معاشرہ "

2022 ,فروری 24



مہر ماہ " مل جل کر رہنا ، باہم زندگی گذارنا ، مطلب افراد کا ایک ایسا گروہ جو مشترکہ مفاد کے لیئے وجود میں آتا ہے ۔ معاشرہ افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا - معاشرہ اجتماعی زندگی کی اساس ہے - کسی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے فکروعمل میں ذہنی ہم آہنگی پائی جائے - جب معاشرے میں موجود افراد کے مابین نظریات ٹکرا جائیں ،اگر معاشرے میں تفرقات پیدا ہوجائیں تو اس معاشرے کی جڑیں کمزور ہو کر مفلوج ہوجاتی ہیں تب اس معاشرے میں سڑاند پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور ایسا بےہنگم گروہ کبھی بھی معاشرہ نہیں کہلائے گا - یہ تو طے ہے کہ انسان معاشرتی حیوان ہے آپسی رقابتوں ، رویوں ، نظریوں ،کمزوریوں ، حسد ، جھوٹ بہتان ، غینبت ، شراب نوشی ،رشوت چور بازاری اور بےشُمار گندگی میں دھنستا آج کا انسان ثابت بھی کررہا ہے کہ وہ حیوان سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ جبکہ ایک اسلامی معاشرے میں اسلامی زندگی ، اسلامی اقدار کا تصور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے - جس میں خدا ترسی ، ہمدردی ، عدل ، دیانت، اخوت ، مساوات ، رواداری، کو بنیادی اہمیت حاصل ہے - لیکن تعفن زدہ گڑھوں کی پستی میں گرتا انسان معاشرے کو ایک نئی سمت ایک نئی جہت سے روشناس کروا رہا ہے جہاں معاشرہ " کوٹھے " کی شکل اختیار کرتا ہوا دلالی کو بامِ عروج پر پہنچا رہا ہے - ایک چکلے سے مشابہ یہ معاشرہ جہاں عزتیں اور غیرتیں نیلام ہو رہی ہیں - اچھائی اور برائی میں امتیاز نا ہونے برابر رہ گیا ہے - میڈیا کی بدولت معاشرے میں رہن سہن کے اصول بدل گئے یں - اب کسی بھی نازیبا بات پر بھائی / بہن سے اور باپ/ بیٹی سے نظریں نہیں چراتا بلکہ پوری ڈھٹائی سے ہنسی مذاق میں بڑی سے بڑی بےحیائی کو مشاقی سے پی لیا جاتا ہے ، کیونکہ ہم " جدید معاشرے " کے پروردہ ہیں- جس معاشرے میں شیطانیت عروج کو پہنچ جائے پھر وہاں سے قوموں کا زوال شروع ہوجاتا ہے اور الحمدللہ ہم بڑی خوش اسلوبی سے ترقی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں اور بڑے ہی شاداں و فرحاں ہیں

متعلقہ خبریں