سرمایہ داری: کاغذ کے نوٹ کو اپنا آقا بنا کرانسان کو اس کی غلامی میں دے دیا گیا

2022 ,جنوری 17



تحریر: ابراہیم مغل سرمایہ داری نے کاغذ کے نوٹ کو اپنا آقا بنا کرانسان کو اس کی غلامی میں دے دیا ۔یہ سرمایہ دارانہ نظام کی اخلاقی پستی ہے کہ منافع خوری زیادہ سے زیادہ کی جائے اگر ایسے مواقے مل جایئں جیسا کہ مری کی حالت زار تھی تو بھر پور منافع کمایا جائے ۔ہوٹل ملکان انتظامیہ کو اس کا بھتہ بھی دیتے ہوں گے کیوں کہ ان کی ملی بھگت کے سوا ایسا کرنا ممکن نہیں ۔ یہ ایک سانحہ تھا جو گزر گیا ۔اس واقعہ کے اپنے معروضی تناضرات ہیں جو سوشل میڈیا پر ڈسکس ہو رہے ہیں ۔لیکن اس طرح ایک کے بعد ایک سانحہ رونما ہوتا چلا جائے گا جب اس بیمار نظام کے بطن سے بیمار ذہن ،زر پرست انسان ،منافع خور ،چور حرام خور ،منظم ڈاکو و لٹیرے ،فطرتی زر پرست آدم خور پیدا ہوتے رہیں گے ۔جڑ کو کاٹنے کے سوا کوئی ممکنہ حل نہیں ،سانحات ہوتے ہیں ان کا تجزیہ ہوتا ہے اسی نظام کے اصولوں کے تحت اور نتیجہ نکلتا ہے صفر ۔ورک از ڈن . . . . . . پروگرس از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایل ۔ اب لاشوں کے نکالنے والوں کو سلامیاں پیش کی جایئں گی ۔جب کہ بر وقت ان لاشوں کے لاش بننے سے قبل ان کو نکالا جا سکتا تھا ۔ہم ایٹمی طاقت ہیں ۔جدید ٹیکنولوجی سے لیس ہیں ۔وسائل کی کہاں کمی ہے ۔عوام ٹیکس دیتی ہے روڈ پر سفر کرنے سے لے گھر کی چار پائی تک لیٹنے تک کا ٹیکس ادا کرتی ہے ۔جواب میں ریاست ان وسائل کا بروقت استمال نہیں کرتی ۔پہلے مار کر پھر لاشوں کو نکالنے پر وسائل کا استمال کیا معنی رکھتا ہے ۔ یہ تقدیر ہے نہ نصیب نہ قدرت کا عذاب نہ امتحان اور نہ ہی آزمائش ہے بلکہ اس سفاک نظام کا نتیجہ ہے ۔نیچر ایک دم سے نہیں بدلتی ۔یہ آواز یں دے دے کر آتی ہے ۔یہ سرمایہ دارکے کان اس آواز کو سن لیتے ہیں اور اپنے سرمایہ میں اضافہ کرتے جاتے ہیں ۔ جب تک یہ زر پرست بت پاش پاش نہیں ہوتا تب تک ایسے سانحات ہوتے رہیں گے ۔ یہ اس نظام کی فطرت ہے اس کے اوصاف ہیں یہ صفتیں اس بت کے ساتھ اس وقت تک قائم رہیں گی جب تک عوامی کلہاڑی(شعوری ) سے اس کوتکڑے ٹکڑے نہیں کر دیا جاتا ۔ یہ نیچر کا نہیں اس نظام کی قاتلانہ فطرت کاقصور ہے مجرم نیچر نہیں اس نظام کے علمبردار اور اس کے تھنوں کو چوسنے والے حیوان مجرم ہیں ۔

متعلقہ خبریں