نریندر مودی سے ان کی اہلیہ بھی تنگ ہیں۔۔۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ میں بھارتی وزیراعظم سے متعلق حیران کُن انکشاف

2019 ,مارچ 25



نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی وجہ سے اکثر دنیا بھر میں مذاق بن جاتے ہیں،ان پر انتہا پسند ہونے کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔لیکن اب مودی سے متعلق اب ایسی بات سامنے آئی ہے جس نے ان کے انہتا پسند ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے۔باپ کے ہوٹل پر برتن دھو نے ، گاہگوں کیلئے کرسیاں لگا نے اور چائے پیش کرنے والا شخص ایک ارب 20 کروڑ آبادی والے ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انتہا پسندی کی وجہ سے ان کی اہلیہ نے کئی سال تک مودی سے علیحدگی اختیار رکھی تھی ۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی سے ان کہ اپنی اہلیہ بجھی تنگ تھیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انتہا پسندی کی وجہ سے ان کی اہلیہ یشو دابین نے علیحدگی اختیار کی تھی۔بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں انتخابات کے پیش نظر ذہنی پستی کے حاصل شخص مودی کو شدید تنقید کی سامنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یشودابین سکول ٹیچر تھیں اور شادی کے بعد انہیں اپنے شوہر کا انتہاپسند گروپوں کے ساتھ گھومنا پسند نہیں تھا۔، جس کی وجہ سے وہ الگ ہو گئیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یشودابین سمجھتی تھیں کہ مودی فطری طور پر انسان دشمن شخص اور پست ذہن کا مالک ہے اور کسی کی بھی جان لے سکتا ہے۔مودی انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ رہے جن کاا قمصد بھارت سے ہندومت کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دیا جائے۔نریندر مودی کی اہلیہ سمجھتی تھیں کہ مودی پست ذہن کا حامل شخص ہے اور وہ کسی کی بھی جان لے سکتا ہے ۔ نریندر مودی ان انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں جن کے خیال میں بھارت سے مندروں کے علاوہ تمام تر مذاہب کو صفحہ ہستی سے ہٹایا جائے جن میں مسلمان ، سکھ ، اچھوت ، دلت ، عیسائی اور دیگر موجود ہیں ۔ ۔

متعلقہ خبریں