پاکستان پہنچنے سے قبل ہی مہاتیر محمد نے یورپی یونین کو جھٹکا دے ڈالا، ایسا انتباہ جاری کر دیا کہ اُمتِ مسلمہ خوش ہوگئی

2019 ,مارچ 21



کوالا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ پام آئل کے استعمال میں کمی اور ممانعت کے بارے میں یورپی یونین ممالک کی پالیسیاں جاری رہنے کی صورت میں ہم بھی یورپی یونین مصنوعات کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں صدر مہاتیر محمد نے یورپی یونین ممالک کے پام آئل کو ممنوع قرار دینے کے منصوبوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ”پام آئل کے بارے میں یہ غیرمنصفانہ رویہ جاری رہنے کی صورت میں ہم یورپ سے آنے والی مصنوعات کی خرید بند کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے یورپی یونین ممالک کو ایک مراسلہ روانہ کیا ہے تاہم انہوں نے یورپی یونین مصنوعات کے بائیکاٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیرمحمد 3 روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے، وزیراعظم عمران خان نور خان ایئر بیس پر ملائیشین ہم منصب کا استقبال کریں گے جبکہ انھیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی جائے گی۔استقبال کے بعد ملائیشین وزیر اعظم کووزیر اعظم ہاؤس لےجایاجائے گا، جہاں ڈاکٹر مہاتیرمحمد کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا جبکہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں پودا لگائیں گے۔جس کے بعد مہاتیر محمد کی وزیر اعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات ہوگی جبکہ دونوں ممالک کی قیادت میں وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوگی، ملائیشین وزیر اعظم کا قیام ریڈ زون کے اندر نجی ہوٹل میں ہوگا۔وزیراعظم عمران خان 22 مارچ کو ملائیشین ہم منصب کو ظہرانہ دیں گے ، ظہرانے سے قبل ملائیشین وفد سے مختلف وفود کی ملاقات،ایم او یو پر دستخط ہوں گے۔صدرعارف علوی 22 مارچ کو ملائیشین وزیر اعظم کےاعزاز میں اعشائیہ دیں گے، جس میں ڈاکٹر مہاتیرمحمد کو “نشان پاکستان” ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ملائیشین وزیر اعظم مہاتیر محمد 23 مارچ کو یوم پاکستان کی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔یاد رہے 20 نومبر کو وزیراعظم پاکستان کا دارالحکومت کوالالمپور پہنچنے پر بھی ملائشین ہم منصب نے پرتپاک استقبال کیا تھا، وزیراعظم عمران خان اور ڈاکٹر مہاتیر محمد کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی، دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا مہاتیر محمد اور انہیں کرپشن کے خلاف ووٹ ملے۔وزیراعظم عمران خان نے ملائشین ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی ، جسے انہوں نے قبول کرلیا تھا۔

متعلقہ خبریں