وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ موجود وفد سفارتی آداب بھول گیا،ترکی سے ناقابل یقین خبر آگئی

2019 ,جنوری 5



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان دو روز قبل دو روزہ سرکاری دورے پر تُرکی پہنچے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر خزانہ اسد عمر اوروزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار , وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیوں زلفی بخاری اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی وفد کے ہمراہ تُرک حکام کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے دیکھ کر صارفین نے حکومتی وفد کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اس تصویر میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ تُرکی جانے والے وفد کو تُرک حکام کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں بے تکلف ہو کر بیٹھے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ان کے سامنے بیٹھے تُرک حکام نے سفارتی آداب کی مکمل طور پر پاسداری کی اور سفارتی ادب و احترام کا مظاہرہ کیا۔اس تصویر میں پاکستانی وفد کے سفارتی آداب بھولنے کی نشاندہی سب سے پہلے ایک صحافی سلمان محمود نے کی ۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سلمان محمود نے کہا کہ تُرک حکام باقاعدہ سفارتی آداب کے تحت بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستانی وفد میں شریک حکام سفارتی آداب اور روایات سے ناآشنا نظر آتے ہیں جنہیں اتنا بھی علم نہیں کہ سرکاری دورے پر سفارتی سطح کی میٹنگ میں کس طرح بیٹھا جاتا ہے۔ایک اور صحافی وسیم عباسی نے کہا کہ اس تصویر میں تُرک حکام اور پاکستانی وفد کی سنجیدگی اور باڈی لینگوئج کا مظاہر کیجئیے۔ وسیم عباسی نے وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیوں زلفی بخاری کی باڈی لینگوئج پر ان کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زلفی بخاری پاکستانی مفاد کے لیے سب سے زیادہ سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔

وسیم عباسی نے ایک اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پاکستانی وزیراعظم اور ان کے مشیر زلفی بخاری ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کا ایک رکن اپنے فون پر مصروف ہے ۔ دوسری جانب ترک وفد کے تمام ارکان مکمل طور پر سفارتی آداب اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔پاکستانی وزیراعظم اور ان کے مشیر زلفی بخاری ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کا ایک رکن اپنے فون پر مصروف ہے ۔ دوسری جانب ترک وفد کے تمام ارکان مکمل طور پر سفارتی آداب اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔تو کہ ناواقف آداب سفارتکاری ہے ابھی پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ترکی دورے میں اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ ترک وزیراعظم کے وفد کی تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا میں ان کو سخت تنقید کا سامنا ہے ۔ پاکستانی وزیراعظم اور ان کے مشیر ذل ایک اور صحافی عامر غوری نے کہا کہ سرکاری دورے کے دوران تُرک اور پاکستانی وفود کی باڈی لینگوئج پر اگر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو اس سے بہت کچھ ظاہر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک تربیت یافتہ، سنجیدہ، مہذب اور اپنے کام سے آشنا وفد کی زبردستی اکٹھے کیے گئے کچھ لوگوں کے ساتھ ملاقات ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تُرکی آج اس مقام پر ہے اور پاکستان وہیں کا وہیں ہے۔پاکستانی وفد کی یہ تصویر اپوزیشن جماعتوں سے بھی چھُپی نہیں رہی ، اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کی اس طرح کی نمائندگی قابل افسوس ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس میں کوئی اچھا پہلو بھی ہو ، لیکن میں وہ اچھا پہلو دیکھنے سے قاصر ہوں۔ تُرک وفد عام سفارتی آداب کے تحت بیٹھا ہوا ہے، تُرک حکام اپنی سنگین روایات اور رسمی ثقافت کی پیروی کرتے ہیں لیکن ہمارا وفد کیا پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے؟سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے حکومتی وفد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومتی وفد کو بلا شُبہ ایک ٹیوٹر کی ضرورت ہے جو انہیں سفارتی آداب کی تربیت دے سکے اور انہیں بتا سکے کہ ایک سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ سطحی میٹنگز اور اجلاسوں میں کس طرح بیٹھا جاتا ہے۔کیونکہ اس تصویر میں جہاں تُرک حکام میں ڈسپلن دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں پاکستانی وفد کی بے فکری اور بے تکلفی عیاں ہے۔

متعلقہ خبریں