فیض احمد فیض کی کچھ یادیں

2017 ,فروری 13



لاہور(مہرماہ رپورٹ):۔۔۔۔۔۔۔

فیض احمد فیض 
آپ 13 فروری 1911 میں پیدا ہوئے اور 20 نومبر 1983 میں وفات پائی.

فیض احمد فیض کو نقادوں کا ایک طبقہ غالب اور اقبال کے بعد عظیم شاعر گردانتا ہے،یوں کم از کم پاکستان کی سطح پر وہ سب سے بڑے شاعر کے طور پر نظر آتے ہیں.

کچھ لوگ اپنی زبان کی وجہ سے جانے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی وجہ سے ان کی زبان جانی جاتی ہے، مجتبی حسین اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں وہ ایک مرتبہ جہاز میں گورے کے ساتھ سفر کررہے تھے گورے نے ان سے ان کی زبان کے بارے میں دریافت کیا، اردو کا نام سن کر گورا فورا بولا یہ وہی زبان ہے ناں جس میں فیض احمد فیض شاعری کرتے ہیں.

فیض صاحب ایک خوبصورت شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب صحافی بھی تھے، ایک سے زائد اخبارات کی ادارت کی.۔۔
 سیاسی باغی ہونے کے الزام میں گرفتار بھی ہوئے اور ایک لمبا عرصہ جیل کی ہوا کھائی، جیل ہی میں ایک شعری دیوان تصنیف کیا.

تصانیف :10
 مشہور تصانیف :نسخہ ہائے وفا، زنداں نامہ،دست صبا،میرے دل میرے مسافر.

متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
 (فیض احمد فیضؔ)

کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
 مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
 مگر یہ چشمِ حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی

نہیں جاتی متاعِ لعل و گوہر کی گراں یابی
 متاعِ غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی

مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
 بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

سرِ خسرو سے نازِ کجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
 کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی

بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے؟
 جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی

غزل

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
 وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہیں
 تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصتِ گناہ ملی ، وہ بھی چار دن
 دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
 تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روز گار کے

بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ
 مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے

متعلقہ خبریں