رفیق ڈوگر صاحب ۔۔۔آہ

2022 ,فروری 23



تحریر:فضل حسین اعوان : رفیق ڈوگر دارِ فانی سے دارِ بقا سدھار گئے۔ ایک عرصے سے وہ صاحبِ فراش تھے۔ان کی عمر اسی سال بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے لاتعلقی اختیار کی تو میڈیا نے بھی ان کی خبر نہ لی۔ اجمل نیازی بھی اسی طرح دنیا سے چلے گئے۔ ہم لوگ بعد از مرگ واویلا کے لیے جمع ہو جاتے ہیں جبکہ زندگی میں ایسی شخصیات سے بے اعتنائی روا رکھتے ہیں۔ رفیق ڈوگر کا تعلق ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے تھا۔ ان کا گاو¿ں فیصل آباد ضلع کی شیخوپورہ (اب ننکانہ صاحب) ضلع کی سرحد پر واقع ہے۔ میں ننکانہ صاحب کے قصبے بچیکی میں پرائمری کے بعد میٹرک تک زیر تعلیم رہا ہوں۔ڈوگر صاحب بھی کسی دور میں اسی قصبے میں پڑھتے رہے ہیں۔ملاقاتوں میں وہ اپنے سکولنگ کے واقعات بتایا کرتے تھے۔ نوائے وقت میں دید شنید کے نام سے عرصہ تک وقفوں سے کالم لکھتے رہے تو ان سے میل ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلاتھا۔کچھ عرعصہ قبل وہ جنگ کے ہفت روزہ اخبار جہاں میں بھی لکھتے تھے۔ ان کو پیغام دیا گیا کہ آپ صرف ہمارے لیے ہی لکھا کریں تو ان کی طرف سے بڑی سادگی سے کہا گیا تھا، نوائے وقت میں ایک کالم کے مجھے500روپے ملتے ہیں اور ہفتے میں ایک کالم چھپتا ہے۔ اخبارِ جہاں والے مجھے.... دیتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نوائے وقت میں کالم بھجنا بند کر دیئے۔انہوں نے نوائے وقت کیلئے بھارت کی سابق وزیراعظم اندراگاندھی کا انٹرویو بھی کیاتھا۔ مرحوم کو اے پی این ایس کا بیسٹ رپورٹر ایوارڈ دیا گیا۔ رفیق ڈوگر نے اپنی یادداشتوں اور غیرملکی دوروں کے حوالے سے سفرنامہ بھی لکھا۔ وہ پنجابی کے لکھاری بھی تھے۔ انہوں نے 1985 میں لاہور سے پندرہ روزہ ”دید شنید“ کا اجرا کیا۔ ڈوگر صاحب کے انتقال پر شعیب بن عزیزکے رد عمل میں ان کی شخصیت کے کئی پہلو و¿ں کے گوشہ اخفاءکو سامنے لایا گیا ہے۔”ایک زمانے میں کالم نگاری کے شعبے کے چند اہم ناموں میں انکا شمار ہوتا تھا۔ پھر یہ نام دھندلا تا چلا گیا۔ کچھ تو “زمانے کے انداز بدلے گئے” اور کچھ ان کا مزاج بھی ہمیشہ سے جداگانہ تھا۔لاہور میں جہاں انہوں نے زندگی کا طویل عرصہ گزارہ، کم لوگ ہو ں گے جو انکے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کر سکیں۔ انہوں نے ہمیشہ قلم کو اپنے ضمیر کی امانت سمجھا۔ آج ہمارے ارد گرد کتنے صحافی ایسے ہیں جن کی دیانت اور اصول پرستی کو مثال کے طور پہ پیش کیا جا سکے۔ ہمارے رفیق ڈوگر یقینا” ایسے ہی صحافی تھے۔۔“ رفیق ڈوگر کی دو درجن تصانیف میں 1۔ نور القرآن۔ قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر 2۔ الامین 3۔ سیرت الامین 4۔ دستور مدینہ 5۔ قائداعظم سوچ تے سیاست 6۔ کالے فرشتے 7۔ مغلانی بیگم 8۔ تعاون9۔ علامہ اقبال کے شخصی خاکے 10۔ دید شنید۔ کالموں کا مجموعہ 11۔ چالیس چہرے 12۔ چہرے مہرے 13۔ پاکستان فوج اور سیاست 14۔ سول اور فوجی سازشیں 15۔ مولانا مودودی سے ملاقاتیں 16۔ سیاسی ملاقاتیں 17۔ ادبی ملاقاتیں 18۔ اصل ضیاءالحق اور سفرنامے 19۔ اے آب رود گنگا20۔ اندلس کی تلاش 21۔ اور نیل بہتا رہا 22۔ جاپان نورد 23۔ آپریشن صومالیہ 24۔ آپریشن سیاچن شامل ہیں ۔ سیرت الامین چار جلدوں میں ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مَنّت کے طور پر تحریر کی تھی۔میں نے فروری 2012ءکو اپنے کالم ”کی محمد سے وفا تونے“میں ڈوگر صاحب سے فون پر رابطہ کرنے کے بعد لکھا تھا۔” 92ء میں ان (ڈوگر صاحب)کو گھٹنے کا کینسر ہوا، ماہر ڈاکٹروں نے ٹانگ کاٹنے کو ناگزیر قرار دیا۔ ڈوگر صاحب نے کہا اگر بیماری خدا کی طرف سے ہی ہے تو شفا بھی منجانب اللہ ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی حضور کی سیرت پر تصنیف کا ارادہ باندھ کر اس کا آغاز کر دیا۔ پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے صحت یاب ہوئے اور چار جلدوں میں سیرت النبی کتاب تصنیف کی۔ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بے ساختہ علامہ کا یہ شعر زبا ں پر آ جاتا ہے: کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں آخر میں ان کے بیس اکتوبر2010ءکے کالم بعنوان ”خاصاں دی گل عاماں اگے“ کااقتباس ملاحظہ کیجئے ۔”کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آقا اپنے اقتدار و اختیارات میں سے کچھ اپنے کسی غلام کو دیکر اسے اپنے برابر لے آئے؟ اپنا جمع کیا ہوا مال و زر اپنے غلاموں میں بانٹ دے؟ ایسا تو نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو گا، ہو سکتا ہے؟ سوچیں اور ایک واقعہ سنیں، شیخ سعدیؒ نے گلستان میں بیان کیا ہے کہ شہنشاہ نوشیرواں شکار کھیلنے گیا ایک جگہ ٹھہرے تو حکم دیا کہ کباب بنائے جائیں۔ بتایا گیا کہ باقی سب کچھ تو ہے نمک نہیں ہے تو نوشیروان نے ایک غلام سے کہا کہ جاﺅ کسی قریبی گاﺅں سے نمک لے آﺅ اور ہدایت کی کہ دکاندار کو نمک کی قیمت ضرور ادا کرنا تاکہ تیرے میرے نام پر مفت نمک لے آنے سے شہنشاہ کے نام پر لوگوں کا حق مارنے کی رسم ہی نہ پڑ جائے اور دیہات ویران ہو جائیں۔ غلام تو غلام ہی ہوتا ہے اس نے عرض کیا حضور تھوڑا سا نمک کسی سے مفت لے آنے میں کیا خرابی ہے کہ اس سے دیہات ویران ہوں جائیں گے؟ نوشیرواں کا جواب تھا ”ظلم یعنی بے انصافی اور حقوق مارنے کا دنیا میں آغاز معمولی سی بے انصافی سے ہوا تھا پھر جو کوئی آیا دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے ظلم کی اس روایت پر چلتا رہا اس میں اضافہ کرتا گیا۔ اسی وجہ سے بے انصافی اور ظلم دنیا میں اتنے بڑھ چکے ہیں اور کہا: اگر آقا کسی کے باغ سے ایک سیب توڑ کر کھا جائے تو اس کے غلام سارا باغ ہی ویران کر دیں گے اور اگر بادشاہ ہے کہے کہ جاﺅکسی سے پانچ انڈے چھین لاﺅ تو اس کے غلاموں کی فوج ہزاروں مرغیاں چھین کر بھون کھائے گی اور بتایا کہ نماند ستمگار برروزگار…… لوگوں کا مال لوٹ لینے والا اور ان کے حقوق چھین لینے والا ظالم و جابر حکمران تو ہمیشہ نہیں رہتا وہ تو چلا جاتا ہے لیکن اس پر لوگوں کی لعنت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ رفیق ڈوگر کی مغفرت فرمائے۔

متعلقہ خبریں