آدمی حاملہ ہوگیا

2017 ,جنوری 9



 

لندن (شفق ڈیسک) مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی اور جنس کی تبدیلی جیسی کئی خباثتیں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں اور انہیں قانونی حیثیت بھی حاصل ہو چکی ہیں۔ جنس کی تبدیلی میں لوگ سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج کے ذریعے اپنا حلیہ اور ظاہری اعضاء تو جنس مخالف کے مشابہہ بنا لیتے تھے لیکن اس کے فطری خواص سے عاری رہتے تھے۔ اب ڈاکٹروں نے یہ بھی ممکن بنا دیا ہے اور طبی ٹیکنالوجی کی جدت کی بدولت برطانیہ میں دنیا کا پہلا مرد حاملہ ہو گیا ہے۔ برطانوی شہر گلوسٹر کے رہائشی 20 سالہ ہیڈین کراس نے فیس بک کے ذریعے ایک شخص سے نطفہ عطیہ میں لیا اور ڈاکٹروں کے ذریعے اپنے جسم میں رکھوا لیا۔ اب اسے حاملہ ہوئے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ ہیڈین کراس کلی طور پر اپنی جنس تبدیل کروانا چاہتا ہے تاہم حاملہ ہونیکے باعث اس نے فی الحال یہ ارادہ ملتوی کر دیا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد مکمل طور پر اپنی جنس تبدیل کروا کے عورت بن جائے گا۔ دنیا کا پہلا مرد ہے جو بچے کو جنم دے گا۔ ہیڈین کراس کا کہنا ہے کہ میں پریشان ہوں کہ پیٹ بڑھنے کے بعد میں کیسا دکھائی دوں گا اور لوگ میں متعلق کیا سوچیں گے اور کس طرح کی باتیں کریں گے، کیونکہ معاشرے میں چھوٹی سوچ کے حامل افراد کی کمی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی ریاست ایریزونا کی ٹریسی لیگونڈینو نامی خاتون جنس تبدیل کروا کر قانونی طور پر مرد بن گئی تاہم اس نے اپنے جنسی اعضاء برقرار رکھے اور مرد بننے کے بعد 3 بچوں کو جنم دیا تھا۔ ہیڈین دنیا کا پہلا پیدائشی مرد ہے جو حاملہ ہوا ہے اور بچے کو جنم دینے جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں