اگر کوئی آپ کی گاڑی کے وائپر پر اپنی شرٹ لپیٹ کر چلا جائے تو اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔ایسی بات سامنے آگئی جس کے بارے میں جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

2017 ,فروری 25



واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ کی غیر موجودگی میں کوئی نامعلوم شخص آپ کی گاڑی کے وائپر کے ساتھ شرٹ لپیٹ جائے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ بظاہر تو یہ ایک لایعنی بات لگتی ہے، لیکن برطانیہ میں ایک لڑکی کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا تو اس نے اسے اغواءکی کوشش قرار دے کر نہ صرف پولیس کو متحرک کر دیا، بلکہ انٹرنیٹ صارفین کو اغواءکاروں کی چالبازی سے خبردار کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بھی رخ کر لیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 19 سالہ ایشلی ہارڈاکرے اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد گھر روانہ ہونے کے لئے جینسے ویلی مال پر واقع اپنے دفتر کی پارکنگ میں پہنچیں۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی ہی تھیں کہ انہیں ونڈ سکرین پر پڑی نیلے رنگ کی مخملی شرٹ نظر آئی۔ ایشلی کا کہنا ہے کہ پہلے تو ان کے دل میں خیال آیا کہ کسی نے بے دھیانی میں شرٹ ان کی گاڑی پر پھینک دی ہے، لیکن پھر انہوں نے دیکھا کہ شرٹ کو وائپر کے ساتھ لپیٹا گیا تھا۔ انہیں اپنے والدین کی ایک نصیحت یاد آئی، اور انہوں نے انٹرنیٹ پر بھی اس بات کے متعلق کئی بار پڑھا تھا، کہ بعض جرائم پیشہ گروہ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے لئے یہ تکنیک استعمال کرسکتے ہیں۔ گاڑی کی ونڈ سکرین پر چپکائے گئے کسی اشتہار یا وائپر پر لپیٹی گئی کوئی چیز ہٹانے کے لئے جونہی کوئی لڑکی یا خاتون گاڑی سے باہر نکلتی ہے تو آس پاس چھپے مجرم اسی کی گاڑی میں اسے اغواءکر کے لے جاتے ہیں۔ایشلی نے یہ سوچ کر شرٹ ہٹانے کی بجائے وہاں سے گاڑی بھگائی اور ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر وائپر میں اٹکی شرٹ نکالی۔ انہوں نے فوری طور پر فیس بک پر ایک پوسٹ بھی کی جس میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتائیں اور سب کو خبردار کیا کہ اغوا کاروں کی اس تکنیک سے آگاہ رہیں۔ ان کی یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور اب تک ایک لاکھ مرتبہ سے زائد مرتبہ اسے شیئر کیا جاچکا ہے۔دوسری جانب پولیس نے بھی فوری طور پر ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ بالآخر مشی گن شہر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو پکڑلیا گیا، جو سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں شرٹ ایشلی کی گاڑی پر اٹکاتے دیکھے جاسکتے تھے۔ نوجوانوں نے بتایا کہ یہ محض ایک مذاق تھا اور وہ گاڑی پر شرٹ ڈالنے کے بعد وہاں سے رخصت ہوگئے تھے، انہیں معلوم نہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور ان کی بات بھی قابل یقین محسوس ہوتی ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں مزید قانونی کارروائی نہیں کی جارہی۔ لیکن پھر بھی انہیں آگے سے محتاط رہنے کی تنبہی کی گئی۔۔کیونکہ ان کی اس طرح کی حرکت کسی کو بھی حراساں کر سکتی ہے اور پھر ان کے لیے پریشانی کھڑی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں