ہوم ورک ..تو مدد کرے گا نا میری۔۔۔۔۔۔۔

2017 ,جنوری 19

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



پیارے اللہ ،

میں بالکل خیریت سے ہوں، اور بہت خوش ہوں۔

آج اسکول میں مِس نے کام دیا کہ اپنے کسی پیارے کو خط لکھیں اور اپنے دن کا احوال بتائیں۔

میں نے مِس سے پوچھا "احوال" کیا ہوتا۔۔۔

........................................................

بیٹا یہ کتنے کا ہے مرنڈا؟

پانچ روپے کا ایک۔

دو دے دو۔

.....................................................

میں نے مِس سے پوچھا "احوال" کیا ہوتا ہے۔

مِس ہنس پڑیں۔ آپ نے یہ لکھنا ہے کہ آپ کا دن کیسا گزرا۔

پیارے اللہ، میرا دن بہت ہی اچھا گزرا۔ میں نے صبح اُٹھ کر فجر کی نماز پڑھی۔ پھر چائے پی اور ابو کے ساتھ ریڑھی نکالی۔ پھر ہم منڈی گئے اور ریڑھی بھر کر سبزیاں لے آئے۔ گھر آ کر میں نے یونیفارم پہنا۔ امی نے مجھے دو رس دیے اور کہا جلدی جاؤ پھر دیر نہ ہو جائے۔ میرا اسکول دُور ہے۔ آدھا گھنٹہ چلنا پڑتا ہے۔ امی کہتی ہے تیرا شکر ادا کروں کہ اسکول والوں نے مجھے جگہ دے دی۔ اُنہوں نے میری فِیس بھی آدھی رکھی ہے۔ امی کہتی ہے نیک لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں اور تُو سب کو دیکھتا ہے کون لالچ کرتا ہے اور کون شکر۔ امی تو ہر وقت تیرا شکر کرتی ہے۔ تُو پیار سے دیکھتا ہے نا اُسے؟ میرے نئے یونیفارم اور کتابوں کے لئے امی نے اپنی دوسری بالی بھی۔۔۔

................................

اوئے کیا لکھ رہا ہے؟

ہم فُٹ بال کھیلنے لگے ہیں دوسری گلی میں۔ آ جا۔

نہیں۔ تم کھیلو۔ پچھلی بار اِتنے سارے مرنڈے چوری ہو گئے تھے۔ امی بہت خفا ہوئی تھی۔

..............................................

امی نے اپنی دوسری بالی بھی بیچ دی ہے۔ کہہ رہی تھی اکیلی بالی میرے کس کام کی۔ نانی اماں نے دی تھیں امی کو۔ شاید اِس لئے پہلی بالی بیچتے ہوئے رو پڑی تھی۔ لیکن آج بہت خوش تھی۔ میں نے اپنا ٹیسٹ رزلٹ لا کر دکھایا۔ امی کو پڑھنا نہیں آتا۔ میں نے خود سُنایا، "دس باٹا دس، شاباش"۔ امی سُن کر رو پڑی اور مجھے بہت زیادہ پیار کِیا۔ پھر ابو بھی ریڑھی لے کر گھر آ گئے۔ ہم نے اکٹھے کھانا کھایا اور ابو دوبارہ سبزیاں بیچنے چلے گئے۔ امی نے میرا مرنڈوں کا ڈبہ مجھے دیا اور میں اِدھر بازار کے کنارے اِسے لگا کر بیٹھ گیا۔ اور اب یہ ہوم ورک کر رہا ہوں۔ بس یہ تھا میرے دن کا احوال۔ اب میں دوسرے ہوم ورک کروں گا اور پھر شام کو گھر چلا جاؤں گا۔

(اور ہاں، ایک بات نہیں لکھی، پر تُو تو جانتا ہی ہے، آج پھر میں نے اپنا ایک رس دو روپے کا بیچ دیا۔ اب سو روہے ہو گئے ہیں میرے پاس۔ پتا نہیں دو بالیاں کتنے کی آئیں گی۔ تُو مدد کرے گا نا میری؟)

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں