تاریخ کی بدترین سموگ جس نے چار دن میں ایک شہر کے4ہزار افرد کی جان لے لی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 07, 2016 | 13:34 شام

لاہور(خصوصی رپورٹ)

دنیا کی بدتری سموگ لندن میں 1952ءمیں 5 سے 9 دسمبر لندن میں پڑی ۔دن کو سورج کی شعائیں بھی زمین تک پہنچنے سے قاصر تھیں۔ ایک دن تو لوگ اپنے پایر تک نہیں دیکھ پارہے تھے۔لوگ انفیکشن اور سانس کی بیماریوں میں بری طرح مبتلا ہوگئے۔ہزاروں لوگ رات کو سوئے تو صبح مردہ پائے گئے۔مجموعی طور پر 4 ہزار لوگ سموگ کے باعث چار دن میںلقمہ اجل بنے‘ جانور کے مرنے کی تعداد کا کوئی شمار نہیں‘ کیٹل فارمز جانوروں کی لاشوں سے اٹ گئے۔ایسی ہلاکت خیز سموگ اس سے قبل اور بعد میں دیکھنے م

یں نہیں آئی۔ برطانیہ نے آئندہ ایسی فوگ کے سدباب کیلئے قانون سازی کی اور اس سے نجات حاصل کر لی۔ کارخانوں میں کالا دھواں چھوڑنے والے ایندھن کے استعمال پر پابندی لگادی گئی۔1962 ءمیں لندن پر ایک بار پھر دھند نے یلغار کی مگر ہلاکتیں صرف اس لئے ایک سو رہیں کہ حکومت نے حفاظتی اقدامات کئے اور جو قانون بنایا تھا اس پر عمل بھی کیا۔آج بیجنگ بھی بری طرح سموگ کی لپیٹ میں ہے۔ وہاں دھواں چھوڑنے والے کارخانے بند کردیئے گئے ہیں اور ایک دن طاق اور دوسرے دن جفت نمر والی گاڑیاں ہی سڑک پر آسکتی ہیں۔اس دوران جو لوگ بس یا ٹیکسی پر اپنے دفاتر یا ڈیوٹی پر جائیں گے ان کو حکومت اس کا معاوضہ دے گی۔پاکستان میں بھی سموگ سے مستقل نجات کے لئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

دنیا کے اسموگ سے متاثرہ 10 شہر

 

دنیا کے اسموگ سے متاثرہ 10 شہر

برلن :  ہوا میں آلودگی ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ ہے، بڑے شہر بالخصوص اس مسئلے کے شکار ہیں، جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے اسموگ سے متاثرہ دنیا کے دس سرفہرست شہروں کے نام شائع کیے ہیں، اس فہرست میں بیجنگ نمبر ایک جبکہ لاہور کو چوتھی پوزیشن پر رکھا گیا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی اور خصوصا سموگ کے مسئلے نے دنیا کو اپنے لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے، جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے کچھ عرصے قبل اپنی ویب سائٹ پر اسموگ سے متاثرہ دنیا کے دس سرفہرست شہروں کے نام شائع کیے۔

فہرست کے مطابق چینی دارالحکومت بیجنگ نے اس چارٹ پر نمبر ایک پوزیشن حاصل کی۔ جس کے بعد ایران کا صنعتی شہر آہواز اور منگولیا کا دارالحکومت اولان بے ٹر دوسری اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کو اس فہرست میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے، پانچویں نمبر پر بھارتی دارالحکومت نئی دلی، سعودی دارالحکومت ریاض چھٹی پوزیشن پر اور ساتویں نمبر پر قاہرہ موجود ہے۔

ڈھاکہ، ماسکو اور نیو میکسیکو آٹھویں، نویں اور دسویں نمبر پر براجمان ہیں۔

بیجنگ،  چین

چین کا دارالحکومت بیجنگ دنیا کے اسموگ سے متاثرہ شہروں میں سرِ فہرست ہے، بیجنگ کو موسم سرما میں دھوئیں اور دھند کا سامنا ہے ، رہائشیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جب بھی باہر جائیں، اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھانپ لیں۔

اس شہر میں اس قدر آلودگی ہے  کہ وہاں ماسک کے بغیر سانس لینا بھی محال سمجھا جاتا ہے۔

1

آہواز ، ایران

ایرانی شہر آہواز بھی دنیا میں اسموگ سے متاثرہ شہروں کی فہرست میں شامل ہیں ، ایران کے مختلف شہروں میں بہت سے بھاری صنعتیں ہیں ، جو پیداوار کے عمل کیلئے دھاتیں، تیل اور قدرتی گیس کا استعمال کرتی ہے، انہی صنعتوں کے باعث ہوا کو آلودہ کررہی ہے ، جو لوگوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔

iran

اولان باتور، منگولیا

منگولیا کا دارالحکومت شمار دنیا کے سرد ترین دارالحکومتوں میں ہوتا ہے، اولان باتور میں دنیا بھر کی بدترین فضائی آلودگی ہے، جس کے باعث یہ شہر رہنے والوں کیلئے بدترین ہے، سردیوں میں لوگ گھروں کو گرم رکھنے کے لیے کوئلے اور لکڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس شہر میں موجود دھوئیں کے 60 سے 70 فیصد تک کی وجہ یہی روایتی طریقے ہیں۔

3

لاہور، پاکستان

دھند پاکستان کے تمام شہروں کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، یہ صورتِ حال اس ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں خاصی گمبھیر ہے، اس شہر میں دھوئیں کی اہم وجوہات میں کوڑا کرکٹ جلانا، ٹریفک اور قریب ترین صحرائی علاقوں سے یہاں پہنچنے والی باریک مٹی بھی شامل ہیں، جو  پھیپھڑوں، آنکھوں اور دل کے لیے نقصان دہ ہیں۔

5

دہلی ، بھارت

بھارت کے دارالحکومت کو بھی بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے مسئلے کا ایک بار پھر سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی فضا شدید آلودہ ہے جو دنیا کے باقی شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے، دہلی میں 30 برس کے اندر اندر موٹر گاڑیوں کی تعداد ایک لاکھ اسّی ہزار سے بڑھ کر 35 لاکھ ہو چکی ہے۔ تاہم شہر شہر کی فضا میں پائی جانے والی خطرناک آلودہ ہوا کی زیادہ تر ذمہ داری کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر ڈالی جاتی ہے۔

4

ریاض

سعودی عرب ہر سال ریت کے طوفان کے لئے مشہور ہے، جو خطرناک اسموگ کا سبب بنتا ہے ، ریت کے طوفان کے باعث ہوا میں خطرناک ذرات کی مقدار میں اضافہ  ہوائی آلودگی کو اور بھی خطرناک بنا دیتا ہے، اس لئے ریاض فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کا بدترین شہر ہے۔

6

قاہرہ

قاہرہ میں بہت سے لوگ کو سنگین بیماریوں مبتلا ہے ، جیسے مصر میں لوگ سانس کے مسائل اور پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہے، روز بروز صنعتوں اور ٹریفک میں اضافہ اسموگ کا بڑا سبب ہے۔

7

ڈھاکہ

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہاں اس وقت لگ بھگ ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد مکین ہیں۔ اس شہر میں ٹریفک کے ہجوم اور بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شہریوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں۔

8

ماسکو

روس کے دارالحکومت ماسکو میں  اسموگ کی بنیادی وجہ وہاں موجود ہائڈروکاربن کی زیادہ مقدار ہے، ہر شہر میں مختلف قسم کی اسموگ ہوتی ہے ، جو مختلف وجوہات کی وجہ سے بنتی ہے ، البتہ کچھ شہروں کا ہوا کا معیار دوسرے شہروں سے اچھا ہوتا ہے، شہر کی مغربی سمت سے آنے والی تازہ ہوائیں سکون کا سانس لینے کا موقع دیتی ہیں۔

mascow

نیو میکسیکو

لاطینی امریکا کے اس شہر میں آلودگی کی وجہ اس کی جغرافیائی پوزیشن ہے۔ اسے تقریباﹰ پانچ ہزار میٹر بلند آتش فشاں پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈرو کاربنز کی وجہ سے میکسیکو کا شہر میکسیکو سٹی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

9