سقوط کے گھاؤ

2022 ,دسمبر 15



تحریر فضل حسین اعوان 
سقوطِ مشرقی پاکستان کے حوالے سے یادیں دلخراش ہیں۔ یہ سانحہ کس وجہ سے پیش آیا۔ اس پر بدستور گرد پڑی ہوئی ہے۔ حمود الرحمن کمیشن بنا۔ اس کی رپورٹ سرکاری طور پر کبھی سامنے نہیں آئی۔ اگر آئی بھی تو بھارت میں لیک ہو کر ”امپورٹ“ ہوئی۔ سقوط کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کمیشن کو مینڈیٹ ہی نہیں دیا گیا۔ اس کو یہ فرائض سونپے گئے تھے۔" وہ ان حالات کی تحقیقات کرے، جن کے تحت کمانڈر، ایسٹرن کمانڈ اور ان کے زیر کمان پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈالے، بھارت اور مغربی پاکستان کی سرحدوں پر جنگ بندی کے احکامات صادر کیے گئے نیز جموں اور کشمیر کی سیز فائر لائن پر بھی جنگ بندی کا حکم دیاگیا۔"باقی سب اپنی جگہ وجوہات کا تعین ضروری تھا اور بدستور ہے۔

کردارِ سقوطِ ڈھاکہ | Jasarat Blog
ہر سال آج تک16دسمبرسے قبل 71ءمیں لگنے والے گھائل کرنے والے گھاؤ پھر سے ہرے ہونے لگتے ہیں۔ ٹیسیں اٹھتی ہیں اور مظلوموں کی سسکیاں اور سسکاریاں چیخیں بن کر جگر چھلنی کر دیتی ہیں۔70کے انتخابات کے نتائج کو ہمارے ملک کی ”ٹو ان ون“ فوجی و سیاسی قیادت تسلیم کر کے اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو حق حکومت دے دیتی تو شاید ہم اس انسانی المیے سے بچ جاتے جو بدستور جاری ہے۔یحییٰ خان مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اورطاقور صدر پاکستان تھے۔ انکی غلط پالیسیاں، کچھ ان کی اور کچھ سیاستدانوں کی حوسِ اقتدار بھی بنگالیوں کے اشتعال کا سبب بنی۔
مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا وہ یقینا انسانیت سوز ہے مگر ”گوئبلائزیشن“نے بہت سے حقائق پرجھوٹ کی گردڈال دی۔ شیخ مجیب سمیت کئی باغی بنگالی سیاستدان 30لاکھ بنگالیوں کے قتل اور لاکھوں کی تعداد میں خواتین کی عزتوں کی پا مالی کا پراپیگنڈا کرتے ہیں جبکہ ان لاتعداد انسانوں کے قتل کو بھول جاتے ہیں جن کو مکتی باہنی نے باغیوں کے ساتھ مل کر تہہ تیغ کیا۔الطاف حسن قریشی صاحب سے کل ملاقات ہوئی،ہیومینٹی انٹرنیشنل کے چیئرمین احتشام ارشد نظامی صاحب کی خواہش پر16دسمبر کے حوالے سے الطاف قریشی، مجیب الرحمن شامی، ارشاد احمد عارف، کرنل زیڈ آئی فرخ اور عبدالروؤف(50منٹ پروگرام والے) کے انٹرویوز کئے جو آج سولہ دسمبر کو نظامی صاحب اپنے چینل پر چلا رہے ہیں۔ الطاف حسن قریشی سقوط کے کچھ عرصہ بعد ڈھاکہ گئے، ان کو وہ عقوبت خانہ دکھایا گیا جہاں پاکستانیوں کو ذبح کیا جاتا رہا تھا۔ اس عقوبت خانے کو کئی بار دھویا گیا اس کے باوجود خون کی تین چار انچ تہہ جمی ہوئی تھی۔ یہ قتل عام باقاعدہ پلاننگ کے تحت کیا گیا۔ آمادہ بغاوت بنگالیوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہوئیں۔ جو بغاوت فروکرنے اور سیلف ڈیفنس میں کی گئیں۔

بنگلہ دیش نے کیا کھویا کیا پایا | Urdu News – اردو نیوز

ان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سیکڑوں ہزاروں میں تو ہو سکتی ہے۔ ان کو لاکھوں بتانا گوئبلائزیشن، جھوٹ اور بہتان ہے۔ اموات جس طرف سے بھی ہوئیں یہ ایک المیہ ہے۔ کاش یہ الیہ نہ ہوتا اگر ہوا بھی تو اُسی دورتک محدود رہتا مگر وہ بدستور اس صورت میں جاری ہے کہ اب بھی وہاں تین لاکھ، بقیہ البارود پاکستانی انسانی حقوق سے یکسر محروم بے بسی کی تصویر بنے اپنے وطن آنے کی راہیں دیکھ رہے ہیں۔ وہ کون ہیں؟ کہاں سے آئے؟ کیوں آئے؟ کب آئے؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے ایک ایسے شخص سے گفتگو کی جس کا اپنا خاندان ایسے ہی لوگوں میں شامل تھا۔ یہ احتشام ارشد نظامی ہیں۔آجکل وہامریکہ میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔حالیہ دنوں آئے تو ان سے ملاقاتیں ہوئی اس دوران انہوں نے کچھ اپنے بارے بتایا،کچھ باتیں دہرائیں اور کچھ انکشافات کئے۔احتشام نظامی کہتے ہیں۔"میرا بچپن مشرقی پاکستان میں گزرا۔ میں نے ڈھاکہ سے سکول کی تعلیم حاصل کی۔ ہائی سکول کے بعد انٹرمیڈیٹ بھی وہاں سے ہی کیا۔ مزید تعلیم کیلئے والدین نے مغربی پاکستان بھیج دیا۔ اس کے بعد مجھے اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانا تھالیکن میرے مغربی پاکستان آنے کے ایک سال بعد ہی سقوط ڈھاکہ ومشرقی پاکستان ہو گیا۔ وہاں میرے والدین پھنس گئے۔ بے شمار وہ لوگ جو بھارت کے اقلیتی صوبوں سے1947ءمیں نقل مکانی کر کے مشرقی پاکستان گئے تھے۔ زیادہ تر لوگ ریلوے کا اورٹیلی فون ڈیپاٹمنٹ کا نظام چلاتے تھے۔وہ ہنر مند تھے اس لیے قائداعظم نے انہیں کہا تھا کہ وہ پاکستان آ کر پاکستان کے لیے کچھ کریں۔ لہٰذا وہ لوگ پاکستان آ گئے۔کچھ لوگ مغربی پاکستان آئے کچھ لوگ مشرقی پاکستان گئے۔ جو لوگ مشر قی پاکستان گئے وہ قائداعظم کی دعوت پہ گئے تھے۔انہوں نے پاکستان کوOPTکیا تھا ہجرت نہیں کی تھی۔
23برس بعد بلکہ اس سے بھی پہلے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلنے لگی۔مقامی لوگ اور سیاسی جماعتیں جو علیحدگی کی تحریک چلانے والی تھیں وہ یہ توقع کر رہی تھیں کہ یہ لوگ بھی ہمارا ساتھ دیں جو نظریاتی طور پر ممکن نہیں تھا ۔یہ لوگ پاکستان کے خلاف نہیں جا سکتے تھے۔ انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور یہی ان کا جرم بن گیا۔جب بنگلہ دیش بن گیاتو طاقت میں آنیوالوں نے ان سے بدلہ لیا۔ بہت بڑی تعداد میں ان لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ جو لوگ بچ گئے انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا۔کاروبار ختم نوکریوں سے نکال کرکیمپوں میں ڈال دیا گیا۔

سقوط ڈھاکہ کے حقائق کو کس طرح منظم طریقے سے حذف کیا گیا
 میرے والدین انڈیا کے اقلیتی صوبہ بہارسے آئے تھے۔ پاکستان آنے والے لوگوں کا تعلق کسی ایک صوبہ سے نہیں تھا۔اس میں آسام، تری پورہ، یو پی اور اس کے علاوہ مغربی پاکستان سے گئے ہوئے پٹھان، پنجابی، بلوچی یہ سب بھی وہاں رہتے تھے۔ جو لوگ مغربی پاکستان سے گئے تھے وہ وہاںغیر بنگالی تھے ۔وہ واپس مغربی پاکستان آگئے انکا تبادلہ ہو گیا۔ مسئلہ ان کے لیے بناجو انڈیا سے آئے تھے یا بہار، تری پورہ، آسام سے آئے تھے۔
دوبا ہونیوالے قتل میںفوج کے لوگوں سمیت5سے 10لاکھ لوگ مارے گئے۔ جو لوگ بچ گئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے انہیں کیمپ بنا دیئے۔ ان کیمپوں میںان کی تعداد5لاکھ40ہزار تھی۔1973ءمیں دہلی میں انڈیا، بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین ایک دوسرے ملک میں پھنسے ہوئے لوگوں کے تبادلے کامعاہدہ ہوا۔پاکستان میں جو بنگالی تھے انہیں بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش میں جو پاکستانی رہ گئے تھے ان کو مغربی پاکستان لانا تھالیکن افسوس کہ اس وقت کی بیوروکریسی نے ان غیر بنگالیوں کو لینے سے انکار کر دیا ۔ پھر اس میں کچھ پیش رفت ہوئی اور کچھ لوگوں کو لے لیا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ 73ہزار لوگ ری پٹری ایشن سکیم کے تحت 1974ءمیں آئے۔بنگلہ دیش میں اب بھی تین لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ان کو پاکستان لانے اور بسانے کے فنڈز موجود ہیں مگرملی جذبے اور روایتی اخوت کا فقدان ہے۔" ارشدنظامی نے آخر میں دعا کی کہ اللہ حکمرانوں کو ایسے جذبہ ایمانی سے سرشار کردے جس کے تحت بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانی اپنے وطن آسکیں۔

سقوط ڈھاکہ: تاریخ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ

متعلقہ خبریں