قدرت کا کرشمہ : 11 سالہ بچی کیسے موت کے منہ سے واپس آ گئی ؟ ایسا واقعہ کہ ڈاکٹرز بھی دنگ رہ گئے

2018 ,دسمبر 20



واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) کرشموں اور جادو کا تو ہم سب نے سنا ہوا ہے مگر دیکھا کسی کسی نے ہوگا اسی طرح امریکہ میں ناقابل علاج کینسر کی شکار بچی کرشماتی طور پر شفایاب ہوگئی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کی معلومات کے مطابق 11 سالہ روکسلی ڈوس اور اس کے خاندان کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس بچی کو دماغی رسولی کا سامنا ہے۔ امریکہ کی معتبر جون ہوپکنز یونیورسٹی سمیت متعدد طبی اداروں نے اس رسولی کی تشخیص کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کینسر کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن کرشماتی طور پر کچھ عرصہ قبل بچی کا ایم آر آئی کیا گیا جو بالکل کلیئر آیا جس میں رسولی اچانک غائب ہوگئی اور اس کا کوئی سرا تک نہیں ملا ۔ ڈاکٹروں کے پاس وضاحت کیلئے الفاظ نہیں تھے کیونکہ اس کیس نے ان کے ذہنوں کو گھما کر رکھ دیا۔ڈیل چلڈرنز میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر ورجینیا ہورڈ نے بتایا کہ یہ مرض بہت کم لوگوں کو شکار بناتا ہے اور یہ تباہ کن مرض ہے، اس سے کھانا نگلنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، کئی بار بینائی ختم ہوجاتی ہے، بولنا مشکل ہوجاتا ہے اور بتدریج سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں مگر بچی کے خاندان نے 11 ہفتے کے ریڈی ایشن کورس کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کیلئے ان کے دوستوں اور خاندان نے مالی مدد کی جبکہ متاثرہ خاندان نے علاج کے اخراجات کیلئے ایک فنڈ بھی تشکیل دیا تھا ۔ریڈی ایشن تھراپی عام طور پر کینسر زدہ خلیات کو ختم کرکے اس جان لیوا مرض کے پھیلنے کو عمل کو سست رفتار کردیتی ہے۔اس کیلئے متعدد سیشنز کی ضرورت ہوتی ہے مگر ریڈی ایشن کو اس مرض کا کوئی علاج تصور نہیں کیا جاتا۔ابھی تک ڈاکٹر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس بچی کا کینسر یا رسولی کیسے ختم ہوگیا، اگرچہ کینسر مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے مگر خاندان اور بچی کے ڈاکٹروں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں اور یہ بچی تاحال علاج سے گزر رہی ہے تاکہ کینسر کی ممکنہ واپسی کے خلاف اس کی مزاحمت کو مضبوط بنایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں