کشمیر برفباری نے سیاحت کو زندہ کردیا

2017 ,جنوری 13



مقبوضہ کشمیر (شفق ڈیسک) سطح سمندر سے آٹھ ہزار سات سو فٹ کی بلندی پر واقع گلمرگ کی برف پوش پہاڑیاں بہت خوبصورت ہیں مغربی ہمالیہ کے پیرپنچال سلسلے میں واقع انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام گلمرگ گذشتہ برس گرما میں سُنسان تھا۔ جولائی میں مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف کشمیر اُبل پڑا تو سیاحت معطل ہوگئی تھی۔ لیکن چھ ماہ کی کشیدگی کے بعد کشمیر میں بھاری برفباری کے بعد عام لوگوں اور سیاحت سے وابستہ حلقوں میں اُمید کی کرن نظر آرہی ہے۔ سطح سمندر سے آٹھ ہزار سات سو فٹ کی بلندی پر واقع گلمرگ کا قصبہ سرینگر سے شمال کی جانب پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گذشتہ کئی برس سے جاڑے میں بہت کم برفباری ہوتی تھی۔ لیکن اس سال جنوری میں ہی بھاری برفباری ہوئی جس نے بھارت اور دوسرے ملکوں سے سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کردیا۔

اس سال جنوری میں ہی بھاری برفباری ہونے نے سے بھارت اور دوسرے ملکوں سے سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کردیا ہے گجرات سے اپنی بہن کے ہمراہ آنے والی لینا اچاریہ کہتی ہیں برفباری کا تو مزہ ہم لے ہی رہے ہیں، لیکن یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ ٹی وی پر کہتے ہیں کشمیر ایسا ہے ویسا ہے، لیکن ہم سب کو فون کر کر کے بتا رہے ہیں کہ کشمیر جنت ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ سنگاپور جاؤ، سوئٹزر لینڈ جاو، لیکن ہم کہیں نہیں جائیں گے، ہم صرف کشمیر آئیں گے اور بار بار آئیں گے۔ نئی دلّی کی پیا سوڑھی پہلی بار کشمیر آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا گھومنے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ کشمیر نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔

تجارتی حلقوں کو اُمید ہے کہ برفباری سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور گذشتہ گرما میں کشیدگی کے دوران معیشت کو ہزاروں کروڑ کا جو خسارہ اُٹھانا پڑا ہے وہ کسی حد تک پورا ہوگا برفباری سے سیاح ہی نہیں بلکہ مقامی لوگ بھی محظوظ ہورہے ہیں۔ طالب علم ثاقب بشیر کا کہنا ہے ہماری نسل تناؤ اور خوف میں جی رہی ہے۔ حال ہی میں جو ہم نے دیکھا وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ برفباری ہوئی تو ہم نے سوچا گلمرگ جاکر دل اور دماغ تازہ کرلیں۔ یہاں آتے ہی ہم کو لگا کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔ تجارتی حلقوں کو بھی اُمید ہے کہ برفباری سے سیاحت کو دوبارہ فروغ ملے گا اور گذشتہ گرما میں کشیدگی کے دوران معیشت کو ہزاروں کروڑ کا جو خسارہ اُٹھانا پڑا ہے وہ کسی حد تک پورا ہوگا۔ سرینگر اور گلمرگ میں کئی ہوٹلوں کے مالک عمران حمزہ کہتے ہیں برفباری تو ہمارے لئے خدا کا تحفہ ہے۔ سیاحوں کی تعداد کم ہے، لیکن ہمیں امید ہے کہ لوگ آئیں گے اور سنسان ہوٹلوں میں پھر ایک بار چہل پہل ہوگی۔

لینا کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر کہتے ہیں کہ کشمیر میں ایسا ہے ویسا ہے لیکن یہاں کے لوگ تو بہت اچھے ہیں حکومت بھی سیاحت کے احیا کی خاطر اقدامات کر رہی ہے۔ شعبہ سیاحت کے ڈائریکٹر محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا محکمہ احمدآباد، ممبئی، کولکتہ اور لکھنو میں روڈ شوز کررہا ہے، تاکہ بھارتی باشندوں کو یہاں کے حالات سے آگاہ کرکے انھیں سیاحت کیلئے مرغوب کیا جاسکے۔ محمود شاہ کہتے ہیں ہم نے بھارت کے ٹی وی چینلز، اخبارات اور دوسرے میڈیا اداروں میں اشتہارات کی مہم شروع کی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ فروری سے پہلے ہی سیاحوں کی آمد پہلے کی طرح بحال ہوجائے گی۔

متعلقہ خبریں