بیت اللہ کے سامنے منگنی کی انگوٹھی پہننے کی شرط پانچ سال بعد پوری تو کر دی لیکن کیا یہ بات ٹھیک تھی۔۔۔۔۔۔

2017 ,مارچ 19



مکہ مکرمہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ہر انسان اپنی شادی ، منگنی اور زندگی کے دیگر اہم لمحات کو یادگار بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لئے نت نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک لڑکے کو اپنی منگیتر کی انوکھی شرط اور خواہش پوری کرنا پڑی۔ لڑکی نے شرط عائد کی کہ اس کا ہونے والا شوہر اسے خانہ کعبہ کے سامنے انگوٹھی پہنائے اور اس سارے عمل کی عکسی بندی بھی کرے ۔نوجوان نے اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہنا کر اس کی ویڈیو اپ لوڈ کردی جس کے بعد اسے انٹرنیٹ پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ واضح رہے کہ سعودی مفتی اعظم نے خانہ کعبہ کے سامنے سیلفی بنانے کے عمل کو بھی حرام قرار دیا ہے جبکہ نوجوان جوڑے کی جانب سے یہ عمل کسی بھی صورت میں قابل تحسین اور مناسب نہیں ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ترکی کے ٹی آر ٹی اسپیس چینل کے نمائندے اور ایک اناؤنسریوسف عاکیون کو اپنی منگیتر کی ایک انوکھی شرط اور خواہش پورا کرنا پڑی ہے۔اس نمائندے کی ہونےوالی بیوی نے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ اس کو منگنی کی انگوٹھی کہیں اور نہیں بلکہ مسجد الحرام میں اور کعبة اللہ کے عین سامنے پہنائے اور وہ اس تمام عمل کی عکس بندی بھی کرے۔ترک ٹی وی کے یہ نمائندے نے اپنی منگیتر کو  2012ءمیں خانہ کعبہ کے سامنے ہی منگنی کی انگوٹھی پہنائی تھی لیکن وہ ایک شرط پوری نہیں کرسکے تھے۔ان کی منگیتر نے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ جھکتے ہوئے اس کو انگوٹھی پہنائیں، ورنہ وہ ان سے شادی نہیں کرے گی۔یوسف عاکیون کو یہ شرط پوری کرنے میں پورے پانچ سال لگے ہیں۔انھوں نے اب 2017ءمیں اپنی منگیتر کو خانہ کعبہ کے سامنے مسجد الحرام میں جھکتے ہوئے منگنی کی انگوٹھی دوبارہ پہنائی ہے۔اس تمام عمل کو فلمایا گیا اور اس کو سوشل میڈیا پر براہ راست دکھایا بھی گیا ہے۔وہ فوٹیج میں یوں مخاطب ہیں:” میں یہاں کعبة اللہ کے سامنے ہوں۔ہماری محترم مائیں بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ان کے سامنے کچھ شرمندہ بھی ہوں لیکن میں کچھ بہتر ہی کررہا ہوں“۔اس ویڈیو کی انٹرنیٹ پر خوب تشہیر ہوئی تھی لیکن یوسف کو اپنی اس حرکت پر لوگوں کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد انھوں نے ویڈیو کو ہٹادیا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھ کر لگتا تھا کہ انہوں نے مقدس جگہ کی بے حرمتی کی ہے۔۔

متعلقہ خبریں