ہالی ووڑ اداکارہ بری اولسن انٹرویو کے دوران کیوں رو پڑیں۔جان کر آپ بھی حیران ہوں گے

2017 ,جنوری 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):ہالی ووڈ۔ فحش فلموں کی سابقہ اداکارہ بری اولسن نے باقاعدہ فلمی صنعت میں کام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جسے خواتین کیلئے لمحہ فکریہ قرار دے کر تنقید کی جارہی ہے،

بری اولسن نے انیس سال کی عمر میں فحش فلموں میں کام شروع کیا اور چھ سال تک اس سے وابستہ رہی ہیں۔بری اولسن نے اپنے انٹرویو میں برطانوی لڑکیوں کو فحش فلموں میں کام سے منع کرتے ہوئےکہا کہ کبھی بھی اس کے بارے سوچنا بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چھ سال تک ہر مہینے مجھے کام کے ساٹھ ہزار ڈالر تو ملے لیکن عزت نہیں۔میں وہاں کام کرکے واپس آئی تو دو ہفتوں تک ذہنی طور پر ڈسٹرب رہی میرے اپنوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

ان فلموں میں کام کے بعد معاشرے نے مجھے قبول کرنے سے انکار کردیا اور مجھ پر ایسے جملے کسے گئے جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتی،مجھے ہرجگہ تنگ کیا گیا مختلف ناموں سے پکارا گیا۔

اس کے بعد مجھے فی ویڈیو بیس ہزار ڈالر تک معاوضہ بھی دیا گیالیکن یہ سب معاشرے کیلئے قابل قدر نہیں تھا،مجھے پیڈوفائل تک کہا گیا۔ ایک خبر رساں نیوز ویب سائٹ کے مطابق بری اولسن اب متنازعہ ماضی کے ساتھ مین سٹریم اداکارہ کے طور پر آنا چاہ رہی ہیں ،

انٹرویو کے دوران ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور زور زور سے رونے لگیں:۔

متعلقہ خبریں