سلطنتِ علم برائے عمل

2016 ,دسمبر 12

ڈاکٹر منور صابر

ڈاکٹر منور صابر

من کہی

munatwar@hotmail.com



 

دنیا کی سب سے قدیم تہذیب میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق) کو مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا میں دیگر کئی تہذیبوں کا احیاءبھی ہوا مگر دنیا کی پہلی تہذیب جس نے معاشرتی اور سائنسی علوم کی بنیاد رکھی اور جن کا علم آنے والی تہذیبوں تک پہنچا بلکہ ان کے علوم کی بنیاد بنا وہ اہل یونان کی تہذیب ہے۔ آپ نے سقراط‘ افلاطون‘ ارسطو اور سکندر اعظم کے نام علم و دانش کے استعارہ کے طور پر سنے ہوں گے۔ یہ چاروں لوگ بالترتیب استاد شاگرد تھے اور ان سب کا تعلق یونان سے تھا۔ اہل یونان کا دور تقریباً 600 قبل مسیح سے شروع ہوا۔ یونان کے بعد قریبی سلطنت رومن Empire ابھری اور علم تحقیق کو آگے بڑھایا۔ 400 عیسوی میں یونان اور رومن Empire (موجودہ اٹلی) طوائف الملوکی کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں علم و تحقیق کا سلسلہ بھی انحطاط پزیر ہو گیا چونکہ پوری دنیا کا یہ واحد مرکز تھا جہاں انسانیت کی بھلائی یعنی سائنسی علوم پر کام ہو رہا تھا اور یہ Seat of Learning بند ہو جانے پر تاریخ دان اسے DARK AGE سیاہ دور کے نام سے گردانتے ہیں۔ اس کے بعد عرب سرزمین سے 571 میں نبی مکرم و محترم ﷺکی ولادت باسعادت ہوئی۔ 611ءمیں نبوت ’اقرائ‘ کے درس سے شروع ہوئی۔ دین برحق اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات ماننے کی سب سے بڑی وجہ دنیاوی منشور ہے جس کے تحت انسانیت کی برابری اور تکمیل کا پرچار شروع ہوا۔ پاک نبی نے اپنی نبوت کے دو بڑے مقاصد اخلاق کی تکمیل اور معلم ہونا قرار دیئے۔مسیحی دانشور مائیکل ہارٹ کی مشہور زمانہ کتاب ”دنیا کی 100 عظیم ترین ہستیاں“ میں پاک نبی کو پہلا درجہ دینے کی وجوہات دنیاوی طور پر سماجی‘ سیاسی‘ معاشی ٹھوس اور دوررس اصلاحات ہیں جن سے پوری دنیا نے سبق حاصل کیا۔ 8 ویں صدی میں عراق کے ایک شہر کو مرکز بنا کر مسلمان سائنسدانوں نے علم و دانش کا اہل یونان سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور علم کی ہر ممکنہ شاخ میں نہ صرف اپنا حصہ ڈالتے ہوئے آگے بڑھایا بلکہ نئے علوم کی بنیاد بھی رکھی۔ اس میں سب سے بڑا نام ابن خلدون کاہے جنہوں نے علم Sociology کی بنیادی مفصل کتاب مقدمہ کی شکل میں رکھی۔ بو علی سینا کو طب (Medicine) کا بانی مانا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے بعد 15 ویں صدی میں جب یورپ میں نشاَةِ ثانیہ Renaissance ہوا تو درس گاہوں میں مسلمان سائنسدان کی کتابیں ہی نصاب کے طور پر پڑھی اور پڑھائی گئیں۔ اگرچہ اہل مغرب بعض اوقات اس چیز کا اقرار کرتے ہوئے دیانت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ابن خلدون کا علم بشریات Sociology کے بانی کے طور پر نہ مان کر کرتے ہیں حالانکہ آپ Sociology کی کوئی بھی کتاب پڑھیں تو اس میں ابن خلدون کی اصطلاحات بالخصوص ابن خلدون کی تھیوری جو انہوں نے قوموں کے عروج و زوال پر پیش کی‘ کا ذکر ضرور ملے گا۔ جو یہ مہر ثبت کرتا ہے کہ Sociology کے بانی مسلم مفکر ابن خلدون ہی ہیں۔ مسلمانوں کی علمی برتری یعنی دنیا کو Rule نہیں رہنمائی Leadership کا دور 14 ویں صدی تک جاری رہا۔ اس کے بعد یورپ میں برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس اور دیگر علم کے گہواروں نے تمام تر رہنمائی مسلمانوں کی کتب سے ہی حاصل کی تھی۔ قارئین تھوڑا غور کریں آج کی مسلم دنیا کو اپنا حریف ماننے اور انتشار میں مبتلا رکھنے کی مغربی سوچ کی وجہ صرف یہی ہے کہ اگر مسلمان ممالک اپنے عقیدے کی اصل روح کی طرف مائل ہو گئے تو وہ دوبارہ علم و تحقیق کی طرف ایمان کے حصے کی طور پر ہو جائیں گے اور دوبارہ عروج پکڑ سکتے ہیں۔ جس کا اشارہ بہت سارے مفکر مسلم نشاة ثانیہ کے نام سے دیتے ہیں۔ قارئین اسلام وہ مذہب ہے جس نے 1400 سال پہلے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا تھا۔ عورت کو جائیداد میں وراثت کا حقدار ٹھہرایا۔ ایک مسلمان کے لئے جنت ماں کے قدموں کو قرار دیا گیا۔ بیٹی کی پرورش کرنیوالے کو جنت کی بشارت دی گئی۔ مرد سے نسل چلنے کے فرسودہ خیال کو متروک قرار دیا۔ واضح رہے کہ جمہوریت کے دعویدار مغربی ممالک میں تعلیم اور ووٹ کا حق عورتوں کی باقاعدہ تحریکوں کے نتیجے میں 1920ءمیں حاصل ہوا۔ جدید دنیا کے دو بڑے نظام Capitalism اور کمیونزم 18 ویں اور 19 ویں صدی کی پیداوار ہیں مگر ان دونوں نظاموں سے پہلے اسلامی نظام ایک مکمل اور قدرتی منشور کے طور پر موجودتھا۔ اسی لئے علامہ اقبال نے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ سوشلزم کوئی نیا نظام نہیں۔ یہ سارا اسلام سے لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سوشلزم جو کہ کمیونزم کی نرم شکل ہے اور تمام انسانوں کی معاشی برابری کو تمام انسانی مسائل کا حل قرار دیتا ہے۔ سارے کا سارا اسلامی تعلیم کا حصہ ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول کہ فرات کے کنارے اگر کتا بھوکا مرا تو عمرؓ جواب دہ ہے۔ اس قول پر غور کریں کتے کے کھانے کو تب ہی کچھ میسر ہو گا اگر انسانوں نے پیٹ بھر کر کھایا ہو گا۔

پاک نبی کی ذات صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کےلئے ذریعہ نجات ہے کیونکہ مذہب اسلام ہی علم برائے عمل کی وہ بنیادی سلطنت ہے جس نے صرف اہل عرب ہی نہیں پوری دنیا کو Dark Age سے نکالا تھا۔

 

متعلقہ خبریں