برطانیہ میں ایسے روبوٹس کی تیاری کے خلاف مہم شروع جس کے بارے میں جان کر آپ بھی اس مہم کا حصہ بننا چاہیے گے

2017 ,فروری 16



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):برطانیہ میں ایسے روبوٹس کی تیاری کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے جو اپنے مالک کو جنسی تسکین فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیے جا سکتے ہیں۔اس مہم کے روحِ رواں اور لیسٹر میں ڈی مونٹ فرنٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کیتھلین رچرڈسن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا یہ استعمال غیر ضروری اور ناپسندیدہ ہے۔بازار میں پہلے سے سیکس ڈولز فروخت کے لیے موجود ہیں اور اب ان کے تیار کنندگان ان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔اس میدان سے تعلق رکھنے والے افراد کے خیال میں ایسے سیکس روبوٹس وقت کی ضرورت ہیں۔تاہم ڈاکٹر رچرڈسن چاہتی ہیں کہ وہ اس معاملے میں معاشرے کو آگاہ کریں اور ایسے روبوٹس بنانے والوں کو ٹیکنالوجی کے اس استعمال پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے قائل کریں۔ہم بیوی یا گرل فرینڈ کا متبادل پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ یہ ان افراد کے مسائل کا حل ہے جن کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے یا پھر وہ اپنا جیون ساتھی کھو چکے ہیں۔ڈگلس ہائنزبی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سیکس روبوٹ، روبوٹ تیار کرنے والی صنعت کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں اور یہ سوچا جا رہا ہے کہ وہ کیسے دکھائی دے سکتے ہیں اور کیا کیا کام کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت میں بہت پریشان کن بات ہے۔‘ڈاکٹر رچرڈسن سمجھتی ہیں کہ اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ خواتین سے مرد کا تعلق صرف جسم کی حد تک ہے اور کچھ نہیں۔ ’ٹرو کمپینیئن‘ یا سچا ساتھی نامی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کا پہلا سیکس روبوٹ تیار کر رہی ہے اور رواں برس روکسی نامی اس سیکس ڈول کو متعارف کروائے گی۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ڈگلس ہائنز کے مطابق روکسی جیسے روبوٹک سیکس ٹوائز وقت کی ضرورت ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’ہم بیوی یا گرل فرینڈ کا متبادل پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ یہ ان افراد کے مسائل کا حل ہے جن کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے یا پھر وہ اپنا جیون ساتھی کھو چکے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’لوگ انسانوں کے علاوہ بھی کسی سے خوشی اور اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔‘ڈگلس ہائنز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ’روکسی‘ ایک ایسا روبوٹ بنےگی جو اپنے مالک سے بات کرنے اور اس کی پسند اور ناپسند جاننے کے قابل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ’جسمانی طور پر جنسی عمل سیکس روبوٹ کے ساتھ گزارے جانے والے وقت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اکثریت وقت تو میل ملاپ اور بات چیت میں کٹے گا۔‘کچھ ماہرین ’روکسی‘ کے بارے میں کیے جانے والے ان دعووں کے بارے میں مشکوک ہیں اور اس کی وجہ ذہین مشینوں کی تیاری کی پیچیدگیاں ہیں۔ تاہم ڈگلس کا کہنا ہے کہ سات ہزار ڈالر مالیت کے اس سیکس کھلونے کے لیے اس کے بازار میں آنے سے پہلے ہی ہزاروں افراد نے بکنگ کروا لی ہے۔انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل اور الیکٹرانکس انجینیئرز کے سینیئر رکن ڈاکٹر کیون کران کے خیال میں اس قسم کی مصنوعات جلد ہی مقبولِ عام ہونے والی ہیں۔سیکس روبوٹ، روبوٹ تیار کرنے والی صنعت کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں اور یہ سوچا جا رہا ہے کہ وہ کیسے دکھائی دیے سکتے ہیں اور کیا کیا کام کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت میں بہت پریشان کن بات ہے۔ڈاکٹر کیتھلین رچرڈسنبی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے روبوٹس کی طلب کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ ’اگر مکینکس کا معاملہ حل کر لیا جائے تو انسانوں جیسے روبوٹ بنانا خاصا آسان ہے۔ ان روبوٹس کو پرکشش ساتھی میں بدلنے کے لیے صرف ’’جلد‘‘ درکار ہے جو مشکل نہیں۔‘ڈاکٹر کیون کے مطابق ’آج تک زیادہ تر روبوٹ کاروباری مقاصد کے لیے نہیں بلکہ تحقیق کرنے والے اداروں میں بنائے گئے ہیں لیکن اب بات آگے بڑھ رہی ہے۔‘تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس معاملے پر عوامی ردعمل ضرور آئے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ’مہلک روبوٹس کے خلاف آواز بلند کرنے والی تنظیمیں تو مہم چلا ہی رہی ہیں، لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کہ انسان ایسے روبوٹ ساتھیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔‘’روبوٹس کے ساتھ پیار اور سیکس‘ نامی کتاب کے مصنف ڈیوڈ لیوی کے خیال میں روکسی جیسے سیکس کھلونوں کا بازار بہت بڑا ہے۔ ان کی پیشنگوئی ہے کہ 2050 تک روبوٹس اور انسانوں کے درمیان جنسی تعلق عام بات ہوگی۔’جیسے جیسے روبوٹس میں نفاست آتی جائے گی اور وہ انسانی رویوں کا اظہار کر سکیں گے، انسانوں کے ساتھ ان کے تعلقات پیچیدہ تر ہو جائیں گے۔‘تاہم ڈاکٹر کیورن کو خدشہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے زمانے کے لیے تیار نہیں جہاں روبوٹس کو ساتھی کے طور پر عام طور پر قبول کیا جا سکے۔ان کے مطابق ایسے روبوٹس کی تیاری مردوں اور خواتین اور بچوں اور بڑوں کے علاوہ مرد کے مرد اور عورت کے عورت سے باہمی تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گی۔جس کے ذمہ دار افراد خود  ہوں گے۔

متعلقہ خبریں