یہ اپوزیشن اور عدم اعتماد

2022 ,فروری 14



صدارتی نظام کی لاحاصل بحث جاری تھی، اسی دوران وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدمِ اعتماد کی تیاری کاطوفان اُٹھنے لگا جو کسی کوسونامی بن کر حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا نظر آتا ہے تو کوئی اسے باسی کڑھی میں اُبال اور پیالی میں طوفان سے تعبیر کررہا ہے۔بڑوں کی بیٹھکیں ہورہی ہیں۔زرداری،بلاول لاہور میں شہباز شریف حمزہ اور مریم سے ملے۔کچھ اہل صحافت کوبھی عدم اعتماد کی چنگاری شعلہ بنتی نظر آرہی ہے۔ہمارے دوست ساجد خان کینیڈا گئے ہوئے ہیں۔وہاں انہوں نے اپنی مصروفیت کے بارے میں فون کیا تو ان سے تحریکِ عدم اعتماد کی اپوزیشن کی سرگرمیوں اور رابطوں سے متعلق بات کی۔ انکا میاں نواز شریف کے اس بیان کے وزن پرتُرت جواب تھا جس میں میاں صاحب نے کہا تھا۔مجھ سے یہ (عمران خان اور آصف زرداری)استعفیٰ مانگتے ہیں۔یہ منہ اور مسورکی دال! میاں صاحب نے استعفیٰ نہیں دیا تھالیکن ان کو ایک عدالتی فیصلے کی بنا پر نااہلیت کا سامنا اور وزیراعظم ہاؤس خالی کرنا پڑا تھا۔ ساجد خان نے اُسی وزن پر کہا یہ منہ اور عدم اعتماد۔آپ کس بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہیں؟ہمارے اس سوال پر انہوں نے تیل کی دھار دیکھنے کو کہا اور پھر ان کا ایک تحریری پیغام موصول ہوا۔فرماتے ہیں۔"جب بھی قومی اسمبلی میں کوئی اہم بل پیش ہوتا ہے تو بلاول بھٹو اور شہباز شریف غیر حاضر ہو جاتے ہیں اور اب سینٹ میں اسٹیٹ بینک ترمیمی آرڈینینس پیش ہوا ہے تو اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی اور مشاہدحسین سمیت تقریباً تمام پارٹیوں کے متعدد سینیٹر حضرات سینٹ سے غائب ہو گئے جب قومی اسمبلی سے بل پاس ہوا تھا تب تو کہا گیا تھا کہ حکومتی اور اتحادیوں کو کسی ادارے سے فون کال آئی تھی کیا اب ان تمام سینیٹر حضرات کو اسٹیٹ بینک کو گروی رکھنے کے بل کو پاس کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی کال آ گئی تھی؟یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ حکومت کوئی بل پاس کرنا چاہتی ہو اور اپوزیشن غائب ہو جائے یا بائیکاٹ کر دے۔ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، جب بھی پارلیمنٹ میں کوئی ایسا بل پیش ہوا جسے عالمی قوتوں کی حمایت حاصل ہو، وہ بل حکومت پیش کرے یا اپوزیشن وہ بے رکاوٹ منزل بہ مراد ہوجاتا ہے۔ اب کے جو ہوا کوئی نیا نہیں ہے۔سینٹ میں حکومت اکثریت سے تہی ہونے کے باوجود سٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ایوان بالا میں ۹۹ ممبران میں سے اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 57 اور حکومت کے 42 ارکان ہیں۔ووٹنگ کے روزبل کی مخالفت میں صرف 42ووٹ آئے۔اس موقع پر حکومتی ارکان بھی42تھے۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنا ووٹ حکومتی کھاتے میں ڈال دیا۔کسی نے ایوان میں آوازہ کسا ”ہور چوپو“(سنجرانی کیخلاف تحریک عدمِ اعتماد لانیوالو)۔ووٹنگ سے کچھ دیر قبل اجلاس تیس منٹ کیلئے ملتوی کیا گیا۔حکومتی ارکان نظریں جھکائے ایوان سے نکلے۔ دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر زرقا سہروردی ویل چیئر پر آکسیجن ماسک لگائے ووٹ کاسٹ کرنے چلی آئی تھیں۔ان کے ساتھ اب حکومتی پہلوان خم ٹھونک کر چل رہے تھے۔ن لیگ کے مشاہد حسین سید بھی زرقا کی طرح کرونا میں مبتلا تھے جبکہ اسی پارٹی کی نزہت صادق کینیڈا میں تھیں۔اس روزاپوزیشن کے نو ارکان اجلاس میں تشریف نہ لائے۔ ان میں سے سب سے زیادہ انگلیاں پی پی پی کے سید یوسف رضا گیلانی پر اُٹھ رہی ہیں۔گیلانی کیساتھ پی پی کے سکندرمندوخیل بھی ناموجود تھے۔محمود اچکزئی کی پارٹی کے سرداررفیق ترین،جے یو آئی کے طلحہ محمود،بی این پی(مینگل) کے محمد قاسم اورنسیمہ احسن بھی نہ آئے جبکہ اے این پی کے عمر فاروق کاسی ووٹنگ سے قبل اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ یہ لوگ کیوں اور کس کے کہنے پر نہیں آئے؟الزامات جوابی الزات اور چہ میگوئیاں جاری ہیں۔گیلانی صاحب نے جذباتیت دکھاتے ہوئے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔انہوں نے استعفیٰ بلاول کو بھجوایا۔بلاول نے مسترد کردیا۔چیئرمین سینٹ کو بھجوایا ہوتا تو انہوں نے بھی مسترد ہی کرنا تھا لیکن وہاں سے منظور ہونے کا بھی موہوم سا ہی سہی احتمال تھاایسا ہوتا تو بازی ن لیگ لے جاتی۔ سٹیٹ بینک ترمیمی آرڈینینس سینٹ میں صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہواجبکہ مسترد ہونے کیلئے بھی صرف ایک ہی ووٹ درکارتھا۔وہ ایک ووٹ کسی کابھی ہوسکتا تھا۔اے این پی کے فاضل رکن کاسی اجلاس سے اُٹھ کر نہ جاتے تو اپوزیشن کے حکومت کے 42کے مقابلے میں 43ووٹ ہوجاتے۔جے یو آئی کے طلحہ محمود آجاتے تب بھی یہی گیم بنتی۔غیر حاضر رہنے والے ارکان کا ایک جتنا ذمہ اور کردار ہے مگر سارا ملبہ ملتانی گیلانی صاحب پر گرایا جارہا ہے۔حکومت کیلئے لمحہ فکریہ متحدہ کے فیصل سبزواری اورخالدہ طیب کا غیر حاضر ہونا ہے۔اس روز اگر بل مسترد ہوجاتاتو حکومت کی سبکی تو ہوتی تاہم مشترکہ اجلاس میں یہ بل منظور ہوہی جاناتھا۔ پی ڈی ایم کی نواز شریف کے زیر اثر بلکہ زیرِ سایہ قیادت استعفوں کے بَل پر عمران حکومت سے نجات حاصل کرنا چاہتی تھی۔زرداری صاحب نے کہا تھا۔عمران کیا چیز ہے میں نے ڈکٹیٹرمشرف کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا تھا۔اس کے بعداینٹ سے اینٹ بجاتے زرداری پی ڈی ایم سے نکل گئے۔پی ڈی ایم قیادت عمران خان سے چھٹکارے کیلئے بے کل ہے۔اب عدم اعتماد کا ہر سوزور اور شور ہے۔پی ٹی آئی حکومت پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں اس حوالے سے کوئی بھی حتمی بات نہیں کی جاسکتی مگر منظر و پس منظرکے پیش نظر عدم اعتماد کا کامیاب ہوناناممکن دکھائی دیتاہے۔پاک فوج کا ہماری سیاست میں کردار رہااور اب بھی ہے۔آج کی حکومت اور فوج کے مابین اگر کوئی”تریڑ“دراڑ نمودار ہوتی ہے تو اپوزیشن خصوصی طورپر میاں نوازشریف اور مریم نوازاپنے بیان و زباں سے اسے پُر کردیتے ہیں۔بالفرض آج فوج کسی بھی وجہ سے حکومت کے سر سے ہاتھ اُٹھا لیتی ہے تو کچھ نہیں ہوگا۔اگر مخالفت پر اُتر آتی ہے تو بھی کچھ نہیں ہوگا۔ یکم نومبر 1989ء؛ بینظیر بھٹوکی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی۔غلام اسحاق خان طاقتور صدر تھے۔وہ خنجر بدست 58ٹو بی تھے۔جنرل اسلم بیگ فوج کے سربراہ تھے۔دونوں بینظیر کی مخالفت پر کمربستہ تھے۔نواز شریف پنجاب میں مضبوط سرکش و شوریدہ سر وزیر اعلیٰ اور تحریک کے روحِ رواں تھے۔اُس دور میں فلور کراسنگ کا قانون نہیں تھا۔اس سب کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی تھی۔رحمت شاہ آفریدی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے18 ایم این ایزکوبینظیر بھٹوکی حمایت پر آمادہ کیا۔ اس تناظر میں بھی آج تحریکِ عدم اعتمادکی کامیابی کا امکان معدوم ہے۔ شیخ رشید مضحکہ اُڑاتے ہیں۔”یہ اپوزیشن تحریک لائے گی! جس کے چودہ بندے عمران خان کیساتھ ملے ہوئے ہیں۔“بادی النظر میں حکومت عدم اعتماد سے تو نہیں جائے گی مگر بلاول کے لات مار کر حکومت گرانے کے سوا اور بھی کئی طریقے ہیں جو کارگر ہوسکتے ہیں بشرطیکہ اپوزیشن دانش، اتحاد اور آپسی اعتماد سے کام لے۔قارئین کیا آخرالذکر کا آپ کو امکان نظر آتا ہے؟

متعلقہ خبریں