جنسی قوت کے تجربات اب مکھیوں پر

2016 ,دسمبر 17



لندن (شفق ڈیسک) سائنسدانوں نے اپنی ایک تحقیق میں انتہائی دلچسپ انکشاف کر دیا ہے کہ مشرقی مرد مغرب میں رہنے والے مردوں کی نسبت زیادہ مردانہ قوت کے مالک ہوتے ہیں۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کیمطابق بنیادی طور پر سائنسدانوں نے مشرق کے مردانہ معاشروں میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے مردوں اور مغرب کے مردوں کی جنسی قوت پر تحقیق کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جو مرد مردانہ غلبے والے معاشروں میں رہتے ہیں ان میں مرد و خواتین کے مساوی حقوق کے حامل معاشروں میں رہنے والے مردوں کی نسبت زیادہ مردانہ قوت ہوتی ہے۔ یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنسدانوں ڈاکٹر ایلن ڈیبیلے اور ڈاکٹر رونڈا نے کی جنہوں نے شہد کی مکھیوں پر تجربات سے یہ نتائج اخذ کئے ہیں۔ سائنسدانوں نے نر مکھیوں کی دو طریقے سے 100 نسلیں پیدا کیں اور پھر ان کی جنسی صلاحیت کے ٹیسٹ کئے انہوں نے ایک گروپ کی نرمکھیوں کو ایسے ماحول میں پرورش دی جہاں ہر نر مکھی کے حصے میں ایک مادہ مکھی آتی تھی، جبکہ دوسرے گروپ کی نرمکھیوں کو ایسے ماحول میں پرورش دی جہاں مادہ مکھیوں کی تعداد انتہائی کم ہوتی تھی اور مادہ مکھی کے حصول کیلئے ان نرمکھیوں کو ایک مقابلے کی کیفیت سے گزرنا پڑتا تھا۔ ان تجربات سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ جن چھتوں میں نر اور مادہ مکھیوں کی تعداد برابر ہوتی تھی وہاں کی نر مکھیوں کی جنسی قوت کم تھی۔ اس کے برعکس جن چھتوں میں نرمکھیوں کی تعداد مادہ مکھیوں کی نسبت زیادہ تھی، 100 نسلوں کے بعد ان میں نر مکھیوں کی جنسی قوت بہت زیادہ تھی۔ ڈاکٹر ڈیبیلے کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب مردوں کا ارتقاء شدید جنسی مقابلے کے ماحول میں ہوتا ہے تو وہ اپنے اندر مسابقت پیدا کر لیتے ہیں جس سے وہ جنسی طور پر بھی مضبوط ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں