اوور سیز پاکستانیوں کا عمران خان پر اعتماد۔۔۔ پاکستان کے لیے ریکارڈ کام کر دکھایا

2019 ,جولائی 10



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے جو کہ 9.68 فیصد سالانہ بنتا ہے۔  بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے ترسیلات زر میں اضافہ کرکریکارڈ کیا گیا ہے۔جس کے مطابق ترسیلات زر میں ایک ارب 92 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مجموعی ترسیلات زر 21 ارب 84 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں یہ اضافہ 9.68 فیصد سالانہ بنتا ہے جبکہ سال 2017-18 ء میں ترسیلات زر کا حجم 19 ارب 91 کروڑ ڈالر تھا سعودی عرب سے پانچ ارب ڈالرز جبکہ متحدہ عرب امارات سے 4 ارب 61 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں اسی طرح برطانیہ سے تین ارب 41 کروڑ ڈالر جبکہ امریکہ سے تین ارب چالیس کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔دیگر خلیجی ریاستوں سے پاکستانیوں ین دو ارب 41 کروڑ ڈالرز بھجوائے‘ ملائیشیاء سے ایک ارب 55 کروڑ ڈالر وطن بھیجے گئے یورپی ممالک سے گزشتہ برس 60 کروڑ 89 لاکھ ڈالرز کی رقوم آئیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور بنکاروں کے وفود سے ملاقات کی، ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسمعیل، وزیر بحری امور علی زیدی، وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر حیدر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر موجود تھے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے وفد میں سلمان مہدی، اشرف بھاونے، شہزاد چمیدہ، احمد چنائے، عابد علی حبیب، ناز خان، سعد امان خان، بشیر جان محمد، عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب اور کامران ناصر شامل تھے جبکہ بنکاروں کے وفد میں یوبی ایل، نیشنل بنک، حبیب بنک، میزان بنک، الفلاح اور جے ایس بنک کے نمائندگان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ارکان صوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی، حلیم عادل شیخ اور خرم شیر زمان بھی موجود تھے۔ملاقات میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے وفد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور مزید بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا، اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا تاکہ حکومت ان کے مشوروں سے مستفید ہو سکے۔

متعلقہ خبریں