کیمیا کا نوبل انعام نینو ٹیکنالوجی پیش کرنے والے سائنسدانوں کے نام

2016 ,اکتوبر 7



کیلی فورنیا (شفق ڈیسک) کیمیا کے نوبیل انعام کی کل رقم 80 لاکھ کرونر (سات لاکھ 70 ہزار پاو¿نڈ) ہے جو یاں پیاخ ساویج، سر فریزر سٹوڈرٹ اور برنرڈ فیرنگا میں تقسیم کی جائے گی۔ یہ انعام ان تینوں کیمیا دانوں کی ان تخلیقات کا اعتراف ہے جس کے تحت انھوں نے مالیکولی سطح پر کام کرتے ہوئے نہایت باریک مشینوں کے ڈیزائن ترتیب دیے۔ کیمیا کے میدان میں 2016ءکا نوبیل انعام ان تین سائنس دانوں کو دیا گیا ہے اس بات کا اعلان بدھ کو سویڈن میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا گیا۔ ان تینوں ماہرین نے جن مشینوں کے ڈیزائن بنائے ہیں وہ انسانی بال سے بھی ہزار گنا کم باریک ہوں گی۔ یہ ننھی ننھی میشنیں اتنی باریک ہوں گی کہ انھیں انسانی جسم میں ڈالا جا سکے گا جہاں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ دوا پہنچا سکیں گی۔ مثلاً ان کے استعمال سے کینسر کی دوا ان خاص خلیوں تک پہنچائی جا سکی گی جو کیسنر سے متاثر ہوں گے۔ مالیکولر مشینوں کا تصور پیش کرنے کا سہرا اکثر مشہور ماہر طبیعیات رچرڈ فائن مین کو جاتا ہے۔ 1959ءمیں کیلیفورنیا میں لیکچر دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ مادے کی تہہ (مالیکول کی سطح) کو دیکھا جائے تو وہاں اب بھی کام کرنے کی بہت جگہ موجود ہے۔ انھوں نے یہ خیال بھی متعارف کرایا تھا کہ ایک دن طب کے شعبے میں اتنی چھوٹی میشنیں بنانا ممکن ہو جائے گا کہ جن کے استعمال سے ایسا محسوس ہو گا جیسے آپ کا سرجن آپ کے جسم میں داخل ہو گیا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کے میدان میں مستقبل میں مزید سمارٹ میٹیرئل بھی بنائے جا سکیں گے۔ کیمیا کے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کے رکن اولوف رامسٹروم کا کہنا تھا کہ ان 'تینوں ماہرین نے مالیکول کی سطح پر چیزوں کی نقل و حرکت پر عبور حاصل کیا ہے۔

متعلقہ خبریں