’’ ہم خوش ہوئے‘‘ پاکستان کے شاندار انتظامات۔۔۔۔۔ سعودی عرب نے اچانک ایسا اعلان کر دیا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی بلے بلے ہوگئے

2019 ,فروری 14



اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر وفاقی دارالحکومت کے 8 بڑے ہوٹلوں کے 750 ایگزیکٹیو رومز بک کر دئیے گئے ہیں سعودی ولی عہد کے ہمراہ 40 افراد پر مشتمل وفد اور 130 رائل گارڈز 16 فروری کو سہہ پہر نور خان ائیر بیس پر پہنچے گا ۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر وفاقی دارالحکومت کے 8 بڑے ہوٹلوں کے 750 ایگزیکٹیو رومز بک کر دئیے گئے ہیں ، سعودی ولی عہد کے ہمراہ 40 افراد پر مشتمل وفد اور 130 رائل گارڈز 16 فروری کو سہہ پہر نور خان ائیر بیس پر پہنچے گا ، 15 فروری کو حساس ادارے 8 بڑے ہوٹلوں کے 750 ایگزیکٹیوو رومز بک کر دئیے گئے ہیں ، 15 فروری کو حساس ادارے 8 ہوٹلوں کی ایڈمنسٹریشن کو سیکورٹی کلئیرنس کے لیے سمبھالیں گے ، جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے جڑواں شہروں میں سینکڑوں چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں ، وفاقی دار الحکومت کا ریڈزون 15 فروری کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا ، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون اور گردونواح میں کسی بھی ڈرون کو اڑنے پر گرانے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں ، اس کے علاوہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے پیش نظر سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا ہے ، محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے راولپنڈی میں 100 سے زائد چیک پوائنٹس قائم کی جائیں گی۔ سعودی ولی عہد کے پاکستان میں قیام کے دوران راولپنڈی کی اہم شاہراہوں پر بڑی گاڑیوں کا داخلہ 2 روز کے لیے بند رہے گا جبکہ فضاؤں میں تربیتی پروازیں معطل اور ڈرونز اُڑانے پر بھی پابندی عائد ہو گی ، جڑواں شہروں کی میٹرو بس سروس راولپنڈی تک محدود رہے گی۔ اس کے علاوہ 16 اور 17 فروری کو جڑواں شہروں کے مخصوص علاقوں میں موبائل سروس بھی بند رکھی جائے گی ، سکیورٹی اداروں کے اہلکار جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں پر تعینات ہوں گے ، سعودی ولی عہد کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے وفد نے پاکستان کی جانب سے کئیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے ، جس کے بعد سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا 6 رکنی وفد پاکستان سے واپس روانہ ہو گیا ، سعودی وفد خصوصی طیارے کے ذریعے نئی دہلی روانہ ہوگیا۔ وفد نے پاکستان میں محمد بن سلمان کی سیکیورٹی اور رہائش گاہ کا جائزہ لیا۔ 

متعلقہ خبریں