بہت بڑا نقصان : شہزادہ محمد بن سلمان سعودی شاہی خاندان کا بڑا نقصان کروا بیٹھے ؟ رائل فیملی کو کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہو گیا ؟

2019 ,مئی 12



نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ جمعہ کے روز معروف ٹیکسی سروس ’اوبر‘ کی سٹاک مارکیٹ ویلیو میں شدید کمی آئی جس سے کمپنی کے حصص دارکنگال ہو کر رہ گئے اور اس مندی سے سب سے زیادہ نقصان سعودی شاہی خاندان کا ہوا، جسے 50کروڑ ڈالر (تقریباً70ارب 81کروڑ روپے) کا نقصان اٹھانا پڑا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ’اوبر‘ کا سٹاک مارکیٹ میں آغاز تھا اور ابتداءمیں ہی اسے اربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ نیویارک سٹاک ایکس چینج میں اوبر کے حصص کی قیمت 45ڈالر فی حصص سے شروع ہوئی، جس میں دن کے اختتام تک 7فیصد کمی آئی اور حصص کی قیمت 41.57ڈالر فی حصص رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق حصص کی قیمت میں 7فیصد کمی سے اوبر کے حصص برداروں کو مجموعی طور پر6 ارب ڈالر(تقریباً 8کھرب 49ارب 75کروڑ روپے)کا نقصان ہوا، جس میں ’سعودی ساورن ویلتھ فنڈ

‘ (Saudi sovereign wealth fund)

سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا شراکت دار تھا۔ سعودی ساورن ویلتھ فنڈ نے جون 2016ءمیں 48.77ڈالر فی حصص کی قیمت پر اوبر کے ساڑھے 3ارب ڈالر کے حصص خریدے تھے، جو جمعہ کے روز 7فیصد کمی سے 3ارب ڈالر رہ گئے۔ واضح رہے کہ سعودی ساورن ویلتھ فنڈ کی نگرانی خود سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کرتے ہیں۔ انہوں نے سعودی معیشت کا تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اوبر، ٹیسلا اور دیگر بڑی کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ دوسری جانب جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) باقی دنیا کی طرح سعودی عرب جانے والوں کو ویزے کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے، وہاں جانے والی خواتین کو حجاب بھی پہننا پڑتا ہے جو اکثر مغربی خواتین پر گراں گزرتا ہے۔ اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مل کر دنیا کو ایسی خوشخبری دینے جا رہے ہیں کہ بحیرہ احمر کے ساحلوں پر چھٹیاں منانے کے خواہش مندوں کے دل خوش ہوجائیں گے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بحیرہ احمر کے ساحلوں پر مشتمل ایک نیم خودمختار علاقہ بنانے جا رہے ہیں جہاں جانے کے لیے سیاحوں کوالگ الگ ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی اور اس علاقے میں غیرملکی خواتین کو حجاب بھی نہیں پہننا پڑے گا۔سیاح دونوں میں سے کسی ایک ملک کے ویزے پر اس پورے علاقے میں جا سکیں گے۔دونوں ممالک میں یہ علاقہ مالدیپ کے لگژری ہوٹلوں سے سجے خوبصورت جزیروں سے مشابہہ ہو گا جہاں سیاحوں کو ڈائیونگ و دیگر ہر طرح کی سیاحتی سہولیات میسر ہوں گی۔ اس منصوبے کو ’ریڈ سی پراجیکٹ‘ (Red Sea Project)کا نام دیا گیا ہے اور ’ساورن ویلتھ فنڈ‘ اس کی تعمیر کر رہا ہے جس کے سربراہ شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ بھی ریڈ سی پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے مالی معاونت دے گا۔ رپورٹ کے مطابق بتایا گیا ہے کہ اس نیم خودمختار علاقے میں ایسے قوانین لاگو ہوں گے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں گے۔ یہ منصوبہ کئی معروف ہوٹلوں کو یہاں اپنی برانچیں قائم کرنے کے لیے متوجہ کرے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے سعودی عرب کو سالانہ 15ارب سعودی ریال (تقریباً4کھرب روپے) کی آمدنی ہو گی اور سعودی شہریوں کے لیے نئی 35ہزار نوکریاں نکلیں گی۔

متعلقہ خبریں