عدالتی مراعات اور کارکردگی

2022 ,فروری 7



افلاطون کے مطابق نام نہاد انصاف بدترین انصاف ہے۔ افلاطون کا یہ قول ہمارے عدالتی نظام کی بھر پور عکاسی کر تا ہے۔ کمیشن برائے قانون و انصاف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں زیر التواء مقدمات کی تعداد2.15ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور ان میں سے 390,713مقدمات اعلی عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں دیر کا مطلب انصاف مہیا کرنے سے انکار کے مترادف ہے۔ ہم نام نہاد انصاف کے نام پر معصوموں کوپھانسی کے پھندے پر لٹکا دیتے، جیلوں میں بند کر دیتے اور مجرمین کو بری کر دیتے۔ملک میں انصاف کی عدم دستیابی کے برعکس سپریم اور ہائی کورٹ کے تقریبا134جج صاحبان عوامی ٹیکسوں سے ماہانہ159ملین روپے تنخواہوں کی مد میں وصول کر تے ہیں۔ اس کے علاوہ شیفر کاریں،500لیٹر پٹرول65,000سے زائد رہائشی کرایہ، تعلیم مفت، علاج مفت، سفر مفت، بلوں کی ادائیگی سے استثی،فون مفت، پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں، یومیہ الاونس، مہنگائی الاونس، مہمان الاونس اور دیگر مراعات تنخواہ کے علاوہ ہیں۔ یہ سب پیسہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے غریبوں کی خون پسینے کی کمائی سے جاتا ہے اورغریب انصاف کے لیے ترستاہے۔ سپریم کورٹ کا ہر جج ماہانہ 799,699سے زیادہ رقم تنخواہ کے طور پر وصول کر تا ہے، 370,597سپریئر جوڈیشل الاونس اور قیام گاہ کے کرائے کی مد میں وصول کر تا ہے۔ اس طرح ہر جج1.7ملین روپے وصول کر تا ہے اور اس میں رہائش کا کرایہ شامل نہیں ہے۔ اعلی عدلیہ کے ججوں کی کل تنخواہ اور جوڈیشل الاونسز ملا کر رقم17.5ملین ماہانہ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اگر اس رقم میں چیف جسٹس کی تنخواہ شامل کر لی جائے تو یہ رقم18.71ملین سے تجاوز کر جاتی ہے۔ پاکستان میں اعلی عدلیہ کے ججزتنخواہوں کی مد میں سالانہ8.9ملین روپے وصول کر تے ہیں۔ ان بھاری تنخواہوں کے علاوہ 15%میڈیکل الاونس، دو شیفر کاریں،600 لیٹر پٹرول،5000سے زیادہ یومیہ الاونس، ٹکٹوں پر رعایت، تمام بلات سے خلاصی، تعلیم، فون اور دیگر مراعات اور سہولیات شامل ہیں۔ پنجاب کے اعلی ججزعوامی ٹیکسوں سے ماہانہ1.05ملین روپے وصول کر تے ہیں۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ784,608سے زیادہ ماہانہ تنخواہ،296,477روپے سپریم جوڈیشل الاونس، 65,000رہائشی کرایہ کے علاوہ دیگر متذکرہ مراعات اور سہولیات سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پانچ چیف جسٹس صاحبان اور گلگت بلتستان کے چیف جسٹس ماہانہ 6.48ملین روپے وصول کر تے ہیں۔اسی طرح ہائی کورٹس کے ججز754,432روپے ماہانہ تنخواہ جبکہ296,477روپے سپریم جوڈیشل الاونس کی مد میں وصول کرنے کے علاہ رہائشی کرائے کی مد میں بھاری رقم وصول کر تے ہیں۔ ملک بھر میں ہائی کورٹ کے تقریبا128 ججز ہیں او ر ان کی مجموعی ماہانہ تنخواہ کا حجم134ملین سے تجاوز کر جاتا ہے۔غریب پیٹ پہ پتھر باندھ کر انصاف کی فراہمی کے لیے یہ بھاری رقوم ٹیکسوں کی مد میں دیتا ہے مگر ہمارا عدالتی نظام اتنا خراب ہو چکا ہے کہ ہم عدالت سے انصاف کی امید لگانے کے بجائے روز محشر حساب لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں موجود عدالتی نظام ظالمانہ اور استحصالی ہے۔ سرکاری اور سول بیورکریسی اس عدالتی بدانتظامی کی ذمہ دار ہے۔یہ وقت کی عین ضرورت ہے کہ غریب کا استحصال ختم کیا جائے۔ ایک ایسا ملک جہاں 25.3%سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہوں، جن کی ماہانہ آمدن3030روپے ہواور وہ انصاف کے لیے اتنی بھاری رقوم ادا کرنے کے باوجود انصاف سے محروم رہیں تو اس سے بڑا المیہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی سول سروس میں گریڈ 22کا افسرماہانہ تقریبا300,000بنیادی تنخواہ، الاونسز اور دیگر مراعات لیتا ہے جو عام آدمی کی ماہانہ اوسط آمدن 16400سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ہائی کورٹ او ر سپریم کورٹ کے ایک جج کی کل ماہانہ تنخواہ، الاونسسز اور مراعات عام آدمی کی ماہانہ آمدن سے 80سے 100گنا زیادہ ہے۔اگر ہم پاکستان کا موازنہ امریکہ کے سپریم کورٹس کے ججز سے کریں توامریکی سپریم کورٹ کا جج244000امریکی ڈالر وصول کر تا ہے جو عام امریکی کی ماہانہ آمدنے سے محض4 گنا زیادہ ہے اور مغربی ممالک میں لوگ انصاف کے لیے روز محشر کے بجائے عدالت سے لینے کی بات کر تے ہیں۔ پاکستان میں اشرافیہ غریبوں کے پیسوں پر اپنے آپ کو امیر سے امیر تر کرتی جا رہی ہے جبکہ غریب روز بروز غریب سے غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ملک کے پوش علاقوں میں قومی ملکیتی زمینیں اونے پونے داموں اشرافیہ میں تقسیم کی جاتی ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے یہ اشرافیہ کس بے دردی سے قومی اثاثہ جات کی بندر بانٹ میں مگن ہے۔ ریاست مدینہ میں توغریبوں کی ضروریات پوری کی جاتی تھیں جبکہ یہاں غریب کو امیر کی قربان گاہ پر ذبح کیا جا رہا ہے۔ قومی اراضی سے ملک کے پوش علاقے میں ایک کنال کا پلاٹ اشرافیہ اور بیوروکریسی کو الاٹ کرنے کا مطلب ہے غریب آدمی کی جیب سے تقریبا 20ملین ہتھیا لیے گئے ہوں۔ قانون کی من پسند چھتری کے نیچے ان غیر قانونی اقدامات کو قانونی تحفظ مہیا کیا گیا ہے۔منتخب کردہ یا غیر منتخب کر دہ حکومتیں اس ناسور کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا اس کی آبیاری بھی انہی نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر کی ہے۔ کوئی بھی دلیل ناانصافی کودرست ثابت نہیں کر سکتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے اس ملک میں انصاف زبانی جمع خرچ اور دعووں تک محدود ہے۔ مقتدرہ کو چاہیے کے وہ عدالتی ریفارمز کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد بحال ہو اور عام آدمی کے خون پسینے کی کمائی کے ٹیکسوں کے پیسوں کے بدلے انصاف ملے اور لوگ اپنا حق لینے کے لیے قیامت کا انتظار نہ کریں.

متعلقہ خبریں