کل ایران میں لڑکی کو پھانسی لگ جائے گی ۔اس پر ایک خاوند کے قتل کا الزام،دوسرا پھانسی لگ

2016 ,اکتوبر 12



 


تہران (مانیٹرنگ)انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران میں اپنے شوہر کو قتل کے الزام میں سزا پانے والی 22 سالہ خاتون کو جلد پھانسی دے دی جائے گی۔زینب سخاوند کے جیل میں حاملہ ہونے کی وجہ سے ان کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔زینب سکاوند کا موقف ہے کہ اس نے پرتشدد شوہر سے خلع پانے میں ناکامی کے بعد اسے چھری کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔بی بی سی کے مطابق زینب سکاوند نے جیل میں ایک شخص سے شادی کر لی جس سے وہ حاملہ ہو گئی تھی۔گذشتہ ہفتے زینب سکاوند کے ہاں مرے ہوئے بچے کی پیدائش ہوئی۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زینب سکاوند کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش کی وجہ وہ ذہنی صدمہ تھا جو اس کے بچے کی پیدائش سے دو روز پہلے جیل میں اپنے ساتھی کو پھانسی دیے جانے سے پہنچا تھا۔ایمنٹسی انٹرنشیل کا کہنا ہے کہ زینب سکاوند کا تعلق ایک غریب کرد گھرانے سے ہے اور اس نے 15 برس کی عمر میں گھر سے بھاگ کر اپنے پہلے شوہر حسین سرمادی سے شادی کی تھی۔

زینب سکاوند کا کہنا تھا کہ حسین سرمادی سے شادی کی وجہ بہتر حالات کو خواہش تھی لیکن شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اس کے شوہر نے اسے تواتر کے ساتھ تشدد کانشانہ بنا شروع کر دیا۔ زینب سکاوند کا کہنا ہے کہ اس نے بارہا پولیس سے اپنے شوہر کے رویے کے بارے میں شکایت کی لیکن پولیس نے ایک بار بھی ان کی شکایت کی تحقیق نہیں کی۔زینب سکاوند نے شوہر کے تشدد سے تنگ آ گر جب اس شوہر سے خلع کا مطالبہ کیا تو اس نے طلاق دینے سے انکار کر دیا۔ جب زینب نے شوہر کو چھوڑ کر والدین کے پاس واپس جانے کی کوشش کی تو والدین نے اس بنا پر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ پہلے گھر سے بھاگ گئی تھی۔زینب سکاوند اس وقت 17 برس کی تھیں جب ان کے شوہر کی ہلاکت ہوئی۔
پولیس نے زینب کو گرفتار کر کے کئی ہفتے تھانے میں رکھا جہاں اس نے مبینہ طور پر شوہر کے قتل کا اعتراف کیا۔زینب سکاوند کا مقدمہ جب مغربی آذربائیجان کی عدالت میں پہنچا تو وہ پولیس کو دیے گئے اعترافی سے منحرف ہو گئیں اور عدالت کو بتایا کہ قتل دراصل اس کے شوہر کے بھائی نے کیا تھا۔زینب سکاوند نے عدالت کو بتایا کہ اس نے شوہر کے قتل کا اعتراف شوہر کے بھائی کے اس وعدے کی بنا کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر اسے سزا دی گئی تو وہ اسے معاف کر دے گا۔ایران میں رائج اسلامی قانون مقتول کے رشتہ داروں کو قاتل کو معاف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں