تحریر۔صاحبزادہ پیر مختاراحمد جمال تونسوی... روحانی اجتماع

2016 ,اکتوبر 18




انسان بھول جاتا ہے کہ وہ جس دنیاکی چاہ میں لگا ہواہے وہ تو صرف چار دن کی ہے اور اس کی اہمیت ایک مردہ بکری سے زیادہ ہرگز نہیں ہے، وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ موت کا فرشتہ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ زندگی کے دروازے پہ دستک دے سکتا ہے،پھر وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے جو آج یہاںبوئیں گے وہی کل (آخرت)کو کاٹیں گے۔وہ اِس بات کو بھی اپنے دِل سے نکال بیٹھتا ہے کہ میرا اِس دنیا میں آنے کا ایک مقصد تھا جسے وہ دنیا کی اندھی محبت میں پسِ پشت ڈال دیتا ہے،وہ یہ بات بھی اپنے دل ودماغ سے نکال دیتا ہے کہ ”روح“کا” زندہ “ہونا ہی زندگی کی علامت ہے کیونکہ اگر روح مردہ ہوچکی تو پھر انسان چلتی پھرتی ایک زندہ لاش کے سوا کچھ بھی نہیں۔
دوسری طرف خداوندِ قدوس کی وہ ذاتِ پاک کہ جس نے ہم سب کو ایک خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجاہے،بڑی رحیم اور کریم ہے اور وہ ہر وقت یہی چاہتی ہے کہ ”صراطِ مستقیم“کی پٹری سے اترنے والے میرے یہ گنہگار بندے توبہ کرتے ہوئے میری طرف لوٹیںاور میرے ایسے پسندیدہ بندے بن جائیںکہ جیسے میں چاہتا ہوں۔اسی لیے پروردگارِ عالم نے توبہ،بخشش اور مغفرت کے دروازے اپنی شان کے مطابق ہر وقت کھلے رکھے ہوئے ہیں۔اور یا حی یا قیوم کی ذاتِ پاک.... اپنے بندوں کی بخشش اور مغفرت کیلئے محفلِ ذکر اللہ،محفلِ نعت،محفلِ درودِ پاک،تقاریبِ عرس اور اسی طرح کی دیگر روحانی محافل کی صورت میںہر ہر لمحہ مختلف بہانے اور مواقع عطا فرماتارہتا ہے۔اگر کوئی بندہءخدا سرکارِ مدینہﷺکی بارہِ مقدس میں ایک دفعہ درودوسلام کا نذرانہ بھیجتا ہے تو اُس کے دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں،دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور دس درجات بلند کردیئے جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص ایک دفعہ بسم اللہ شریف پڑھ لیتا ہے تو اس کے نامہءاعمال میں 76ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں،اگر کوئی بندہ اللہ کی پاکی کا ذکر کرتے ہوئے ایک دفعہ سبحان اللہ کہہ لیتا ہے تو جنت میں اُس کے حصہ کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے، اگر کوئی شخص ذکر وفکر کی محفل میں شرکت کرتا ہے تو اللہ کی رحمت اُسے اپنی پناہ میں لے لیتی ہے اور اُس کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے،اگر کوئی شخص کلمہ شریف اور یا حی یا قیوم کا ذکر کرتا ہے تو اللہ اپنی شان کے مطابق اُس کی روح اور زنگ آلودقلب کو زندہ فر ما دیتا ہے، اگر کوئی شخص اپنے اللہ کریم کے ہاں خلوص دِل سے آئندہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ اور توبہ کرلیتا ہے تو تب اللہ رحیم اُسے معاف فرماتے ہوئے اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیتا ہے کیونکہ اللہ اُسے ہی ہدایت عطا فرماتا کہ جو اپنے دل میں ہدایت پانے کی طلب بھی رکھتا ہو،یہاں ہم اللہ کریم کے بخشش اور مغفرت کے کس کس بہانے کا ذکرِ خیر کریںکہ ہم اپنی صبح سے شام اور شام سے صبح تک اُس کی عطاﺅں اور نوازشوں کا ذکر کریں تو تب بھی ہم اُس کی نعمتوں اور محبتوں کا شمار نہ کرسکیں گے”اللہ محبت است “اللہ تو محبت ہی محبت ہے ،ایک ماں اپنی اولاد سے کس قدر محبت کرتی ہے ہم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے ،اللہ تو پھر ماں سے ستّر گناہ زیادہ پیار اور محبت اپنے بندے سے کرتا ہے تو پھر بھلا ہم اُس کی بے پایاں محبت کا اندازہ کس طرح کرسکتے ہیں۔
اللہ کریم ہر دور اور ہر علاقہ میں اپنے برگزیدہ اور انعام یافتہ منتخب بندوں کے ذریعے اپنے بندوں کی اصلاحِ احوال کے حوالہ سے کام کرواتا رہتا ہے۔تاکہ اسکے بندے اپنی زندگی کے اصل مقاصد کو پا سکیںاور یہی وجہ ہے کہ مشرق ہو یا مغرب ، شام ہو یا مصر ، افغانستان ہو یا انگلستان ، ملتان ہو یالاہور ، پاکپتن شریف ہو یا تونسہ شریف،گولڑہ شریف ہو یا دارلااحسان،خانقاہ دارالجمال ہو یادرگاہ سلطان العارفین.... آپ کوہر جگہ حضرت خواجہ حسن بصریؒ،حضرت بایزید بسطامیؒ،حضرت امام ابو حنیفہؒ،حضرت امام مالکؒ،حضرت امام شافعیؒ،حضرت امام احمد بن حنبلؒ،حضرت امام غزالیؒ،حضرت مجدد الف ثانیؒ،حضرت شہاب الدین سہروردیؒ حضرت بہاﺅالدین ذکریا ملتانیؒ،حضرت داتا علی ہجویریؒ،حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ،حضرت بابا فرید الدین گنجِ شکرؒ،حضرت امام بری سرکارؒ،حضرت لعل شہباز قلندرؒ،حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ، امام حمد رِضا خان بریلویؒ،حضرت سلطان باہو سرکارؒ،خواجہ غلام فریدؒکوٹ مٹھن شریف، خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ خواجہ شمس الدین سیالویؒ، پیر کرم شاہ ؒ بھیرہ شریف، پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف ؒ، حضرت صوفی برکت علی لدھیانویؒ،حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرؒ،حضرت لالہ پاکؒ،حضرت مولانا نور اللہ نعیمیؒ،حضرت مولانا غلام علی اوکاڑویؒ،پروفیسرڈاکٹر سرفراز نعیمیؒ،پروفیسرڈاکٹر طاہر القادری ،حضرت سائیں عبدالرزاق رزاقیؒ،حضرت خواجہ محمد اقبالؒ،حضرت سخی سیدن سائیںؒ،حضرت سلطان عبدالحکیم ؒ،حضرت خواجہ صوفی جمال الدینؒ تونسوی مغل پٹھان ،حضرت بابا محمد بخشیش گولڑویؒحضرت حاجی خوشی محمد قادری قلندریؒدیپال پور شریف ،پیر منظور احمد شاہ،حضرت مولانا الیاس عطارقادری ایسی روحانی وعلمی شخصیات کی محنت شاقہ سے بندوںکی اصلاحِ احوال کے حوالہ سے کیا ہوا کام ہمیںخوب سے خوب ترنظر آتا ہے ،اور آج انہی بزرگوں کی خصوصی کاوشوں سے دنیا بھر میں موجودخانقاہوں اور درگاہوں اور دینی وعلمی مراکزسے روحانیت کے بے شمار چشمے پھوٹ رہے ہیں ان سے وابستہ یارانِ طریقت اللہ کریم اور اُس کے پیارے حبیب حضورِ اقدسﷺکی رضا کیلئے”نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری“کے مصداق اپنی اپنی بساط کے مطابق دین کا کام کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی آخرت کی زندگی سنوارنے کی کوشش کررہے ہیں۔
الحمدللہ!اِس حوالہ سے اِس”کارِخیر“میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تمام ترخرافات سے بچتے ہوئے یارانِ طریقت و شریعت کے بھرپور تعاون سے ”خانقاہ دار الجمال “نے بھی ایک عرصہ سے قرآن و حدیث اور اولیائے کرام کی تعلیمات کی روشنی میںدینِ اسلام کی ترویج واشاعت اوربندگانِ خدا کی خدمت اور اصلاحِ احوال کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت خواجہ صوفی جمال الدین تونسویؒ مغل پٹھان المعروف دیوانہءسرکارﷺکے یومِ وصال کے سلسلہ میں اُن کی یاد میں بندگانِ خدا کی اصلاحِ احوال اور کریم آقاﷺکی امت میں اب تک فوت شدگان کے ایصالِ ثواب کیلئے انجمن جمالِ چشتیہ،سلیمانیہ،تونسویہ،دیپال پور(اوکاڑہ)کے زیرِ اہتمام درگاہ حضرت خواجہ صوفی جمال الدین تونسویؒ میں اولیائے کرام کی تعلیمات کی روشنی میں خانقاہ دارالجمال کا تین نشستوں (محفلِ ذکرونعت،محفلِ درودِ مستغاث شریف،اصلاحی بیان)پر مشتمل سالانہ ایک روزہ”روحانی اجتماع“کا انعقاد 26اکتوبربروز بدھ کو انتہائی شایانِ شان طریقے سے کیا جارہا ہے ۔اِس موقع پر خانقاہ دارالجمال کے زیر اہتمام”اخبار اُٹھاﺅ تحریک“کے حوالہ سے بھی انتہائی اہم اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ جس میں جگہ جگہ مقدس کاغذات کے تحفظ کیلئے باکس(ٹین)‘گھروں میں تھیلوں کا لگوانااور دیگر ایسے کام شامل ہیں۔ اور امتِ مسلمہ اور بالخصوص ملکِ پاکستان کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں