تین سو سیاستدانوں،پلسیوں اور بیورو کریٹس کے کالعدم تنظیموں سے رابطے،لسٹ منظر عام پر آگئی

2017 ,مارچ 28



لا ہور (مانیٹرنگ) پنجاب میں تعینات بعض سرکاری افسر اور ملازمین کے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کالعدم تنظیموں کیسا تھ ملو ث پا ئے جا نے کے انکشا ف کے بعد ذرا ئع نے دعو یٰ کیا ہے صوبہ کے 222پو لیس افسرو ں ، 18 سیا ستدا نو ں اور 50سے زائد بیورو کر یٹس کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات پر انکے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا کیا گیا ہے ۔
جبکہ مذکورہ افراد کی مانیٹرنگ پر تعینات اہلکاروں، متعلقہ حساس اداروں کے حکام سے انکی موجودہ سرگرمیوں و روابط سے متعلق مزید تفصیلات بھی مانگ لی گئی ہیں اور یہ کا رروائی انتہا ئی خفیہ رکھی جا رہی ہے ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانون نافذکرنیوالے اداروں نے کالعدم تنظیموں سے روابط رکھنے والے سیاستدانوں اور سرکاری افسروں سے متعلق فہرستیں ایک سا ل قبل تیار کیں اور پھر انہیں اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا جس میں ان فہرستوں میں موجود سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کے نام بھی زیر غور لائے گئے جبکہ حا ل ہی میں ایک اعلی حکومتی عہد دار کو بھجوائی گئی ایک فہرست میں شامل کئی ناموں پر اعتراضات بھی سامنے آ ئے تا ہم اب ایسے افراد کیخلاف کاروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذمہ در سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے پنجاب میں تعینات بعض سرکاری افسر اور ملازمین بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کالعدم تنظیموں کیلئے سر گرم رہے ہیں جبکہ بعض کی سیاسی وا بستگیا ں بھی رہیںِ ایسے ہی افسر کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کیخلاف مقدمات بھی ختم کرواتے رہے جبکہ انہوں نے شدت پسندوں کو کئی اہم معلومات بھی فراہم کیں، کالعدم تنظیموں سے روابط میں ملوث سیاستدانوں کا تعلق اسوقت اسمبلی میں موجود سیاسی و مذہبی جماعتوں سے ہے اور جب صوبہ میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیاتو انہوں نے فوری طور پر اپنے چند سر گرم کارکنوں کو ملک سے باہر بھجوا دیا جو کئی مقدمات اور غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث رہے، نیز آپریشن کی مخالفت کرنیوالے کئی مذہبی جماعتوں نے بھی اس دوران اپنے متعدد کارکنوں کیخلاف مقدمات ختم کروا لئے اب تازہ صورتحال میں مذکورہ سیاستدانوں سمیت مذہبی جماعتوں کے متعدد عہدیداروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ سکیورٹی ادارے کے ایک سینئر افسر نے اس با ت کی تصد یق کی ہے کہ پنجاب کے متعدد سرکاری ملازمین و سیاستدانوں کے ماضی میں کالعدم تنظیموں کے ساتھ گہرے رابطے رہے اور یہ مختلف طریقوں سے شدت پسندوں کو تحفظ بھی فراہم کرتے رہے، اب انکے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اس حوالے سے تیار رپورٹ انتہائی خفیہ رکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں