نابینا افراد کیلئے تحفہ

2017 ,جنوری 4



 

لندن (شفق ڈیسک) دنیا میں لاکھوں نابینا افراد موجود ہیں۔ نابینا افراد کی بصارت کی بحالی کیلئے سائنسدان مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ریٹینس پگمنٹوسا (Retinitis pigmentosa) سے متاثر 10 افراد کی بینائی بحال کرنے کیلئے بائیونک آئیز (bionic eyes) لگائیں گے۔ اس طرح کی سائنسی ایجادات اس سے پہلے سائنس فکشن فلموں میں ہی دکھائی دیتی تھی، جو اب حقیقت بننے جا رہی ہے۔ پراجیکٹ Argus174 II Retinal Prosthesis System میں ایک کمپیوٹر اور کیمرہ سنسرز استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کیمرہ اور سنسرز عینک میں لگے ہوتے ہیں۔ اس سسٹم کی ویب سائٹ کیمطابق اس سسٹم میں دو الیکٹرونک سیٹ اپ ایک دوسرے سے رابطہ کر کے نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سسٹم میں عینک پر لگا چھوٹا سا کیمرہ منظر ریکارڈ کرتا ہے اس کے بعد یہ ویڈیو مریض کے پاس موجود چھوٹے کمپیوٹر یونٹ یعنی ویڈیو پراسیسنگ یونٹ کو بھیجی جاتی ہے۔ یہاں ویڈیو کو پراسس کر کے انسٹرکشن میں بدل کر کیبل کے ذریعے واپس عینک تک بھیجی جاتی ہیں۔ اسکے بعد یہ انسٹرکشن وائرلیس کے ذریعے ریٹینا میں لگے اینٹینا کو بھیجی جاتی ہے۔ اسکے بعد یہ سگنلز الیکٹروڈ ایرے کو بھیجتا ہے، جو بجلی کا ہلکا ارتعاش خارج کرتے ہیں۔ یہ ارتعاش ریٹینا کے خراب فوٹو ریسپٹرز کو بائی پاس کرتے ہوئے ریٹینا کے باقی خلیوں میں تحریک پیدا کرتے ہیں۔ یہ خلیے آنکھوں کی عصبی نظام کے ذریعے دماغ کو روشنی کیپیٹرن کے ذریعے منظر کی معلومات بھیجتے ہیں۔ Argus II پروگرام سے پہلے ریٹنس پگمنٹوسا کے مریضوں کیلئے علاج کی کوئی امید نہیں تھی۔ ایک رپورٹ کیمطابق اس پروگرام میں مریضوں کو دوگروپس میں تقسیم کر کے علاج کیا جائے گا۔ 5 مریضوں کا علاج مانچسٹر رائل آئی ہاسپیٹل اور 5 مریضوں کا علاج مورفیلڈ آئی ہاسپیٹل میں کیا جائے گا۔ یہ علاج 2017ء میں شروع کیا جائے گا۔ اگر علاج کامیاب ہو گیا تو یہ طریقہ برطانیہ کے 16 ہزار مریضوں کیلئے دستیاب ہو گا۔ بعد میں اسے دوسرے ممالک میں متعارف کرایا جائے گا

متعلقہ خبریں