نئی نویلی دلہن سے شوہر نے ایسا مطالبہ کیا جس کا جواب دولہا کی ساری زندگی کے لیے یاد گار بن گیا۔۔جان کر آپ حیران بھی ہوں گے اور لڑکی کو داد بھی دیں گے۔

2017 ,فروری 5



نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) برصغیر پاک و ہند میں عام پائی جانیوالی جہیز کی لعنت بے شمار لڑکیوں کے گھر برباد کر چکی ہے۔ جہیز کے تقاضے پورے نہ کرپانے پر اکثر لڑکی والوں کو ہی مصائب کا نشانہ بننا پڑتا ہے مگر بھارت میں ایک لڑکی نے جہیز کا مطالبہ کرنیوالے اپنے لالچی سسرال کو ایسا سبق سکھایا کہ ان کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق لکھنو کے داھا گاﺅں سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ محسنہ کی شادی بگھوان پور نانگلہ گاﺅں کے نوجوان محمد عارف سے ایک ہفتہ قبل ہوئی تھی۔ لڑکی کی والدہ انوری بیگم نے بتایا کہ وہ بیٹی کو رخصت کر کے ابھی اطمینان کی سانس بھی نہ لے پائی تھیں کہ اس کا ٹیلی فون آگیا۔دراصل، نئی نویلی دلہن کے سسرال نے بہو کو گھر لاتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جہیز کے طور پر بھاری رقم اور نئی کار کا مطالبہ کر دیا۔ انوری بیگم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو نئی زندگی کے آغاز کیلئے تمام ضروری سامان دے کر رخصت کیاتھا مگر اس کے سسرال کے ناقابل یقین لالچ نے انہیں حیران کر دیا۔ انوری بیگم نے بیٹی سے کہا کہ وہ فوری طور پر سسرال کا گھر چھوڑنے کی تیاری کر لے اور پھر ان کے گاﺅں سے تقریباً 50 افراد فوری طور پر بگھوان پور نانگلہ پہنچے اور دلہن کو واپس لے آئے۔ محمد عارف اور اس کے لالچی والد محمد ستار نے دلہن کے جانے کے بعد پنچائت بلا لی۔ اتوار کے روز منعقد ہونے والی پنچائت میں گاﺅں کے بڑوں کے علاوہ تقریباً500 افراد موجود تھے۔ پنچائت نے فیصلہ کیا کہ جہیز پر پابندی کے باوجود دلہن سے رقم اور کار کا مطالبہ کرنے پر دولہا فوری طور پر دلہن کو سب کے سامنے ٹیلی فون کر کے معافی مانگے، مگر جب محمد عارف نے فون کا سپیکر آن کر کے دلہن کو کال کی اور معافی کا طلبگار ہو ا تو دوسری جانب سے انتہائی مختصر جواب آیا ”طلاق ، طلاق ، طلاق “ اور پھر فون بند کر دیا گیا۔ بھری پنچائت نے یہ جواب سنا تو اگلا فیصلہ یہ سنایا کہ اب محمد عارف خود ہی دلہن کو طلاق دے دے تاکہ اس شادی کا باقاعدہ طور اختتام ہو جائے۔ لالچی دولہے کو پنچائت کے فیصلے پر لڑکی کو طلاق دینا پڑی اور یوں جہیز کے لالچ نے اس شادی کی ابتداءہوتے ہی اس کا اختتام کر دیا۔ لڑکی کی والدہ انوری بیگم اور اس کے چچا محمد یوسف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو ایسے لالچی لوگوں کے گھر دوبارہ بھیج کر اس کی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے لہٰذا طلاق لینا ان کی مجبوری بن گئی تھی۔ پنچائت نے لالچی سسر محمد ستار پر یہ پابندی بھی عائد کی کہ اس کے خاندان میں آئندہ 3 سال تک کوئی شادی نہیں ہو سکتی جبکہ شادی پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں لڑکی کی والدہ انوری بیگم کو 2 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔جو ان کے لیے اور باقی لوگوں کے لیے سبق ہے جو جہیز کی لالچ میں طرح طرح کے مطالبات کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں