ورلڈ بینک سے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کی خاطر پاکستان کو کیا کام کرنا پڑے گا۔۔۔ ؟؟ ایف بی آر کا ناقابل یقین انکشاف

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع فروری 03, 2019 | 19:23 شام

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت نے ملک کے ٹیکس سسٹم میں اصلاحات کے لیے ورلڈ بینک سے 40 کروڑ ڈالرقرضہ لینے کے لیے مذکرات شروع کردیئے ہیں. اس نئے قرضے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ورلڈ بینک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور چند ماہ کے دوران اس ضمن میں خاصی پیش رفت بھی ہو چکی ہے تاہم اکنامک افیئر ڈویژن کی طرف سے ابھی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی.سرکاری ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک نے اس نئے قرضے کے لیے وفاق اور صوبوں میں ریونیو تنازعات حل کرنے کے لیے آئینی ادارہ نیشنل ٹیکس کونسل تشکیل دینے کی شرط ل

گائی ہے. ورلڈ بینک ایگریکلچر سیکٹر کے ٹیکس ڈھانچے میں بھی تبدیلی چاہتا ہے جس کی حکومت میں شامل بااثر جاگیرداروں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، ان مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں قرضے کا حجم ساڑھے 28 کروڑ ڈالر رکھا تھا.اگر ورلڈ بینک کا بورڈ اس قرضے کی منظوری دے دیتا ہے تو گزشتہ 14 برسوں کے دوران عالمی بینک کی پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی یہ دوسری کوشش ہوگی، ماضی میں 15 کروڑ ڈالر سے شروع کی گئی ٹیکس اصلاحات کی کوششیں بری طرح ناکام ہوگئی تھیں اور مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے یہ رقم ضائع ہوگئی تھی. حالیہ مذاکرات میں ورلڈ بینک ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس پالیسی میں بیک وقت اصلاحات لانا چاہتا ہے، مذاکرات میں شریک ذرائع کاکہنا ہے کہ اگرورلڈ بینک کی بات مان لی گئی تو ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے والے ملازمین میں سے 20 فیصدکی چھانٹیاں کرنا پڑیں گی، گزشتہ 2 برسوں کے دوران ورلڈ بینک پاکستان کے میکرو اکنامک اعشاریوں کی خراب صورت حال کی وجہ سے کسی بھی قسم کے قرضے کی منظوری سے انکار کرتا رہا ہے، ورلڈ بینک کی اہم شرائط میں ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان کو قرضہ کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کم ازکم ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر رکھنا ہوں گے لیکن پاکستان ایسا نہیں کر سکا.ورلڈ بینک چاہتا ہے کہ پاکستان ٹیکسوں کے معاملے میں کوئی پالیسی فریم ورک تیار کرے جو صوبائی ٹیکسوں سے بھی ہم آہنگ ہو، اس کے علاوہ نیشنل ٹیکس کونسل قائم کی جائے جو وفاق اور صوبوں میں تنازعات کا تصفیہ کرے، ورلڈ بینک سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ایک جیسی پالیسی اور انتظامیہ چاہتا ہے، وفاقی کابینہ ایف بی آر ٹیکس انتظامیہ سے الگ ٹیکس پالیسی کی منظوری دے چکی ہے.ورلڈ بینک کا خیال ہے کہ پاکستان کا ٹیکس گیپ جی ڈی پی کے 10 فیصد یا 3.8 ٹریلین روپوں کے برابر ہے جو گزشتہ سال کی مجموعی ٹیکس کلیکشن کے 100 فیصد کے برابر ہے، پاکستان کی موجودہ ٹیکس کلیکشن شرح جی ڈی پی کا صرف 12.6 فیصد ہے جو ورلڈ بینک کے مطابق 23 فیصد ہونا چاہیے، غیر جانبدار اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر ورلڈ بینک کی بات سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو پاکستان کی ٹیکس کلیکشن جی ڈی پی کے 17 فیصد تک ہوسکتی ہے. پاکستان کا 1.7 ٹریلین روپے کا سالانہ ریونیو کرپشن اور نااہلی کی نذر ہورہا ہے، ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک منافع کی بنیاد پرانکم ٹیکس (پرافٹ بیسڈ انکم ٹیکس) کو ٹرن اوور ٹیکسیشن میں بدلنا چاہتا ہے، ورلڈ بینک کے خیال میں اس طرح کارپوریٹ سیکٹر میں دوتہائی ٹیکس چوری پر قابو پایا جا سکتا ہے. ورلڈ بینک زرعی شعبے پر جائیداد کی ملکیت یا انکم ٹیکس کے بجائے ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس لگانا چاہتا ہے، ورلڈ بینک کی یہ بھی تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کو بھارتی ماڈل کی طرح اشیا اور خدمات پر لگایا جائے لیکن پاکستان میں صوبوں کی طرف سے اس کی مزاحمت کے خدشات موجود ہیں۔دنیا کے 13 وفاقی ملکوں میں پاکستان صوبوں کی ٹیکس کلیکشن میں آخری پوزیشنوں میں دوسرے نمبر پرہے، پاکستان کا سروسز سیکٹر جی ڈی پی کا 56 فیصد ہے لیکن اس سیکٹر سے ٹیکس کلیکشن کی شرح جی ڈی پی کا صرف 0.5 فیصد ہے، 11 فیصد ریونیو سیلزٹیکس سے حاصل ہوتا ہے.ورلڈ بینک سے مذاکرات میں سیلزٹیکس پر دی گئی چھوٹ واپس لینے پر بھی بات ہورہی ہے، ورلڈ بینک کے خیال میں پاکستان کا ٹیکس سسٹم بہت ہی پیچیدہ ہے جس میں 70 قسم کے ٹیکس 37 سرکاری ایجنسیاں اکٹھے کرتی ہیں، ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک 40 کروڑ ڈالر کے قرضہ کے لیے طویل المیعاد ٹیکس پالیسی کی تیاری میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن اسے خدشہ ہے کہ کہیں یہ رقم بھی ماضی کی طرح عمارتوں کی تعمیر، نئے دفاتر اور ان کے لیے فرنیچر کی خریداری میں ہی خرچ نہ ہو جائے