ہم جنس پرست سگی بہنوں کی بدسلوکی سے تنگ آ کر لڑکی نے ایسا کام کر لیا کہ آپ کی روح بھی کانپ جائے گی

2017 ,فروری 7



چندی گڑھ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی معاشرہ جہاں توہم پرستی کا شکار ہے وہیں یہ معاشرہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود مغرب کی اندھی تقلید سے اپنے ذہنوں کو آزاد کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے انڈیا سے اکثر ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا یہ انڈیا جیسا قدامت پسند معاشرہ ہی ہے یا کوئی بے راہ رو مغربی ملک ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی ریاست پنجاب میں بھی پیش آیا جہاں دو ہم جنس پرست سگی بہنوں نے ہاسٹل میں ساتھی لڑکی کے ساتھ بد سلوکی کی کوشش کی تو بیچاری نے اپنی عزت بچانے کیلئے خود کشی کرلی۔بھارتی میڈیا کے مطابق خود کشی کرنے والی لڑکی کی عمر 16 سال تھی جو اپنی بڑی بہن کے ساتھ چندی گڑھ کے کالج میں پڑھتی تھی اور اسی کالج کے ہاسٹل میں قیام پذیر تھی۔ خود کشی کرنے والی لڑکی کی بڑی بہن جو بی اے سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہے نے بتایا کہ پانی پت ضلع سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں جو گیارہویں اور چودہویں کلاس کی طالبات ہیں ہم جنس پرست ہیں ۔ دونوں بہنوں نے مل کر میری بہن کے ساتھ کئی بار بد سلوکی کرنے کی کوشش کی جس سے تنگ آکر اس نے خود کشی کی ہے۔لڑکی نے بتایا کہ جب میں کلاس سے ہاسٹل آئی تو کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا ۔ بار بار دستک دینے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو میں نے ہاسٹل انتظامیہ کو بلایا جنہوں نے دروازہ توڑا تو اندر میری بہن کی لاش چھت سے لٹک رہی تھی۔ لڑکی کے والدین نے بتایا کہ انہوں نے کالج انتظامیہ کو ہراساں کیے جانے کے واقعے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا لیکن انتظامیہ نے کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا جس کی وجہ سے ہمیں آج یہ دن دیکھنا پڑا ۔ 
پنجاب پولیس نے نوجوان لڑکی کی خود کشی کی وجہ بننے والی دونوں بہنوں کو انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 306 کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔اور مزید تحقیق جاری ہے۔

متعلقہ خبریں