہ تھا کہ اِن طلبہ کی ضیاء الحق سے نہیں بنتی تھی۔ ضیاء الحق کے خلاف اِن طلبہ نے بھرپور احتجاجی تحریکیں شروع کی تھیں جس کی وجہ سے انہیں اپنا اقتدار اکثر اوقات خطرے میں محسوس ہو رہا تھا۔ لاہور ہر دور میں علم و آگہی کا شہر رہا ہے۔ ملک بھر سے طلبہ وطالبات یہاں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے آتے تھے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک تمام تحریکوں کا مرکز لاہور ہی ہے۔ ضیاء الحق نے اِس شہر میں اپنے مخالف طلبہ کو کچلنے کے لئے ایم ایس ایف کو اِن کالجز میں بھرپور مدد کی، جس کے نتیجے میں غیر طلبہ عناصر اور بدنام غنڈوں کا ان تعلیمی اداروں میں راج ہونے لگا۔ ان طلبہ نے بسوں، ٹھیلے والوں اور کالج کے گرد و نواح میں موجود تاجروں سے بھتہ لینا شروع کردیا۔ کچھ وقت دائیں بازو کے طلبہ نے مزاحمت کی مگر وہ اپنے کارکنان کی لاشیں اٹھاتے تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ یونین پر پابندی لگ گئی اور یوں ایم ایس ایف نے لاہور اور پنجاب کے تعلیمی اداروں پر قبضہ کرلیا۔

میری اور بابا جی کی گفتگو جاری تھی کہ ہمارے ساتھ ایک اور بزرگ آکر بیٹھ گئے۔ نئے بزرگ نے آتے ہی ایک بات کی رٹ لگا لی۔ پتر یہ ’’چار آنے کی آزادی ہے صرف چار آنے کی آزادی‘‘ میں ایک بار پھر ششدر رہ گیا۔ میں نے بزرگ کے پاس ہوکر رازدارانہ انداز میں پوچھا، ’’چچا جان! یہ چار آنے کی آزادی کیا ہے؟‘‘ بزرگ گویا ہوئے

’’پتر! بھٹو نے اعلان کیا تھا جس کے مطابق تمام ٹرانسپورٹرز طلبہ و طالبات کو چار آنے میں کالج اور یونیورسٹی تک چھوڑنے کے پابند ہوں گے۔ مگر پتر! اِس نرمی کا اِن طلبہ نے ناجائز فائدہ اُٹھایا۔ ایک ایک بس میں بیس بیس طلبہ زبردستی سوار ہوجاتے، اب ٹرانسپورٹر بیچارہ کہاں جائے، اُس نے بھی اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہوتا ہے۔ اب ساری گاڑی میں مفتا لگانے والے سوار ہوجائیں گے تو وہ اخراجات کہاں سے پورے کرے گا؟ کچھ ٹرانسپورٹرز نے آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اُن کی گاڑیاں یا تو توڑ دی گئیں یا جلا دی گئیں۔ یعنی چار آنے کی آزادی کے لئے لاکھوں کا نقصان انہوں نے کردیا‘‘
اب پہلے والے بابا جی گویا ہوئے۔ کہنے لگے بیٹا میں بھی اسی کالج میں پڑھاتا رہا ہوں مجھے بھی ایم ایس ایف کے طلبہ کی جانب سے کم نمبر دینے پر حاضری نہ لگانے پر دھمکیاں سننے کو ملی۔ خیر وقت گزر گیا۔ ایم ایس ایف کو پنجاب میں مسلم لیگ کی حمایت حاصل تھی۔ جب ان سے ایم ایس ایف کو سنبھالا نہ گیا تو پولیس مقابلوں کے ذریعے کئی نوجوانوں کو مروا دیا گیا۔ سبزہ زار لاہور میں کئی نوجوانوں کو پولیس مقابلوں میں مارا گیا۔ اِن بزرگ کی باتوں کی تصدیق ایک سابق طالب علم رہنما نے بھی کی۔ میں نے دونوں بزرگوں کی باتوں کے بعد اُن سے پوچھا کہ طلبہ یونین پر پابندی تو پھر درست فیصلہ ہی ہوا ناں؟ قبضہ مافیا، بدمعاشوں اور غیر طلبہ عناصر سے تعلیمی ادارے محفوظ ہیں۔ دونوں یک زبان ہو کر بولے۔ بیٹا! تم ابھی چھوٹے ہو تمھیں تعلیمی اداروں میں قائم طلبہ یونینز کی خبر نہیں ہے۔ طلبہ یونین میں کلاس کا ذہین ترین اور پچھتر فیصد حاضری کا حامل طالب علم ہی امیدوار بن سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں کرپشن پر سارے سیاست دان شور مچا رہے ہیں لیکن حقیقت میں طلبہ یونین ہی اس کرپشن کے خاتمے کا واحد حل ہے۔ طلبہ یونینز تعلیمی اداروں کا سرمایہ طلبہ کی فلاح و بہبود پر لگانے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ کو مجبور کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ قدیم یونیورسٹیز اور کالجز میں یونین دور میں بنائے گئے ہاسٹلز اور بسز موجود ہیں۔یونین پر پابندی کے بعد کسی بھی تعلیمی ادارے میں سہولیات کا اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ میں بزرگوں کی باتوں کا قائل ہوتا جارہا تھا مگر ابھی بھی تشنگی باقی تھی۔ فوراً اُن سے پوچھ لیا’’تو حکومت طلبہ یونین بحال کیوں نہیں کر رہی؟‘‘ دونوں کا جواب تقریباً ایک سا تھا۔

بزرگوں کی رائے کے مطابق طلبہ یونین جمہوریت کی نرسریاں ہیں اُن سے دیانت دار، محب وطن اور سیاسی شعور والے نوجوان پیدا ہو رہے تھے جو ملک و قوم کی بقاء کے لئے قانون سازی اور اقدامات کررہے تھے۔ ملک میں موجود تقریباً ساری سیاسی جماعتیں شخصی جماعتیں ہیں اور ون مین شو کا نمونہ ہیں، اِس لئے اُن کے سربراہان نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑھے۔ یونینز کی وجہ سے جاوید ہاشمی، جہانگیر بدر، احسن اقبال اور سراج الحق جیسے سیاست دان پیدا ہوتے ہیں جو غلط بات نہ تو کرتے ہیں اور نہ ہی آمرانہ رویے برداشت کرتے ہیں۔ اگر طلبہ یونینز بحال کردی گئیں تو انہی موروثی سیاسی جماعتوں کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ ملک میں جمہوری کلچر فروغ پاسکتا ہے جس کی بدولت متوسط طبقے کی نمائندگی ایوانوں میں بڑھے گی جو کہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ مزاج کے سیاست دانوں کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔

مجھے اِس بات پر کچھ اختلاف تھا مگر بزرگوں سے اختلاف میرے لئے ممکن نہیں تھا میں نے آخری سوال اسلامی جمعیت طلبہ، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ذمہ دار ان کے سامنے رکھا، میرا سوال تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ اقتدار میں طلبہ یونین کی بحالی کی نوید سنائی تھی، جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے اقتدار کے پہلے سو دن کے پروگرام میں طلبہ یونین کے انتخابات کی نوید سنائی تھی، بوجوہ انتخابات سے قبل ہی گیلانی صاحب کو جانا پڑا، اب بھی چئیرمین سینٹ رضا ربانی جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے انہوں نے بھی طلبہ یونین کی بحالی کے لئے عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے، تو آپ نہیں سمجھتے کہ پیپلز پارٹی یونین کے انتخابات میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اُس کی اولین ترجیح طلبہ یونین کی بحالی ہے؟ تقریبا سبھی طلبہ تنظیموں کے نمائندے اِس بات پر متفق تھے کہ پیپلزپارٹی محض سیاسی بیان بازی کر رہی اور بلاول کو نوجوان قائد کے طور پر پیش کرکے یونین انتخاب کی نوید دے کر نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے پتے کھیل رہی ہے۔ موجود ہ سیاسی جماعتیں جو اپنے اندر جمہوری عمل کو پورا نہیں کر رہیں تو وہ طلبہ میں جمہوری کلچر کیوں کر پروان چڑھنے دیں گی؟

بہرحال میری رائے کے مطابق یونین سازی طلبہ کا بنیادی اور جمہوری حق ہے اگر ٹھیلے والے، رکشہ والے اور فیکٹری مزدور یونین سازی کرسکتے ہیں تو ملک و قوم کا یہ با شعور طبقہ اس حق سے محروم کیوں رہے؟

لکھاری سپیریئر یونیورسٹی میں ایم فل جرنلزم کے طالبعلم ہیں۔ نوجوانوں کے میگزین ہم قدم کے مدیر رہےاور بچپن سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا شروع کیں ۔آج کل قومی اخبارات میں ’’جلتی کتابیں‘‘ کے نام سے تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں