انڈیا میں یکساں سول کوڈ لانے کی تیاری اقلیتیں پریشان،مسلمان صدمے سے دوچار

2016 ,دسمبر 5



 کولکتہ(بی بی سی)یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں انڈیا کے مشرقی شہر کولکتہ کے پاک سٹریٹ میں نوجوانوں سے ملاقات کی گئی جہاں انھیں چائے سے لطف اندوز ہوتے دیکھا جا سکتا ہے

'یکساں سول کوڈ' یا 'یونیفارم سول کوڈ' اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ لیکن اس کی صدا بنیادی طور پر آر ایس ایس جیسی ہندو قوم پرست تنظیموں کی طرف سے ہی بلند کی جاتی رہی ہے اسی لیے شاید یہ تنازع کی وجہ بھی ہے۔

ہندوستان کے آئین میں ملک میں یکساں سول کوڈ لانے کی بات کی گئی ہے جس کے تحت، شادی بیاہ، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے عائلی قوانین کو بلا تفریق مذہب و ملت یکساں بنانا ہے۔

مسلمان عام طور پر یکساں سول کوڈ کو اپنے مذہبی امور میں مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ لانے کی کوشش سے ملک میں خلفشار پیدا ہو گا اور وہ متحد ہو کر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کریں گی۔

ان کا موقف ہے کہ دستور ہند میں سب کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کا حق حاصل ہے۔

کولکتہ میں مسلم پرسنل لا کے لیے کام کرنے والی خاتون عظمیٰ عالم کا کہناہے: 'میں یکساں سول کوڈ کے خلاف ہوں کیونکہ اسلام میں ہمارا اپنا قانون ہے جو کہ کسی کا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ ہم لوگ اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اگر ہم اس کی تفصیل میں جائیں تو ہمیں ہماری بہتری اسی میں نظر آتی ہے۔'

مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں متحد ہیں اور قانونی اور جہموری طریقے سے اس کی مخالفت کریں گی

مسلمانوں کے درمیان وسیع نظریہ یہ ہے کہ خواتین کو شریعت میں مناسب تحفظ حاصل ہے اور کولکتہ کے نوجوان بھی اس سے اتفاق رکھتے ہیں۔

راشدہ پروین کا کہنا ہے: ہو سکتا ہے کہ یکساں سول کوڈ میں خواتین کو کچھ حقوق مل جائیں لیکن اسلام میں بھی تو خواتین کو حقوق حاصل ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے لیے جو قوانین بنائے ہیں اس میں ہمارے لیے بہتری ہے۔'

ایک دوسری طالبہ نسرین کا خیال ہے: 'میرے خیال سے خواتین کو اسلام سے زیادہ تحفظ کہیں اور حاصل نہیں ہے۔ ہمارے اسلامی قوانین میں ہمارے لیے خاطر خواہ سہولیات موجود ہیں۔'

جبکہ جائیداد کی تقسیم کے بارے میں ایک طالبہ سعدیہ نے بتایا: کہ اسلام میں بھی تو لڑکیوں کو حقوق حاصل ہیں۔ آپ کو اپنا حق بھی مل رہا ہے اور شوہر کی جائیداد میں بھی حصہ مل رہا ہے، تو وہ کہیں نہ کہیں برابر سے زیادہ ہو جا رہا ہے تو پھر ہم یکساں سول کوڈ کے حق میں کیوں جائيں گے؟

 عظمیٰ عالم کا خیال ہے کہ ان کے عائلی قانون میں خواتین کو خاطر خواہ تحفظ حاصل ہے اور وہ یکساں سول کوڈ کے خلاف ہیں

حکومت نے اب یویفارم سول کوڈ وضع کرنے کے لیے عوام سے ان کی رائے معلوم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے کیونکہ انڈیا کے سماج میں عملاً خواتین کے حقوق کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

ماہرینِ قانون تسلیم کرتے ہیں کہ اگر یکساں سول کوڈ بنتا بھی ہے، تو اس میں صرف ہندوؤں کے سول قوانین ہی شامل نہیں ہوں گے۔

انڈیا میں لا کمیشن کے سابق رکن اور یونیفارم سول کوڈ اور مسلم پرسنل پر کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر طاہر محمود کا کہنا ہے: 'ابھی تک یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں کسی قسم کا کوئی ڈرافٹ پیش نہیں کیا جا سکا ہے اور اکثریتی برادری اور اقلیتی برادریاں سب اس کے بارے میں لاعلم ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'اس پر کسی کو خوش ہونے یا کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اکثریتی برادری سمجھتی ہے کہ تمام پرسنل قوانین کو مسترد کر کے انھی کا پرسنل لا یونیفار سول کوڈ کا حصہ ہوگا اور اقلیت اس بات سے گھبراتی ہے۔ تو انھیں اس کی مطلق فہم نہیں۔'

تاہم انھوں نے کہا کہ 'مسلم پرسنل لا میں ترمیم کی سخت ضرورت ہے۔ مسلمان جسے اپنا قانون سمجھ رہے ہیں دراصل وہ انگریزوں کا تیار کردہ ہے اور بہت جگہ وہ قران سے متصادم ہے۔'

 

 عالیہ یونیورسٹی کی بہت سی طالبہ کا خیال ہے کہ مسلم خواتین کو اسلامی قوانین میں تحفظ حاصل ہے

یاد رہے کہ سنہ 1937 میں مسلمانوں میں شادی، طلاق، نان و نفقہ اور وراثت جیسے سماجی مسائل کے حل کے لیے انگریزی حکومت کے ایما پر ایک مسلم پرسنل لا تیار کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر آج بھی فیصلے ہوتے ہیں۔ بعض مسلمان اس میں ترمیم چاہتے ہیں اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان یکسانیت پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں۔

'عالیہ یونیورسٹی' کی طالبہ سعدیہ ناز کا کہنا ہے کہ 'جس طرح آج کل کا ماحول ہے ایسی صورت میں خواتین کو ہر جگہ برابری کا موقع دیا جانا چاہیے تب ہی صورت حال میں بہتری آ سکے گی۔'

جبکہ کولکتہ یونیورسٹی کے طالب علم ابرار عالم کا خیال ہے کہ 'مسلمانوں میں بعض اختلافات ہیں لیکن انھیں مذہب کے اندر ہی قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔'

 

پروفیسر طاہر محمود کا خیال ہے کہ مسلم پرسنل لا میں ترمیم کی سخت ضرورت ہے

ایک طالبہ محبوبہ خاتون نے کہا کہ 'قانون بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، لوگوں کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر انسانوں کی سوچ بدلے گی تو سب کچھ بدل جائے نہیں تو پھر کسی قانون سے کچھ نہیں ہوگا۔'

بہرحال، حکومت نے فی الحال کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے، وہ یونیفارم سول کوڈ کے حق میں تو ہے لیکن اسے عملی شکل دینے سے ہچکچاتی ہے۔

شاید اس لیے کہ یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔

متعلقہ خبریں