ملکہ ترنم نورجہاں کی آج 16 ویں برسی منائی گئی

2016 ,دسمبر 23



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):  فلم انڈسٹری کی معروف گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی آج 16 ویں برسی منائی گئی۔موسیقی کی دنیا کا ذکرسروں کی ملکہ نورجہاں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا،گیت ہو یا غزل میڈم کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے، میڈم نور جہاں کی صلاحیتوں کا اعتراف صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں موسیقی کے قدردان کرتے ہیں، کئی گلوکاروں نے ان کی نقل کی ، کوئی ان کے نقش قدم پرچلنے کی کوشش کرتا رہا، کسی نے ان کے گلدستے سے چند پھول چننے کی کوشش کی مگر کوئی نورجہاں ثانی نہ بن سکا۔اللہ وسائی کے نام سے 21 ستمبر 1926 کو پیدا ہونے والی نورجہاں نے 9 سال کی عمرمیں چائلڈ گلوکارہ کے طورپر گانا شروع کیا۔ بے شمار کامیاب فنکاروں کو پس پردہ آوازکے ذریعے کامیاب بنانے میں اہم کردارادا کرنے والی عظیم گلوکارہ نے اپنا فلمی کیریئر1930 میں خاموش اداکاری والی فلم ’’حنا کے ترسے‘‘ سے شروع کیا جبکہ فلمی ہیروئن کے طورپران کے کیرئیرکا آغاز 1942ء میں ’’خاندان‘‘ فلم سے شروع ہوا۔اس فلم کیلئے غلام حیدر کے کمپوزکئے ہوئے تمام گانے سپرہٹ ہوئے اوراس دورکے مقبول ترین گانوں میں شمارہوئے۔ اس طرح نورجہاں کیرئیرکے آغاز میں ہی گلوکارہ اوراداکارہ کے طورپرمشہورومقبول ہو گئیں۔نور جہاں نے ممبئی میں کئی بھارتی فلموں نادان، نوکر، لال حویلی، دل، ہمجولی اور جگنو وغیرہ میں کام کیا۔ بعد ازاں قیام پاکستان کے بعد 1947 میں وہ لاہور منتقل ہو گئیں جہاں پرانہوں نے اداکاری اورگلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ نور جہاں نے دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل اور انار کلی میں کام کیا۔ بعد ازاں نور جہاں نے 1960 سے 1970 کے عشرے میں پنجابی فلموں کیلئے گانے گائے جو کہ سپرہٹ ہوئے۔ انہوں نے ایک ہزار فلموں کیلئے گیت گائے جن میں سے زیادہ تر مقبول عام ہوئے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے دل میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور انہوں نے 1965ء کی جنگ میں اپنی آواز میں رضا کارانہ طور پر کئی ترانے گائے جو کہ بڑے مقبول ہوئے اور ان ترانوں سے پاکستانی فوج اورعوام کا حوصلہ بلند ہوا۔انھیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز اور بعد ازاں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ انھوں نے مجموعی طور پر10 ہزارسے زائد غزلیں و گیت گائے۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنا آخری نغمہ 1996 میں ریکارڈ کرایا جس کے بعد خرابی صحت کی بناء پر ا نہوں نے گلوکاری ترک کردی اور23 دسمبر 2000ء کو انتقال کرگئیں۔

متعلقہ خبریں