شادی تو شہزادیوں کی طرح کی بعد میں

2017 ,جنوری 9



 

لندن (شفق ڈیسک) برطانیہ میں ایک لڑکی اپنے دوستوں کے نام گوگل میں ڈال کر ان کے حوالے سے سرچ کر رہی تھی۔ اس دوران اس نے اپنے بوائے فرینڈ کا نام بھی گوگل کیا، جس کے ساتھ وہ دو سال سے رہ رہی تھی، لیکن گوگل کے نتائج نے اس کی زندگی ہی برباد کر دی۔ رپورٹ کیمطابق 21 سالہ اٹلانٹا ہیمنڈ نے گوگل پر دیکھا کہ اس کا 30سالہ بوائے فرینڈ حلیلی سیتنکیالی دراصل ایک مجرم تھا اور پولیس کو مطلوب تھا۔ اس کے ساتھ وہ نام بدل کر رہ رہا تھا۔جب اٹلانٹا نے حلیلی سے اس معاملے پر بات کی تو وہ اصلیت پر اتر آیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اٹلانٹا کا کہنا تھا کہ حلیلی مجھے شہزادی کی طرح رکھتا تھا۔ وہ مسلمان تھا اور اس نے مجھے کہا کہ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ تم نوکری کرو۔ چنانچہ میں نے اس کیلئے نوکری بھی چھوڑ دی۔ لیکن جب اس کی اصلیت جان کر میں نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو اس نے مجھ پر تشدد شروع کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک روزحلیلی سو رہا تھا کہ اس دوران اٹلانٹا گھر سے فرار ہو کر اپنی ماں کے پاس جانے لگی، لیکن وہ جاگ گیا اور اسے پکڑ لیا۔اس روز اس نے اٹلانٹا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیو بنا لی اور دھمکی دی کہ اگر تم مجھے چھوڑ کر گئیں تو میں یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دوں گا۔ اس دوران تشدد سے اٹلانٹا کے جسم پر جو زخم آئے، حلیلی نے ان کی تصاویر بنا کر فیس بک پر پوسٹ کر دیں اور فخر سے لکھا کہ یہ میری گرل فرینڈ ہے جس پر میں روزانہ تشدد کرتا ہوں۔ اٹلانٹا کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اس نے میری نوکری چھڑوا دی اور مجھے اپنی ماں کے علاوہ کسی سے بھی ملنے سے روک دیا۔ وہ روز مجھے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا۔ میں خوفزدہ تھی اس لئے مجبوراً اس کے ساتھ رہتی رہی۔ پھر ایک روز میں نے ہمت کرکے پولیس کو اس تشدد کی رپورٹ کر دی جس نے اسے گرفتار کر لیا۔ رپورٹ کیمطابق پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا جہاں سے اب اسکی 19 سال 8 ماہ قید کے بعد واپسی ہوگی۔

متعلقہ خبریں