موٹاپے سے نجات کا نیا رجحان.ایسا طریقہ جو آپ کو بھی حیران کر دے گا۔

2017 ,فروری 4



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):کئی ملکوں میں ان دنوں موٹاپے کے شکار افراد میں وہ زُمبا ڈانس فٹنس پارٹیاں بہت مقبول ہو رہی ہیں، جن کی مدد سے ایک گھنٹے میں ایک ہزار کلو کیلوریز تک توانائی بغیر کسی ذہنی یا جسمانی دباؤ کے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔1980 کے عشرے امریکی اداکارہ جین فونڈا نے ایروبِکس کو ایک رجحان کے طور پر بہت سے فٹنس اسٹوڈیوز تک پہنچا دیا تھا۔ پھر جین فونڈا کی ورک آؤٹ ویڈیوز تو لوگوں کے گھروں تک پہنچ گئی تھیں۔ پھر ایک نیا رجحان سامنے آیا جس کے ذریعے جسمانی ورزش کا محور انسانوں کے ٹانگوں اور پیٹ جیسے وہ حصے تھے، جہاں موٹاپا سب سے پہلے حملہ کرتا ہے۔ بعد میں موٹاپے کے شکار لوگوں میں جسم کی اضافی چربی سے نجات کا وہ طریقہ بھی سامنے آیا، جسے فِٹ فائٹ کا نام دیا گیا تھا۔اس رقص کا مزہ اس بات میں ہے کہ انسان اس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خود کو موسیقی کی دھن پر حرکت میں رکھےان دنوں اس حوالے سے تازہ ترین رجحان زُمبا ڈانس کا ہے۔ یہ ایک ایسا رقص ہے جسے ایک باقاعدہ ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر بھی کرایا جا چکا ہے۔ اس رقص میں لاطینی امریکی ثقافت اور طرز زندگی کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ یہ رقص ڈانس فٹنس پارٹیوں کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زور تفریح پر دیا جاتا ہے اور ایک گھنٹے میں ایک ہزار کلو کیلوریز تک توانائی استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔امریکی ریاست فلوریڈا میں زُمبا فٹنس نامی ادارے کی خاتون ترجمان جینِینا لاٹزا کہتی ہیں، ’زُمبا کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ یہ زالسا اور جاز ڈانس کے علاوہ ایروبِکس کا ایسی آمیزش ہے جس میں موسیقی سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے‘۔موٹاپے کے شکار افراد میں زُمبا ڈانس فٹنس پارٹیاں بہت مقبول ہو رہی ہیں..دلچسپ بات یہ ہے کہ ایروبِکس یا ایسے دوسرے فٹنس پروگراموں کی طرح زُمبا میں کسی کو بھی کوئی پیچیدہ کوریوگرافی سیکھنا نہیں پڑتی۔ اس رقص کا مزہ اس بات میں ہے کہ انسان اس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خود کو موسیقی کی دھن پر حرکت میں رکھے۔جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ’سپورٹ شپاس‘ نامی ایک سپورٹس کلب کی سند یافتہ زُمبا انسٹرکٹر مِیریم سپَیک مان کہتی ہیں، ’توجہ واضح طور پر تفریح کو دی جاتی ہے۔ جو کچھ میں کسی گروپ کے سامنے کر کے دکھاتی ہوں، وہ بنیادی طور پر ایک مشورہ یا سفارش ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ گروپ کے ارکان پارٹی کا حصہ ہوں اور مشینی انداز میں اس رقص کے قدم کو فالو کرنے پر مجبور نہ ہوں‘۔زُمبا ڈانس بنیادی طور پر ایک ’خوشگوار حادثے‘ کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے..اگرچہ زُمبا ڈانس کی تشہیر میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہر کسی کے لیے مناسب ہے تاہم اس میں تھوڑا سا رعدھم اور تھوڑی سی رقص کی تربیت خاصے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ زُمبا ڈانس بنیادی طور پر ایک ’خوشگوار حادثے‘ کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے۔ 1990 کے عشرے میں زُمبا کے آبائی وطن کولمبیا میں ایک فٹنس ٹرینر آلبیرٹو پیریز اپنی کلاس کو روایتی ایروبِکس سکھانا بھول گیا۔ لہٰذا اس نے اس گروپ کو اپنا تیار کردہ میوزک سنانا شروع کر دیا، جس کا ایک اہم حصہ زالسا ڈانس تھا۔ اس گروپ میں شامل افراد اتنے خوش ہوئے کہ ایک نیا رقص اور ایک نیا فٹنس نظریہ ایجاد ہو گیا۔پھر امریکی کاروباری شخصیات نے اس ڈانس کو پوری دنیا میں مارمیٹ کیا اور اس ڈانس کا نام زُمبا رکھا گیا۔ سن 2001 میں اسے ایک باقاعدہ ٹریڈ مارک کو طور پر رجسٹر کر لیا گیا۔ جرمنی میں کولون کی سپورٹس یونیورسٹی کے ہیلتھ سینٹر کے پروفیسر اِنگو فروبوئزے کے بقول اس ڈائنامِک رقص کو زُمبا کا نام دے دیا گیا۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اگلے چند ہی سالوں میں اس رقص کی جگہ کوئی نیا ڈانس لے لے گا‘۔پروفیسر اِنگو فروبوئزے کے مطابق زُمبا ڈانس ہر اس شخص کے لیے موزوں نہیں ہوتا جسے کچھ پتہ نہ ہو۔ اس کے لیے رقص کا کچھ نہ کچھ تجربہ بہرحال ضروری ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں