ٹائم ٹریول

2022 ,اگست 6



تحریر: تہذین طاہر 

ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آج کی دنیا  میں جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ممکن ہے یا نہیں اسی موضوع پر آج کا کالم ہے .... انسان کی خواہشات لامحدود ہیں سائنس میں آج اتنی ترقی کرنے کے بعد انسان وہ سب کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے جو آج سے سو سال پہلے کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن آج بھی سائنس کی بے انتہا ترقی کے باوجود بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس میں انسان بے بس نظر آتا ہے اور بہت سے ایسے سوالات انسان کے سامنے آتے ہیں کہ جن کے جوابات ابھی تک اسے نہیں مل پائے انہی سوالوں میں سے ایک سوال ٹائم ٹریولرز یا وقت میں سفر کرنا ہے جس کا مطلب آپ اپنے مستقبل سے ماضی میں یا ماضی سے مستقبل میں جا سکیں یہ سب جانتے ہیں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ میں واپس نہیں آتا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آخر ہے کیا اس کی اسان مثال لی جائے ہم سب وقت میں آگے کی طرف سفر کر رہے ہیں اور ہر سال ہماری سالگرہ منائی جاتی ہے اور ہماری زندگی میں ایک سال مزید شامل ہو جاتا ہے لیکن ہم سب کی کی رفتار ایک جیسی ہوتی ہے ہم ایک سیکنڈ میں ایک سیکنڈ ہی گزارتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم وقت میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے نکل جائیں یا وقت سے پیچھے رہ جائیں اس پر کافی سائنسدانوں نے اپنی تھیوریز پیش کی  ہیں کچھ کا خیال ہے یہ ممکن ہے اور کچھ کا خیال ہے یہ محض ایک کہانی ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں سب سے مشہور تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو سمجھا جاتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار روشنی کی ہوتی ہے اور کوئی بھی روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتا ایک اور مثال میں اگر اس کو سمجھیں تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر ہم ایک ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں سامنے والا انسان جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے وہ اور جتنے بھی لوگ اس ڈبے میں یا اس کیبن میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں وہ ساکن نظر آئیں گے کیونکہ وہ ہمارے لئے ساکن ہے اس کے برعکس اگر کوئی باہر سے ٹرین کو دیکھتا ہے تو اس کو وہ سب انسان حرکت کرتے ہوئے نظر آئیں گے جو ٹرین میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ہر انسان کا وقت اس کے اپنے حساب سے گزرتا ہے ہے ایک تو یہ تھیوری ہے آئن سٹائن کی اور اس کا ایک اور پہلو کچھ اس طرح ہے  فرض کریں کوئی بھی شخص ایک سپیس شپ میں روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے ہے تو کچھ سالوں بعد تھیوری آف ریلیٹیویٹی یا آئنسٹائن کے مطابق وہ اپنے ہم  عمر جڑواں بھائی جو زمین پر ہے اس سے چھوٹا رہ جائے گا کیوں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کی وجہ سے اس کا وقت آہستہ گزر رہا ہے اس کو ٹائم ڈائیلیشن کہتے ہیں یا آپ کو ایک بات اور بتاتے چلیں کہ مشہور سائنسدان آئنسٹائن کے مطابق وقت چو تھی ڈائمنشن ہیں جبکہ باقی تین ڈائمینشن میں لمبائی چوڑائی اور اونچائی شامل ہیں یہ تینوں ٹائم نشنز ہمیں لوکیشن بتاتی ہے اور چوتھی ڈائمنشن ہمیں ڈائریکشن بتاتی ہے اور یہ صرف آگے کی طرف جاتی ہے یعنی وقت ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتا ہے کبھی واپس پیچھے کی طرف نہیں آتا وقت میں سفر کرنے کا ایک طریقہ وارم ہول یعنی ہم ایک ایک ہول سے داخل ہوں اور اس کا دوسرا سرا آج سے سو سال سال پیچھے یا سو سال آگے ہوگا لیکن یہ سب چیزیں میں اور اور فلموں میں دکھائی جاتی ہے کیونکہ حقیقت میں اس طرح کے ہول نہ آج تک دریافت ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ ہے تو ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں وہ محض کہانیاں اور افسانے ہیں ہیں کسی بھی سائنسدان نے آج تک کیا کسی بھی انسان نے آج تک وقت پر سفر نہیں کیا یعنی ٹائم ٹریول نہیں کیا اور یہاں پر ٹائم ٹریول کے بارے میں کافی سارے لوگوں نے کافی اعتراضات بھی کئے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی انسان ٹائم ٹریول کرکے اپنے ماضی میں جاتا ہے تو کیا وہ اپنی ماضی میں کی ہوئی غلطیوں کو سدھار سکتا ہے  یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماضی میں جائیں اور اپنے دادا یا پر دادا کو قتل کردے اب دادا یا پر دادا ہی نہیں رہے تو اس شخص کا پیدا ہونا کیسے ممکن ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے اپنے بہت ساری جھوٹی کہانیاں انٹرنیٹ پر ڈالی ہوئی ہیں جس میں  ایک کہانی ہے کہ ایک انسان نے سن دو ہزار سے سن دوہزار 36 میں گیا اور  واپس آیا کچھ دنوں تک وہ لوگوں کے میسجز اور پیغامات کا جواب دیتا رہا اور بعد میں وہ غائب ہو گیا غرض ٹائم ٹریول کے بارے میں آج تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں ان میں آج تک کوئی بھی اتھنٹک نہیں ہے لوگ ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں سب سے زیادہ اتھنٹک تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو ہی سمجھتے ہیں

متعلقہ خبریں