تین کروڑ سال پرانی نیوزی لینڈ کی جادوئی غاریں

2016 ,نومبر 13



نیوزی لینڈ کے دور دراز علاقے میں واقع نارتھ آئی لینڈ میں 3 کروڑ سال پرانی ایسی غاریں موجود ہیں جہاں کچھ ایسی قدرتی خوبصورتی موجود ہے جو دنیا میں کسی اور جگہ نہیں دیکھی جاسکتی۔

چونے کے پتھر کی یہ زیرزمین غاریں جادوئی انداز سے نیلگوں مائل سبز روشنی سے جگمگاتی ہیں۔

دیکھنے میں تو یہ بالکل افسانوی لگتا ہے مگر یہ غاریں واقعی حقیقی ہیں اور یہاں کبھی تاریکی نہیں چھاتی۔درحقیقت یہاں کی تاریکی کو روشنی سے منور کرنے کا کمال گلو وارم یا ایک مخصوص نسل کے جگنوﺅں کی کالونیوں کا ہے۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر جوزف مائیکل نے ان جگمگاتی غاروں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے ۔یہ جگنو صرف نیوزی لینڈ اور مشرقی آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں، تاہم آسٹریلین جگنوﺅں کی روشنی بہت کم اور وہ چھوٹے گروپس میں رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔نیوزی لینڈ کی اس زیرزمین غاروں کے سلسلے کی چھتوں پر ان جگنوﺅں نے اپنے گھر بنا رکھے ہیں اور ہر جگہ وہ سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہے جو اسے جگمگاتے ہیں۔

عام طور پر یہ کیڑے رات کو متحرک ہوتے ہیں اور اس وقت یہاں جانے پر ایسا ہی احساس ہوتا ہے کہ ہم شفاف آسمان میں ستاروں کو دیکھ رہے ہیں۔اگر ان کیڑوں کو مداخلت کا احساس ہو تو وہ اپنی روشنی بجھا لیتے ہیں اور 15 منٹ تک کے لیے مکمل تاریکی میں چھپے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں