”فیک جنرلزم“کے نام پر بلیک میلنگ شروع"

2022 ,فروری 25



کالم نگار: چوہدری عمر نواز سرویا ”ایک سیاسی پارٹی اے نے دوسری سیاسی پارٹی بی کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر پالتو جانور رکھنے پر پابندی لگانے والی ہے، کیوں کہ وہ بہت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بناتے ہیں“ ۔ ”2018ءمیں برازیل میں دائیں بازو کی جماعت نے بائیں بازو کی جماعت کے بارے میں کہا کہ یہ لوگ بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات کو قانونی حیثیت دینا چاہتے ہیں“ ۔ ”کلثوم نواز وفات پا چکی ہیں، میں خود دیکھ کر آیا ہوں، شریف فیملی سیاسی طور پر ان کی لاش کو استعمال کر رہی ہے“۔”اسرائیلی وزیر دفاع نے شام میں داعش کے خلاف مبینہ طور پر پاکستانی کردار پر پاکستان کو نیوکلئیر ہتھیاروں کی دھمکی دی ہے، اسرائیل بھول گیا ہے کہ پاکستان کے پاس بھی نیوکلئیر ہتھیار ہیں، یہ چند ایک مثالیں ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ کیسے انٹرنیٹ پر فیک نیوز یا جعلی، گھڑی ہوئی خبریں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں اور کیسے ان کی وجہ سے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان مخاصمت کا آغاز ہوسکتا ہے۔یا کیسے دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان نفرت کا بیج بویا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے ایک اور مثال پیش خدمت ہے کہ گزشتہ دنوں پینڈورا پیپرز لیک ہونے کے بعد پاکستان میں بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ کئی حکومتی رہنما اور سرکاری افسران اس کی زد میں آئے۔ایسے میں خبر کی دوڑ میں سبقت لے جانے کے لیے بےتاب ہمارے نیوز ٹی وی چینلز بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور جس کے جو منہ میں آیا، جس کو جو نظر آیا اٹھا کر ٹی وی پر نشر کرتا رہا۔اسی اثنا میں پی ٹی وی کے جعلی ٹیمپلیٹ میں کسی نے یہ خبر بھی لکھ ڈالی کہ فلاں سیاستدان کے صاحبزادے کے بھی پانچ آف شور اکاؤنٹس نکل آئے ہیں۔یہ جعلی اسکرین شاٹ اتنی تیزی سے وائرل ہوا کہ کئی ٹی وی چینلز کے اینکرپرسنز نے اپنے براہ راست پروگرامز میں بغیر تصدیق کیے اس کا حوالہ دے دیا اور یوں یہ جھوٹی خبر پورے ملک میں پھیل گئی۔ لہٰذااسی خطرے سے بچنے کے لیے اتوار کے روز صدر مملکت جناب ڈاکٹرعلوی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈی ننس جاری کردیا ۔ اس آرڈیننس کا مقصد جعلی خبریں (فیک نیوز) روکنا بتایا گیا ہے، اور اس فعل کو قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا ہے اور اس الزام میں کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا۔ آرڈی ننس کے مطابق کسی فرد کے تشخص پر حملے کی سزا تین سال سے بڑھا کر 5سال کر دی گئی ہے اور ”تشخص“ کی تعریف میں ایسوسی ایشن، ادارے، تنظیم یا اتھارٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے جو حکومتی قوانین کے تحت قائم کی گئی ہو۔ عدالتوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے کیسوں کا چھ ماہ کے اندر فیصلہ کردیں۔ وغیرہ وغیرہ اس آرڈیننس پر صحافی برادری خوب شور و غوغا کر رہی ہے ،جیسے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان تو پہلے ہی صحافیوں کیلئے غیرمحفوظ ہے اور دنیا میں پاکستان کا دنیا میں 8واں نمبر ہے۔ سینکڑوں صحافی اب تک قتل، اغوا یا لاپتہ ہو چکے ہیں اور مارپیٹ معمول بن چکی ہے۔ اس قانون کے بعد دنیا میں آزادی صحافت کے معاملے میں پاکستان کی رہی سہی ساکھ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر انوسٹی گیٹو رپورٹنگ جو میڈیا کی جان ہوتی ہے، سرے سے ختم ہو جائے گی کیونکہ کسی کو بھی جعلی خبر چلانے کے الزام میں جیل بھیج دیا جائے گا، چاہے اس کے پاس کتنے ہی ٹھوس ثبوت کیوں نہ ہوں اور مقدمہ چلنے پر باعزت بری کیوں نہ ہو جائے۔ بلکہ کئی تنظیموں کے بقول حکومت یہ سب کچھ گھبراہٹ میں کر رہی ہے اور بقول شاعر وہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں نفرت ہوئی سارے جہاں سےنئی دنیا کوئی لائے کہاں سے لیکن اس کے برعکس اگر اسے اچھے انداز میں اور صاف نیت کے ساتھ لاگو کر دیا جائے تو اس میں کئی چیزوں کے حوالے سے بہتری آسکتی ہے، کیوں کہ کچھ لوگ صحافی نہیں مگر وہ صحافی بنے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ اینکر نہیں مگر وہ اینکر بنے ہوئے ہیں، کچھ لوگ تجزیہ کار نہیں مگر وہ تجزیہ کار بنے ہوئے ہیں، کچھ لوگ معاشی ایکسپرٹ نہیں مگر نام نہاد معاشی ایکسپرٹ بنے ہوئے ہیں، اور تو اور کئی لوگوں کی کوالیفیکشن میں اس قدر مسائل ہیں کہ اُنہیں ریسرچ کی الف ب بھی نہیں آتی۔ مگر وہ بات بنانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔قصہ مختصر یہ کہ ہمارے ہاں زیادہ تر ”براہ راست“ صحافی ہیں ، مطلب ”ڈائریکٹ حوالدار“لگے ہوئے ہیں ۔ پھر اسی لیے انہی نام نہاد صحافیوں نے ”فیک جنرلزم“ کے نام پر بلیک میلنگ شروع کی ہوئی ہے۔ ہم بھی صحافی ہیں، ہم بھی اخلاقیات میں رہ کر کام کرتے رہے ہیں، ہم بھی انوسٹی گیٹو سٹوریز کرتے رہے ہیں، ہم تو اُن ادوار میں سٹوریز کرتے تھے جب چند ایک نیوز پیپرز ہوا کرتے تھے، اور قارئین اور حکومتی اداروں کی انہی نیوز پیپرز پر گہری نظر بھی ہوا کرتی تھی۔ لیکن سٹوری حقائق پر مبنی ہوتی تھی جسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا تھا۔ اُن دنوں بقول جلال الدین رومی ہماری حالت یہ ہوا کرتی تھی کہ ”میں پرندوں کی طرح گانا چاہتا ہوں۔ مجھے اس کی کوئی فکر نہیں ہے کہ کوئی کیا سنتا اور سوچتا ہے۔“ اور پھر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جیسے میں نے بتایا کہ ہمارے بیشتر اینکرز نے کہیں سے کوئی ٹریننگ نہیں لی ہوئی، اور پھر مسئلہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ اُنہی اینکرز نے اپنے اپنے یوٹیوب چینلز بھی بنا رکھے ہیں، اور پھر اُن پر ایسا ایسا بے لاگ تبصرہ فرماتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ اور تواور ریٹنگ بڑھانے کے لیے سیاستدانوں ، حکمرانوں اور دیگر رہنماﺅں کی گھریلو خواتین کو بھی نہیں چھوڑا جاتا ۔ اسی لیے سوشل میڈیا تو انتہا کی دھجیاں اُڑا رہا ہے، انتہائی نان پروفیشنل رویہ دکھا رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اس کے درمیان میں کوئی ”برج“ نہیں ہے۔ حالانکہ فیک اخبارات یا مین اسٹریم میڈیا میں تو پھر بھی کہیں نہ کہیں بیرئیرز لگے ہیں جہاں آپ کا کالم، مضمون، پروگرام یا ڈاکیومنٹری چیک ہو جاتی ہے، اور ”فیک معلومات“ پکڑی جاتی ہیں مگر سوشل میڈیا پر آپ محض جھوٹی سچی پوسٹ تیار کریں اور اُسے لوگوں کے درمیان پھینک دیں۔ اور پھر تماشہ دیکھتے

متعلقہ خبریں