واہ بھئی واہ ۔۔۔ مسجد کیلئے ہندﺅں نے زمین عطیہ کر دی

2018 ,مئی 5



چندی گڑھ (مانیٹرنگ ڈیسک): موم میں 4000 سکھ، 400 ہندو اور 400 مسلمان آباد ہیں۔ بہت سے ہندو گورودوارہ جاتے ہیں اور بعض اوقات پگڑیاں بھی پہنتے ہیں جو عام طور سکھ پہنا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ رسومات اور تقریبات میں شرکت کے لیے دوسری برادری کے لوگوں کے گھر بھی جاتے ہیں۔ گورودوارہ کی مذہبی شخصیت گیانی سرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوﺅں کی گیتا پاٹھ جیسی تقریبات سکھوں کے ہال میں منعقد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ اسے صرف گورودوارہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ سماجی تقریبات کے لیے اکٹھے ہونے کی جگہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مندر کے انتظامی امور میں سرگرم اور استاد بھرت رام کا کہنا ہے: ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسے سیاسی رہنما نہیں ہیں جو ہمیں تقسیم کریں یا برادریوں میں تقسیم پیدا کریں۔اس گاﺅں کے لوگوں میں وہی بھائی چارہ ہے جو قدیم وقتوں میں ہوا کرتا تھا اور اسی وجہ سے ہم نے مسجد کے لیے زمین دینے کا فیصلہ فوراً ہی کر لیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے لوگوں میں نفرتیں نہ ہوں‘ اگر سیاستدانوں میں نہ ہوں۔ ناظم اور بھرت شرما‘ گیانی سرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ فنڈز یا عطیات دینے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بہت سے ہندو اور سکھوں کے خیال میں مسجد صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہو گی۔ یہ تمام گاﺅں والوں کے لیے ہے۔ اس سب کے باوجود اس بھائی چارے کی کچھ حدود ہیں۔ اگر آپ ان سے کہیں کہ کیا وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ایک دورسرے کی برادریوں میں شادی کرنے دیں گے تو ان کا ردعمل کافی حیران کن ہوتا ہے۔ سکھ پنچایت کے رکن چوہر سنگھ اس بارے میں کہتے ہیں‘ دیکھئے بھائی چارہ ایک الگ چیز ہے۔ سکھ اور مسلمان الگ الگ مذاہب ہیں، ایسی کوئی بھی چیز ہمارے گاﺅں میں قابل قبول نہیں ہوگی۔ بھرت شرما ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ ایسے کبھی بھی نہ تو ماضی میں ہوا ہے اور نہ مستقبل میں ہو گا۔ انڈیا میں یہ عام بات ہے، یہاں تک کے ہندوﺅں میں بھی کئی مختلف ذاتوں میں شادیوں کی مخالفت کی جاتی ہے‘ تاہم انڈیا کے مغربی بنگال جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی بہت زیادہ ہے کے مقابلے میں پنجاب کا یہ گاﺅں جنت سے کم نہیں۔ بھرت شرما کا کہنا ہے کہ خدا ہر جگہ ہے، اب چاہے وہ گورودوارہ ہو، مسجد یا مندر۔

متعلقہ خبریں