قدس شریف ،عالم اسلام کا اہم حصہ

2020 ,مئی 26



تاریخی اہمیت
بیت المقدس کو دنیا کے تاریخی ومذہبی شہروں میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اس شہر کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال پرانی ہے ۔ تمام ابراہیمی ادیان کے نزدیک اسے تقدس حاصل ہے ۔ تاریخ یعقوبی اور وسائل کی روایات کے مطابق حضرت یعقوبؑ مصر میں فوت ہوئے تو حضرت یوسفؑ اپنے بھائیوں کے ہمراہ ان کا جنازہ لے کر بیت المقدس پہنچے اور انہیں اپنے آباءکے پہلو میں دفن کیا۔ رسول اکرم مبعوث بہ رسالت ہوئے تو آپ نے اپنی دعوت کی بنیاد گزشتہ انبیاءکی تصدیق پر رکھی۔ آپ کی نبوت اور آپؑ کا پیغام گزشتہ انبیاءکی نبوت اور پیغام کا تسلسل تھے۔ لہٰذا وہ مراکز جو گزشتہ انبیاءسے منسوب تھے وہ آپ اور آپ کی امت کے نزدیک بھی تقدس کے حامل رہے۔ ان میں سے بیت المقدس کی مرکزیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خانہ کعبہ بھی حضرت ابراہیمؑ کا تعمیر کردہ مرکز الٰہی تھا۔ آپ کی مدینہ ہجرت کے بعد اس شہر کو بھی ایک امتیاز حاصل ہوگیا۔ تاہم بیت المقدس کو ہمیشہ مسلمانوں کے نزدیک تیسرے اہم مذہبی شہر کی حیثیت حاصل رہی۔ 
مسلمانوں کا قبلہ اول
ظہور اسلام کے آغاز پر مسلمانوں کے لئے قدس شریف ہی کو قبلہ قرار دیا گیا۔ رسول اکرم ہجرت کے سترہ ماہ بعد تک قدس شریف کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 13سال مکة المکرمہ میں بعثت کے بعد اور تقریباً ڈیڑھ سال مدینہ میں مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اسے اپنا قبلہ اول قراردیتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ ہی سے پیغمبر اکرم معراج پرتشریف لے گئے۔سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے اس مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے اردگرد کو ہم نے برکتوں والا بنایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ۔“
 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ ہی کو نہیں بلکہ اس کے اردگرد کو بھی برکتوں والا اور مبارک قراردیا ہے ۔ گویا یہ پوری سرزمین قرآن کے نزدیک مقدس ہے۔ یوں ابراہیمؑ کے ایک بیٹے یعنی اسماعیلؑ کی اولاد سے آنے والے آخری پیغمبر کو جس کا مرکز مسجد حرام قرار پانے والا تھا‘اسے توحید کے پرچم بردار ابراہیمؑ کے دوسرے فرزند اسحاقؑ اور ان کی اولاد کی مبارک تاریخ اورسرزمین سے منسلک کردیا گیا اور یہ ظاہر کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ ہو یا مسجد حرام سب اللہ کی کبریائی کی علامتیں ہیں۔ تاریخ طبری میں ہے کہ رسول اللہ نے اس سفر کے بارے میں خود یوں بیان فرمایا ہے:
”جب میں بیت المقدس پہنچاتو میں نے براق اسی جگہ پر باندھا جہاں پر گزشتہ انبیاءنے اپنی سواریاں باندھی تھیں، پھر میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا۔ جبرئیل بھی میرے پہلو میں تھے، وہاںپر ابراہیم خلیل اللہ ،موسیٰ ؑ ،عیسیٰؑ اور بہت سے اللہ کے دیگر انبیاءعظام میرے لیے اکٹھے تھے اور نماز پڑھنے کے لئے آمادہ تھے۔ مجھے شک نہ تھا کہ جبرئیل ہم سب کی امامت کرائیں گے لیکن جب صفیں مرتب ہوچکیں تو جبرئیل نے میرا بازو تھاما اورمجھے آگے لے گئے اورمیں نے ان سب کی امامت کرائی۔ “
یاد رہے کہ ہمارے ہاں قدس شریف کے حوالے سے جو ایک سنہری گنبد کی تصویر شائع کی جاتی ہے اسے ”قبة الصخرة“ کہتے ہیں ۔ یہاں پر ایک پتھر ہے ۔یہ وہ مقام ہے کہ جہاں سے رسول اللہ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ مسجد اقصیٰ اس سے الگ ہے البتہ ”قبة الصخرة “اور مسجد اقصیٰ اب ایک وسیع دیوار کے اندر موجود ہیں۔
فتح بیت المقدس:
رسول اللہ کی رحلت کے تقریباً پانچ برس بعد 15ہجری (636ء)میں مسلمان افواج نے شام فتح کرنے کے بعد بیت المقدس کا رخ کیا۔ انھوں نے چار ماہ تک اس شہر کا محاصرہ کیے رکھا اور اس کے لئے بہت سی مشکلات کوبرداشت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ بغیر کسی جنگ اورخونریزی کے اس پر قبضہ کرلیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس شہر کے حاکم رومیوں کی کمک سے مایوس ہوگئے تھے اور شہر کے لوگوں نے بھی اپنے حکمرانوں کی نااہلی کو دیکھ لیا تھا۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ ہم یہ شہر مسلمانوں کے خلیفہ کے حوالے کریں گے۔ مسلمانوں نے شرط قبول کرلی اور اس کی اطلاع حضرت عمرؓ کو دی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت علی ؑ اور دیگر بزرگان مدینہ سے مشورہ کیا تو انھوں نے بیت المقدس جانے کا مشورہ دیا۔ بیت المقدس پہنچ کر انہوں نے مذہبی رہنماﺅں سے ملاقات کی اور انھیں ایک امان نامہ لکھ کر دیا اور بیت المقدس پر باقاعدہ مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ امان نامہ کا متن کچھ یوں ہے۔
حضرت عمرؓکا امان نامہ:
”یہ امان نامہ ہے مسلمانوں کے سربراہ عمر کی طرف سے بیت المقدس کے لوگوں کے لئے۔ اس کے مطابق بیت المقدس کے لوگوں کی جان ‘مال‘ کلیسا، صلیب ،مریض، صحت مند اور تمام افراد کو امان دی جاتی ہے اور ان کے کلیساﺅں پر قبضہ کی اجازت نہ ہوگی اور نہ انہیں تباہ کیاجائے گا اور نہ ہی ان میں سے کوئی چیز کم کی جائے گی۔ وہ مذہبی معاملات میں آزاد ہوںگے۔ وہ بھی کسی یہودی کوبیت المقدس میں سکونت نہ دیں گے۔ نیزبیت المقدس کے لوگوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ دیگر مقامات کی طرح سے مسلمانوں کو جزیہ ادا کریں گے اور چوروں اوررومیوں کو یہاں سے باہر نکال دیں گے۔“
بیت المقدس کا نام:
اس امان نامے کا متن اسی طرح سے تاریخ طبری کی تیسری جلد میں موجود ہے ۔ اس سے پہلے اس شہر کا نام ایلیا تھا۔ حضرت عمر کے امان نامہ میں اس لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ بعد میں اس سرزمین کو قرآن حکیم میں جو تقدس حاصل تھا، اس وجہ سے اس کا نام بیت المقدس رکھا گیا۔قبل ازاسلام اس شہر کو برباد کیاجاتا رہا جبکہ مسلمانوں نے اس شہر کو تعمیراورآباد کیا۔ 
فتح میں شریک صحابہؓ رسول
 جو صحابہؓ اس موقع پر فتح بیت المقدس میں موجود تھے۔ ان میں نمایاں نام یہ ہیں ۔ حضرت ابو عبیدہ ابن جراحؓ، معاذ بن جبل انصاریؓ، حضرت بلالؓ ، حضرت ابوذر غفاریؓ ، حضرت ابو دردہؓ، حضرت عبادہ بن صامت انصاریؓ ، حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت ابو مسعود انصاریؓ، حضرت عبداللہؓ بن سلام ،حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت شداد بن اویسؓ وغیرہ ۔
مسجد اقصیٰ 
 مسجد اقصیٰ اس وقت رو بہ قبلہ ہے اور قدیمی بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ قبل از اسلام یہ مسجد اس شکل کی نہ تھی۔ اس کی جدید عمارت 74ہجری میں عبدالملک بن مروان نے شروع کی اوراس کے بیٹے ولید نے 86ہجری میں اسے مکمل کروایا۔ مسجد کی لمبائی80میٹر اور چوڑائی55 میٹر ہے۔کل تقریباً 4400مربع میٹر پر محیط ہے۔ 
 ڈاکٹر گسٹاولبون نے اپنی کتاب Islam and Arab Civilizationمیں لکھا ہے :
”مسجد اقصیٰ ان اہم ترین اور حیرت انگیز ترین عمارتوں میں سے ہے جو انسان نے بنائی ہیں اور اس کی خوبصورتی ناقابل تصور ہے۔“
قبة الصخرة
 قدس شریف میں اسلامی آثار میں سے قبة الصخرة ہے۔ جہاں سے رسول پاک معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے۔ اس کی لمبائی 17.70میٹر چوڑائی 13.50میٹر اور اونچائی 1.50میٹر ہے۔ یہ عمارت بھی عبدالملک بن مروان نے پہلے 71ھ میں اور پھر 78ھ میں دوبارہ تعمیر کی۔ قبة الصخرة ،مسجد اقصیٰ سے 500 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک یورپی دانشور کہتا ہے :
”میں نے ہندوستان اور یورپ میں بہت سی عمارات اور آثار قدیمہ دیکھے ہیں جہاں تک مجھے یاد ہے قبة الصخرة سے زیادہ خوبصورت عمارت کوئی نہیںدیکھی۔ اس عمارت میں حجم اور رنگوں کا تناسب بے نظیر ہے ۔“ 
بیت المقدس میں دیگر اہم عمارات
بیت المقدس میں 36مساجد ہیں اور رسول اللہ کے صحابہؓ میں سے حضرت عبادہ بن ثابت انصاریؓ وہیں مدفون ہیں۔ جو بیت المقدس میں پہلے مسلمان قاضی تھے۔ بیت المقدس کی دیگر اہم عمارات کے نام یہ ہیں قبة السلسلہ ، فاطمی ہسپتال،صلاحی ہسپتال، قبةالمعراج، مدرسہ نحویہ، قلعہ بیت المقدس ،سقاخانہ شعلان، دارالحدیث، محراب داﺅد، مدرسہ اسلامیہ، دارالقرآن اسلامیہ اور حمام شفاوغیرہ ۔

 

متعلقہ خبریں