موو آن کی نئے بینرز کیساتھ نئی موو

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 10, 2016 | 17:48 شام

 


کراچی(مانیٹرنگ) شہر قائد کی مصروف شاہراہوں پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی حمایت میں دوبارہ بینرز لگادیئے گئے۔ سیاسی تنظیم 'موو آن پاکستان' کی جانب سے لگائے گئے ان بینرز پر تحریر ہے، 'اور نہیں کچھ۔۔۔ بس پاکستان'۔ان نئے بینرز پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصویر کے ساتھ گذشتہ ماہ 29 ستمبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہندوستان کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 2 فوجیوں کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔جبکہ ساتھ میں 'نعرہ تکبیر'، ا'لل

ہ ہو اکبر' اور 'نصر من اللہ و فتح قریب' بھی تحریر کیا گیا ہے۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر موو آن پاکستان کے سینٹرل چیف آرگنائزر علی نے بتایا کہ 'یہ بینرز حال ہی میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے سانحے کے تناظر میں لگائے گئے ہیں، جس میں ہندوستان کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 پاکستانی فوجی جاں بحق ہوئے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'ہندوستانی جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد کھڑی ہے اور موو آن پاکستان بھی اس سلسلے میں ہم آواز ہے۔'
یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، جب 'موو آن پاکستان' کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز لگائے گئے۔

 

یہ تنظیم رواں برس فروری میں ا±س وقت عوام کی توجہ کا مرکز بنی جب اس نے آرمی چیف کی حمایت میں ملک بھر میں پوسٹرز اور بینرز لگائے، جن میں آرمی چیف سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور ملک سے کرپشن اور ہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ان بینرز پر درج تھا، ’جانے کی باتیں جانے دو'۔

یہ بینرز آرمی چیف کے ا±س بیان کے بعد لگائے گئے تھے، جس میں انھوں نے ملازمت میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجائیں گے آ رمی چیف راحیل شریف کی مدت ملازمت رواں سال نومبر میں ختم ہوجائے گی۔

 


 رواں برس جولائی میں بھی اس تنظیم نے آرمی چیف ک حمایت میں ملک کے 13 شہروں کی شاہراہوں پر بینرز آویزاں کیے، جن میں آرمی چیف سے مارشل لاء نافذ کرنے اور ملک میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ان بینرز پر درج تھا، 'جانے کی باتیں ہوئیں پرانی، خدا کے لیے اب آجاﺅ
واضح رہے کہ بینرز لگانے والی 'موو آن پاکستان' نامی سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہے، جس کے چیئرمین محمد کامران ایک تاجر ہیں اور فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا میں کئی اسکولوں اور کمپنیوں کے مالک ہیں۔