اقبال کی زندگی کی تلخیاں اور کامیابیاں

2019 ,اپریل 6



ڈاکٹر علامہ محمد اقبال منہ میں سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوئے نہ ان میں بچپن میں روحانیت اور تصوف کی علامات پائی جاتی تھیں۔ بچپن لڑکپن اور جوانی عام انسان کی طرح گزری۔ ان کو کامیابیوں کے حصول کیلئے بڑی محنت کرنا پڑی۔ وہ ناکامیوں سے مایوس نہیں ہوئے۔ ناکامیوں کو کامیابیوں کیلئے استعمال کیا۔ علامہ اقبال کی زندگی کا یہ پہلو نوجوان نسل کیلئے خصوصی طور پرمشتعل راہ ہے۔ اقبال نے فقیر سید نجم الدین سے ایک مکالمے میں کہا تھا ” میں نے ڈاکٹر بننے کی کوشش کی تھی مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ اسکے بعد ای اے سی (ایکسٹراسٹنٹ کمشنری) کا امتحان پاس کیا لیکن میڈیکل ٹیسٹ میں آنکھ کی خرابی کی وجہ سے رہ گیا۔“ اقبال کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ علامہ اقبال ایک ناکام وکیل تھے۔ یہ تاثر باقاعدہ ایک منصوبہ بندی سے پھیلایاگیا جسے سازش کہاجائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ڈاکٹر اقبال وکالت کے شعبے میں کسی بھی شعبے کی طرح کامیاب رہے۔ ظفر علی راجا نے علامہ اقبال کی وکالت کو اپنی کتاب قانون دان اقبال میںموضوع بحث بنایا ہے اور وکالت کے حوالے سے علامہ کی زندگی کے وہ پہلو اجاگر کئے ہیں جو عوام الناس کی نظروں سے اب تک اوجھل تھے۔”اقبال 27 جولائی 1908ءکو لندن سے بیرسٹری کر کے لاہور پہچے تو انکی وکالت کا دور شروع ہو گیا۔اقبال کی پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ ”سال ڈیڑھ سال کے عرصہ میں معلمی اور وکالت کے سلسلے میں اقبال کو اتنی تگ و دو کرنی پڑتی کہ ان کا سارا وقت اسی میں صرف ہو جاتا۔ تمام دن تدریسی مشاغل یا مقدمات کی پیروی میں گزرتا، شام کو موکلوں کی ملاقات کیلئے دفتر میں بیٹھنا پڑتا اور رات گئے تک اگلے روز کے مقدمات کی تیاری کرتے رہتے“ ظاہر ہے کہ اتنی محنت وہ اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کرتے تھے۔ وکالت کے ابتدائی دور میں اقبال مالی پریشانیوں کے علاوہ ازدواجی الجھنوں کا بھی شکار رہے۔ والدین نے اقبال کی پہلی شادی 1893ءمیں اس وقت کر دی تھی جب ابھی انہوں نے میٹرک کاامتحان پاس ہی کیا تھا۔ اقبال کی پہلی بیگم گجرات کے سول سرجن ڈاکٹر عطا محمد خان کی بیٹی مریم بی بی تھیں۔ انکے بطن سے اقبال کے ہاں دو بچے آفتاب اقبال اور معراج بیگم پیدا ہوئے۔ مریم بی بی سے اقبال کی کبھی ذہنی مطابقت نہ ہو سکی۔ اس ازدواجی کشیدگی کے سبب اقبال اپنی زندگی کو بہت تلخ محسوس کرتے تھے۔ مریم بی بی اور اقبال کی ازدواجی زندگی میں مصالحت کی کوششیں ناکام ہو جانے پر شیخ گلاب دین وکیل نے موچی دروازے کے ایک کشمیری خاندان کی صاحب زرداری سے رشتہ ازدواج تجویز کیا۔ یہ صاحب زادی اس وقت وکٹوریہ گرلز سکول میں زیر تعلیم تھی۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے اقبال کا نکاح اس دوشیزہ سے کروا دیا جبکہ رخصتی بعد میں ہونا قرار پائی۔اس نکاح کے بعد اقبال کی ازدواجی مشکلات کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئیں۔اس نکاح کے بعد اقبال کو چند گمنام خطوط موصول ہوئے جن میں انکی منکوحہ بیوی کیخلاف نامناسب باتیں درج تھیں۔ اقبال نے پریشانی اور تذبذب کے عالم میں اپنے وکیل دوستوں سے ذکر کیا تو انہوںنے معاملے کی چھان بین کا وعدہ کر لیا۔ اس رخصتی کا معاملہ ناممکن دکھائی دینے لگا۔ان پریشان کن حالات میں اقبال کے ایک اور دوست سید بشیر حیدر نے لدھیانہ کے مشہور نولکھا خاندان کی ایک لڑکی ممتاز بیگم کا رشتہ تجویز کیا۔ بات سرے چڑھی اور اقبال کے بارات کے ساتھ لدھیانہ گئے۔ نئی بیگم کے ساتھ لاہور پلٹے اور انارکلی والے مکان میں قیام پذیر ہوئے تو انکی پہلی بیگم بھی گجرات سے لاہور انکے پاس چلی آئیں۔ اسی دوران ایک نئی ازدواجی الجھن نے انکے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اقبال نے اپنے جن وکیل دوستوں سے اپنی لاہور والی منکوحہ دوشیزہ سردار بیگم کے متعلق چھان بین کا کہہ رکھا تھا۔چھان بین سے پتا چلا کہ خطوط جھوٹ کا پلندہ تھے۔ بیرسٹر مرزا جلال الدین کی بیگم کا وکٹوریہ گرلز سکول کی ہیڈ مسٹرس مس بوس سے رابطہ ہو گیا ، مس بوس نے اسکی ذہانت، طباعی اور نیکی کی بہت تعریف کی۔ مزید تحقیق کروائی تو انکشاف ہوا کہ اقبال کو گمنام خطوط لکھنے والا شخص بھی ایک وکیل ہی تھا جس کا نام نبی بخش تھا۔اقبال پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ جس لڑکی سے ان کا نکاح ہوا تھا اس کا کردار بالکل بے داغ ہے اور اس پر جتنی بہتان تراشی کی گئی تھی وہ سب وکیل نبی بخش کا کیا دھرا تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد اقبال نے اس خاتون سے دوبارہ نکاح کا فیصلہ کیا اور 13 اگست 1913ءکو اس سے دوبارہ نکاح کر لیا۔ اقبال نے اپنے ایک خط میں لکھا ہے: ”اقبال نے گوارہ نہ کیا کہ جس عورت نے حیرت ناک ثابت قدمی کیساتھ تین سال تک اس کیلئے طرح طرح کے مصائب اٹھائے ہوں اسے اپنی بیوی نہ بنائے“۔ آگے چل کر لکھتے ہیں: ”اب میں مجبور تھا اور اخلاقاً بھی پابند کہ اس خاتون سے شادی کروں چنانچہ علماءسے مشورہ لے کر دوبارہ نکاح کرلیا یہ داستان ہے میری تیسری شادی کی۔ اب تینوں میرے ساتھ ہیں“۔

سر شہاب الدین بہت لائق وکیل تھے۔ وکالت کے پیشے میں ایک خاص عزت اور ممتاز مقام کے حامل تھے۔ اسکے علاوہ مجلس قانون ساز کے صدر بھی رہے۔ سر شہاب الدین اقبال کے بے تکلف دوستوں میں بے شمار ہوتے تھے۔ شہاب الدین لمبے قد کے گراں ڈیل لحیم شحیم شخص تھے اور ان کا رنگ حددرجہ سیاہ فام تھا۔ خوش خوراک بھی بہت تھے انکی یہ تمام عادات اور خصائص اقبال کی رگ ظرافت کو پھڑکاتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی سر شہاب الدین کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو اقبال ہنس کر معذرت بھرے لہجے میں کہتے: ”تمہیں دیکھتے ہی مجھ پر لطیفوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کیلئے مجھے پھبتی سے نہ روکا کرو“۔ موسم بہار کی آمد پر ایک مرتبہ شاہدرہ میں ایک پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں بہت سے وکلاءحضرات بھی مدعو تھے۔ اقبال اور بیرسٹر مرزا جلال الدین بھی پارٹی میں شرکت کیلئے پہنچ چکے تھے۔ اچانک بیرسٹر سر شہاب الدین پارٹی کے پنڈال میں داخل ہوئے۔ چودھری صاحب نے بالکل سفید رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی اقبال کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی۔ انہوں نے بیرسٹر جلال الدین کو مخاطب کرتے ہوئے سر شہاب الدین کی جانب اشارہ کیا اور پنجابی میں بولے:

”بھئی دیکھو دیکھو.... کپاہ وچ کٹاوڑھ گیا جے“

(بھئی دیکھو دیکھو.... کپاس میں کٹا گُھس گیا ہے)

اسی طرح رمضان کے مہینے میں سرچودھری شہاب الدین نے اپنی کوٹھی میں افطار پارٹی دی جس میں نامور وکلاءاور معززین شہر شامل تھے۔ اچانک چودھری صاحب نے اپنے ملازم سے کہا: ”ذرا پانی لانا“ اقبال نے ملازم کو تلقین کرتے ہوئے ہدایت دی: ”بھئی بالٹی (بھر کر) لانا، چودھری صاحب پانی مانگتے ہیں“ بیرسٹر شہاب الدین نے نئی کوٹھی بنوائی تو اسے دیکھنے کیلئے کچھ دوست وکلاءکو بلایا۔ ان میں اقبال بھی شامل تھے۔ شہاب الدین نے دوستوں سے دریافت کیا۔ ”اس کوٹھی کا نام کیا رکھا جائے“ اقبال نے جھٹ جواب دیا: ”اس کے متعلق کاوش کی کیا ضرورت ہے اس کا نام ”دیومحل“ رکھیے۔

مئیر لاہور کی حیثیت میںایک خاص تقریب کی صدارت کرتے ہوئے سر شہاب الدین نے عروس البلاد لاہور کے تمام خاکروبوں سے خطاب کیا۔ بیرسٹر اقبال بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ تقریب کے بعد انہوں نے بیرسٹر شہاب الدین کو بتایا کہ انکی تقریر کے دوران ایک مہترانی کا بچہ رو رہا تھا۔ جب وہ کوشش کے باوجود چپ نہ ہوا تو مہترانی نے آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”چپ کر جا پتر.... نئیں تے ماماما روگا“ (بیٹا چپ کر جا.... ورنہ ماموں مارے گا)

ایک روز بیرسٹر شہاب الدین اپنے پورے وکالتی لباس یعنی سیاہ پتلون، سیاہ کوٹ اور سیاہ ٹائی لگائے ہوئے ہائی کورٹ بار میں داخل ہوئے تو بیرسٹر اقبال نے ان سے مخاطب ہو کر مسکراتے ہوئے کہا: ”سر شہاب الدین.... آپ ہائی کورٹ میں ننگے ہی تشریف لے آئے ہیں۔ بیرسٹر اقبال ایک دن بیرسٹر شہاب الدین کے گھر ان سے ملاقات کیلئے گئے تو خادم نے بتایا کہ سر شہاب الدین غسل فرما رہے ہیں جب بیرسٹر شہاب الدین نہانے کے بعد تیار ہو کر ڈرائنگ روم میں آئے تو اقبال نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور کہا: مجھے پتہ چل گیا تھا کہ آپ ہی نہا رہے ہوں گے کیونکہ غسل خانے سے جو پانی نکل رہا تھا وہ کافی کالا تھا“۔

وکالتی زندگی کے آغاز میں بیرسٹر اقبال نے اپنا وکالتی نام ایس ایم اقبال منتخب کیا۔ ایک مرتبہ بیرسٹر اقبال کے ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک ہزار ایک سو روپے روزانہ فیس طے کر کے پٹنہ تشریف لے گئے اس فیس میں سے ہزار روپیہ اقبال اور ایک سو روپیہ انکے منشی کیلئے تھا۔ اس مقدمے میں کلکتہ کے مشہور وکیل سی اے داس اقبال کے ساتھی وکیل تھے جبکہ مخالف وکلاءمیں بیرسٹر پنڈت موتی لال نہرو اور ڈاکٹر عبداللہ سہروردی کے علاوہ دیگر مشہور وکلاءبھی تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی راوی ہیں کہ اس مقدمہ کی پیروی آری (ضلع گیاہ) میں ہوئی تھی۔

اسکے علاوہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے خاندانی معاملات اور تقسیم جائیداد کے تنازع میں ریاست کرنال، نواب بہاولپور کی وائسرائے کے سامنے ایک درخواست کی پیروی کیلئے بمبئی، کچھ دیوانی مقدمات کی پیروی کیلئے سرینگر (کشمیر) اور کچھ قانونی معاملات کے سلسلے میں لدھیانہ اور گجرات کے سفر بھی بیرسٹر اقبال نے اختیار کئے جبکہ دیگر مقدمات کے سلسلے میں پٹیالہ، پٹنہ، دہلی، لدھیانہ، گجرات اور نواب ارشاد علی خان کے مقدمہ کی پروری کیلئے اپریل 1922ءمیں شملہ گئے۔ اقبال کے بارے میں ادبی، تحقیقی اور عوامی سطحوں پر ہمیشہ سے یہ تاثر غالب چلا آرہا ہے کہ اقبال کی وکالت برائے نام تھی اور انہوں نے وکالت کے پیشہ کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ ان کی زیادہ تر توجہ شاعری اور تعلیمی مشاغل تک محدود رہتی تھی۔ اس سلسلے میں جسٹس شادی لال کا وہ متعصبانہ تبصرہ روایت کیا جاتا ہے جس میں شادی لال نے کہا تھا کہ وہ اقبال نام کے شاعر کو تو جانتا ہے لیکن اس نام کے وکیل کو نہیں جانتا۔ حیات اقبال پر لکھی سینکڑوں کتب کو اٹھا کر دیکھئیے۔ کسی میں بھی مقدمات اقبال کے حوالے سے کوئی مختصر سی تحریر بھی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اس زاویے سے بھی ان لوگوں کی آراءکو تقویت ملتی ہے جن کا موقف یہ ہے کہ اقبال بیرسٹر تو تھے مگر وکالت کے حوالے سے محض ایک برائے نام وکیل تھے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ راقم الحروف (ظفر علی راجا) نے اس حوالے سے تحقیق کی تو اقبال کی وکالتی زندگی کی ایک ایسی تصویر اجاگر ہوئی جو اس سے قبل وقت کی دھول میں دبی ہوئی تھی۔ اقبال نے 1908ءکے اواخر میں وکالت کے پیشے میں قدم رکھا تھا۔ اس زمانے میں آل انڈیا رپورٹر، پنجاب لاءرپورٹر اور انڈین کیسز نامی تین بڑے قانونی رسالے شائع ہوتے تھے۔ قانونی رسائل کا خاصہ یہ ہوتا تھا کہ ان میں صرف ان مقدمات کے فیصلے شائع کئے جاتے تھے جن میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان، اہم قانونی نکات پر فیصلہ جات صادر کیا کرتے تھے۔ راقم نے لاہور ہائیکورٹ کے لائبریری ریکارڈ سے ایک صدی قبل کے ان رسالوں کو تلاش کیا۔ جن میں سے اکثر خستہ حالت میں تھے اور کچھ کے صفحات الٹ پلٹ کے عمل میں آتے ہی دریدہ ہونے لگتے تھے۔ 1908ءسے 1934ءتک کے ان قانونی رسائل کے ورق ورق مطالعے کے نتیجے میں ایک سو چار ایسے فیصلہ جات دستیاب ہوئے جن میں بیرسٹر محمد اقبال کسی نہ کسی فریق کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے تھے۔ وفات اقبال کے بعد گزشتہ پون صدی میں آبادی میں بے پناہ بڑھوتری اور ججوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے کے باوجود اب بھی ایسے وکلاءکی تعداد خاصی محدود ہے جن کے ایک سو سے زائد مقدمات قانونی رسائل میں شائع ہو چکے ہوں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا کہ اقبال محض برائے نام وکالت کرتے تھے غلط فہمی اور لاعلمی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

بیرسٹر اقبال کی وکیلانہ قابلیت بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اقبال کے مقدمات سے متعلق ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پچاس فیصد سے زیادہ مقدمات میں کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابیاں انہوں نے اپنے وقت کے نامی گرامی وکلاءکے مقابلے میںحاصل کیں۔ ان قانون دانوں میں بیرسٹر سر محمد شفیع، بدرالدین قریشی، مسٹر محمد دین (بعد میں جسٹس)، بیرسٹر خواجہ ضیاءالدین، سید محسن شاہ (بعدازاں جسٹس)، گوکل چند، بھگت ایشو داس، مسٹر گنپت رائے، برج لال، شیخ عمر بخش، عزیز احمد، سرفضل حسین، بھگت رام پوری، کنور نارائن، رائے بہادر لالہ، فقیر چند، موتی ساگر (بعد ازاں جسٹس)، بلونت رائے، لالہ کشن چند، نندلال، رائے بہادر لالہ کپور، رام بھاج دتہ، کالندہ رام، سردار تیجا سنگھ اور دیگر بہت سے بڑے نام ہیں۔

بیرسٹر اقبال کے برائے نام وکیل ہونے کے مفروضے کی تردید کےلئے انکی پیشہ ورانہ شہرت کی وسعت کا ثبوت بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ مقدمات اقبال کے دستیاب ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ بطور وکیل ان کا نام ہندوستان کے ایک وسیع علاقے میں معتبر گردانا جاتا تھا اور دور دراز اضلاع کے موکلین اپنے مقدمات کی پیروی کیلئے اقبال کو اپنا وکیل مقرر کرتے تھے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ضلع لاہور اوراپنے آبائی ضلع سیالکوٹ کے علاوہ جن اضلاع کے موکلین نے اقبال کو چیف کورٹ میں اپنا وکیل مقرر کیا تھا ان میں ضلع سرگودھا، راولپنڈی، ملتان، انبالہ، جہلم، اٹک، شاہ پور، لدھیانہ، جالندھر، ہوشیار پور، کانگڑہ، حصار، گورداسپور، فیروزپور، منٹگمری (اب ساہیوال)، دہلی، گوجرانوالہ، مظفر گڑھ، لائل پور (اب فیصل آباد) گجرات اور کیمبل پور کے علاوہ ریاست کرنال اور ریاست جموں کشمیر کے موکلین شامل ہیں۔

کتاب قانون دان اقبال کے مصنفظفر علی راجاکواپنی اس تحقیق اور تلاش کے دوران بیرسٹر اقبال کے حوالے سے 103 شائع شدہ مقدمات تک رسائی ہوئی۔ بیرسٹر اقبال کے بارے میں یہ بات بھی غلط طور پر روایت کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ تر فوجداری پریکٹس کیا کرتے تھے۔ اقبال کے جن ایک سو تین مقدمات کے ریکارڈ تک رسائی ہوئی ہے ان میں 95 فیصد سے زائد مقدمات کی نوعیت دیوانی قوانین سے تعلق رکھتی ہے۔

میں آپ کیلئے ”خان صاحب“ کا خطاب تجویز کر رہا ہوں۔ ”خان صاحب“ سے کہیں برتر یعنی ”سر“ کا خطاب جو کہ خود چیف جسٹس شادی لعل کو حاصل تھا، بیرسٹر اقبال کو عطا کرنے کا اعلان کیا تو جسٹس شادی لال کی ناگواری میں مزید اضافہ ہو گیا ہو گا۔ مولانا عبدالمجید سالک کا بیان ہے کہ اقبال کے حاسد حکام اعلیٰ کو اقبال سے بدظن کرنے میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے لیکن نواب ذوالفقار علی خان ان تمام فتنہ انگیزیوں کے سد باب کیلئے سینہ سپر رہا کرتے تھے اور چاہتے تھے بیرسٹر اقبال عدالت عالیہ کے جج بن جائیں۔ جہاں تک اقبال کا تعلق ہے تو ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے کبھی کسی خطاب کیلئے از خود کوئی کوشش نہیں کی۔

ظاہر ہے کہ اقبال کی اتنی زبردست حکومتی اور عوامی پذیرائی پر جسٹس سرشادی لال تلملاتے رہے ہوں گے اور خود سے اقبال کی بے رخی انکے دل پر نقش ملال بنی ہوئی ہو گی۔ یہی وہ پس منظر ہے کہ جب 1925ءمیں لاہور ہائی کورٹ میں ایک خالی اسامی کیلئے اقبال کی بطور جج تعیناتی کی تحریک ہوئی تو چیف جسٹس سرشادی لعل نے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے یہ طنزیہ فقرہ کہا:

”ہم اقبال کو شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں قانون دان کی حیثیت سے نہیں“

جسٹس شادی لعل کا یہ کہنا کہ وہ اقبال نام کے کسی وکیل کو نہیں جانتے قانونی کتب میں ہائی کورٹ کے شائع شدہ فیصلہ جات کے ریکارڈ سے بھی جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ عدالت عالیہ کے شائع شدہ فیصلہ جات سے ظاہر ہوتاہے کہ شادی لعل بطور مخالف وکیل بھی اقبال کے ساتھ ہائی کورٹ کے مقدمات میں پیش ہوئے اور پھر شادی لعل کے جج بن جانے کے بعد پندرہ ایسے مقدمات کی تفصیل بھی ملتی ہے جن میں بیرسٹر سر محمد اقبال نے جسٹس شادی لعل کی عدالت میں پیش ہو کر مقدمات کی پیروی کی۔ حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جسٹس سر شادی لعل نے اقبال کی قانونی حیثیت سے یکسر نا آشنائی کی بات بدنیتی، حسد اور ذاتی ناپسندیدگی کی بنا پر کی تھی کیونکہ بیرسٹر محمد شفیع کے مقابلے میں اقبال سے سرشادی لعل کی ہمنوائی سے انکار کیا تھا۔ ایک طرف تو بحیثیت چیف جسٹس وہ لاہور بار کے ممتاز رکن بیرسٹر اقبال کو بلا کر خود انہیں ”خان صاحب“ کے خطاب کی پیشکش کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ انکی قانونی شناخت تک سے انکاری دکھائی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور واقعہ کا تذکرہ خالی از دلچسپی نہ ہو گا۔ اس واقعے نے بھی سرشادی لعل کے دل پر ضرور ایک انمٹ زخم لگایا ہو گا۔ یہ واقعہ اکتوبر 1933ءکا ہے جب چیف کورٹ لاہور کو ہائی کورٹ پنجاب میں تبدیل کیا گیا۔ وائسرائے ہند نئے ہائی کورٹ پنجاب کا افتتاح کرنے کیلئے بطور خاص لاہور آئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس سر شادی لعل نے استقبالیہ تقریر کی۔ وائسرائے ہند نے جوابی تقریر میں دیگر باتوں کے علاوہ بیرسٹر اقبال کے بارے میں بھی تعریفی کلمات کہے۔ بیرسٹر اقبال کی تعریف پر سب حاضرین حیرت زدہ رہ گئے۔ چونکہ ایسے موقع پر وائسرائے ہند جیسی شخصیت سے ایسی تعریف کی توقع نہ تھی۔ اقبال نے مہاراجہ سرکشن پرشاد کے نام تحریر کردہ اپنے خط مورخہ 24 اکتوبر 1933 کو خود اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ مہاراجہ کشن پرشاد ریاست حیدر آباد میں وزارت عظمی کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے۔ مہاراجہ کشن پرشاد اپنی تحریروں میں علامہ اقبال کو ہمیشہ بیرسٹر محمد اقبال لکھا اور بولا کرتے تھے۔مہاراجہ کشن پرشاد علامہ اقبال کی قانون پر گرفت دیکھتے ہوئے ہی انہیں ریاست کی ہائی کورٹ میں جج لگانے کی کوششس کی تھی۔

متعلقہ خبریں